تو پھر خواتین کو ہراساں کون کرتا ہے؟
فیمینزم، جسے اردو میں حقوق نسواں بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے من حیث القوم سب سے زیادہ اشتعال انگیز لفظ بن چکا ہے۔ اگر پاکستانی مرد و خواتین سے پو چھا جائے کہ کیا عورتوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیے، مجھے یقین ہے سب کا جواب ہاں میں ہو گا۔ لیکن اس جواب کے باوجود، آپ میں سے کتنے مرد، اپنی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ یا لمحات یاد کر سکتے ہیں جب آپ نے کسی عورت کو ہراساں کیا، اس کو دیکھ کے ہنسے، اس کے اوپر جملے بازی کی، چھیڑ خانی کی، ان کا پیچھا کیا، ان کو کسی ہجوم میں چھوا، ان کی اجازت کے بغیر ان کا فون نمبر لیا، ان کے منع کرنے کے باوجود ان کو مسلسل فون کیے، اپنے دوستوں کے ساتھ ان کی کردار کشی کی، یا ان کے ساتھ ایسی گفتگو کی جس کے بارے میں آپ کو اپنے دل میں علم تھا کہ وہ گفتگو اور آپ کا طرز عمل غیر مناسب ہے وغیرہ وغیرہ۔ مجھے یقین ہے آپ میں سے بہت سارے ایسے کئی لمحات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
ہم سب موٹروے کے واقعے کے بعد انتہائی دل گرفتہ اور دکھی تھے۔ لیکن اس واقعے کے بعد آپ میں سے کتنے لوگوں نے سوچا کہ ان خاتون کو آدھی رات کو گھر سے باہر اکیلے نہیں جانا چاہیے تھا؟ کتنے لوگوں نے دل میں سوچا کہ یہ واقعہ، جتنا بھی غلط سہی، لیکن فیمینیسٹ خواتین کو ایک سبق تو سکھا گیا؟ خواتین ساتھیوں کے ساتھ علی ظفر کی متعدد بار کی گئی گفتگو جس میں وہ جنسی طور پر چارج شدہ زبان استعمال کرتے ہیں ، لیکن عوامی رائے میشا شفیع کے خلاف ہے۔
کچھ خواتین ماڈلز کے انسٹاگرام پروفائلز پر تبصروں سے بھی ہمیں اپنی قوم کی اجتماعی نفسیات پر گہری بصیرت ملتی ہے۔ عمران خان،تین مختلف خواتین کے ساتھ محبت کی شادیوں کے بعد اب بھی ایک قابل پرستش مجسمہ ہیں، جبکہ مریم نواز شریف کو ان کی واحد محبت کی شادی پر اب بھی مسلسل گالم گلوچ اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریم نواز شریف کو ان کی شادی سے قبل محبت کی وجہ سے روزانہ آن لائن عوامی عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے حالانکہ وہ اب بھی اس ایک شادی کو نبھا رہی ہیں۔
اس معاملے میں ہماری جبلت، دوسرے تمام معاملات کی طرح، عورت کو جوابدہ اور ذمہ دار ٹھہرانا ہے، حتٰی کہ جب مرد ان بد اخلاقیوں کا مرتکب ہو۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاقی معیار پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹویٹر اور فیس بک نے اب ہمیں لوگوں کی رائے اور افکار تک اس انداز سے رسائی فراہم کی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔
مشاہدے کے مطابق مرد، ان کے اپنی رائے میں، صرف اچھی، قابل احترام، اور خاندانی خواتین کا احترام کرتے ہیں۔ باقی تمام خواتین، صرف ایک اختلاف رائے کرنے کی وجہ سے، ایک ہی گفتگو کے اندر آنٹی سے لے کر گشتی اور رنڈی تک کا رتبہ پا سکتی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ دوپٹہ نہ پہننے سے لے کر مختلف سیاسی رائے رکھنے تک کوئی بھی چیز عورت کو کم قابل احترام یا مکمل طور پہ نا قابل احترام بنا سکتی ہے۔
ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے مرد جنسی اور صنفی تشدد کے بارے میں پوسٹوں اور ٹویٹس کے نیچے ہی اشتعال میں آ کر ان مرد و خواتین کو لعن طعن کرتے، گالیاں دیتے، اوراغوا سے لے کر تشدد کی دھمکیاں دیتے پا ئے جاتے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے لوگوں کے لیے اپنے اعمال میں ان تضادات کو دیکھنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ روزانہ بچوں، خواتین اور جانوروں کے ساتھ تشدد کی کئی خبریں پڑھنے کے باوجود، ایسا کیا ہے جو ہمارے معاشرے کو یہ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو بہتری کی ضرورت ہے کیوں کہ کوئی بھی معا شرہ مسلسل بہتر ہو سکتا ہے لیکن کبھی بھی کامل یا بہترین نہیں۔
پچھلی دہائی میں، جب سے پاکستان میں حقوق نسواں یا فیمنزم عوامی اور مرکزی دھارے میں شامل ہوئیں ہیں، خواتین کی زندگی اور ان کی شعور کی سطح میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ اس کے برعکس، مردوں کو اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ خواتین کو ہمیشہ طبقاتی اور صنفی تقسیم کا سامنا تھا، لیکن مردوں کو اب معاشرے میں طبقاتی کے ساتھ ساتھ صنفی مسائل کے بارے سوچنا ہوگا اور صنفی سیاست میں اپنا مقام تلاش کرنا ہوگا۔
جو قارئین یہ سوچ رہے ہیں کہ تمام مرد ہراساں کرنے والے نہیں ہیں، ان کو بتاتی چلوں کے تقریباً تمام خواتین کو کسی نہ کسی طرح ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میں یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں کہ جب زیادہ تر پاکستانی مرد پرہیزگار، اخلاقی، بے گناہ۔ اور خاندانی ہیں تو یہ کون لوگ ہیں جو ان جنسی اور صنفی بداخلاقیوں اور جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔


