کیا یہ جمہوریت کا حسن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی شہید بے نظیر بھٹو کی تیرہویں برسی کے موقع پر مریم بی بی اور بلاول بھٹو کو ایک ساتھ دیکھ کر اس بات کی صداقت پر یقین کامل کرنے کو دل چاہا کہ واقعی یہ جمہوریت کا ہی حسن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس موقع پر پوری دنیا نے دیکھا کہ جمہوریت اور ”حسن“ ایک ساتھ دکھائی دیے۔ حالانکہ بی بی شہید نے ہمیشہ ہی کہا تھا کہ

”جمہوریت بہترین انتقام ہے“

اس فقرہ کو بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ ابھی کل ہی کے بیانات کو اگر سمجھ لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا کہ کیسے جمہوریت حسین ہے۔ آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ کچھ اور نہیں تو ہم سے ہی سیکھ لیں کہ سیاست کیسے کرتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ایک جنرل کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بی بی مریم کہہ رہی ہیں کہ عمران خان کی تعلیم محض جوتے پالش کرنا ہے۔

اور ساتھ ہی ساتھ ان کے بیانات سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی جوتے پالش نہیں کر سکتا۔ واقعی جمہوریت کا یہی حسن ہوتا ہے کہ عوام کو جب چاہیں بے وقوف بنا لیں اور جب چاہیں ان کے جذبات سے کھیل کر اپنے ہی سیاسی فائدے حاصل کر کے ٹشو پیپر کی طرح انہیں دور پھینک دیا جائے۔ اگر ان دونوں رہنماؤں کے بیانات کو مدنظر رکھ کر غیرجانبداری سے سوچا جائے تو لگتا ہے کہ حالات اس نہج کی طرف جا رہے ہیں کہ عنقریب پی پی کے رہنما بی بی شہید کے اس بیان کو سچ ثابت کر کے دکھا دیں گے کہ جمہورت بہترین انتقام ہے۔

لیکن زرداری صاحب شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ ان کے حلیف بھی کسی طور ان سے کم نہیں وہ بھی ”شیر“ ہیں۔ اور ایسے شیر جو بھاگنے میں اور مفاہمت میں بھی یکتا ہیں۔ یقین کے لئے اعتزاز احسن کا ایک بیان ہی کافی ہے کہ جب وہ میاں صاحب کے کیس کی تیاری کر رہے تھے تو ان کے کسی دوست نے آ کر بتایا کہ آپ تو میاں کے کیس کے لئے دن رات ایک کیے بیٹھے ہیں ذرا پتہ تو کر لو کہ وہ ملک میں ہیں بھی کہ نہیں؟ اور ایسا ہی ہوا، اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ جب میں نے پتہ کیا تو پتہ چلا کی میاں صاحب تو سعودی عرب کے لئے روانہ بھی ہو چکے ہیں۔

اور مفاہمت کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہی شاید اب کی بار بھی ملک کی گیارہ جماعتوں نے مل کر ایک اتحاد قائم کیا جس کا نام پی ڈی ایم رکھا۔ اب اگر اس اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کی مقبولیت اور عوامی رائے کو مدنظر رکھا جائے تو صرف پی پی، ن اور جمعیت علمائے اسلام ف کے علاوہ باقی تمام علاقائی جماعتیں ہی خیال کی جاتی ہیں۔ گویا اگر پی ڈی ایم کا اتحاد کامیاب بھی ہو جاتا ہے اور تمام جماعتیں مل کر عمران خان کی حکومت کو گرانے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

کیا مفاہمت کے بادشاہ مسٹر زرداری نون لیگ سے اتحاد جاری رکھیں گے یا کسی اور طاقت کی طرف سے اشارہ پاتے ہی مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے اپنی حکومت بنا لیں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ نون لیگ جیسا ماضی میں کرتی رہی ہے کہ کچھ لے دے کر میاں صاحب کو جیل سے نکلوا کر میثاق کے مسودہ پر دستخط کر کے اپنی راہ پکڑ لیتے ہیں اور اسے ماضی کی تاریخ کو دہراتے ہوئے اب کی بار ایسا نہیں کریں گے۔ بالکل کریں گے کیونکہ سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میدان میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔

آج کے دوست کل کے دشمن اور ماضی کے دشمن حال کے دوست بھی بن جایا کرتے ہیں۔ اب رہ جاتے ہیں مولانا صاحب، کہ وہ کیسے سیاسی ایڈجسٹمنٹ کریں گے۔ مولانا اپنے طالب علموں کے اجتماع سے لوگوں کو موبلائز کر سکتے ہیں جبکہ نون لیگ اور پی پی کا ورکر ابھی سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔ جس کا ثبوت لاہور کا مینار پاکستان کا جلسہ ہے۔ مولانا تو اب کی بار صدارت سے کم پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں اور علاوہ ازیں چند ایسی وزارتیں جن کا ملکی سیاسی اور معاشی اداروں میں اہم کردار ہو۔جیسا کہ مذہبی امور اور داخلہ کی وزارتیں۔

تاہم یہ سب کہنا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اونٹ ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔ یہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کے لئے ہمیں لانگ مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا لیکن یہ بات واضح ہے کہ ہر کوئی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ

دشمن آخر دشمن اے
رکھو تیر کمان دے وچ

پی پی تو ہمہ وقت اپنے تیر و تفنگ تیار ہی رکھتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا ماضی کے حریف اور حال کا حلیف ابن الوقت تو ہے ہی ، بھاگنے میں بھی ”شیر“ ہے۔ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ گیارہ جماعتی اتحاد بھی اس طاقت اور شدو مد کے ساتھ عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو پارہے۔ کیونکہ اس ساری تحریک میں ہر پارٹی رہنما کی تقریر کا آغاز اپنے اپنے مفادات سے ہوتا ہے اور اپنی اپنی کرپشن بچاؤ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔

اس تحریک میں عوامی جان تب پڑے گی جب تمام جماعتیں مل کر اپنے اپنے بیانات اور تقاریر سے عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہم اپنے اقتدار کی نہیں بلکہ آپ کے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک پی ڈی ایم کے رہنما ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے اس وقت تک عوامی انقلاب کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •