کرنل نادر علی: 1971 کی مختصر کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپاہی پیشہ اشخاص کی، چاہے وہ ریٹائر ہو چکے ہوں، وجہ شہرت خاص ان کی شاعری یا افسانہ نگاری بنے یہ بہت کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے سپاہی حضرات لکھتے تو ضرور ہیں تاہم عموماً یہ حضرات اپنی یادداشتیں یا اخبارات میں سیاسی کالم لکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کرنل (ریٹائر) نادر علی کچھ مختلف طرح کے سپاہی ہیں۔ انہیں ہم پنجابی نظموں اور افسانوں کے حوالے سے یا گاہے بگاہے لکھے گئے ان اخباری کالموں کے حوالے سے جانتے ہیں جو عموماً پنجابی افسانے و شاعری کے جائزے پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ ہیں وہ نادر علی جن سے مجھ جیسے لوگ نوے کی دہائی کے آخر میں واقف ہوئے، شفیق و نرم مزاج بزرگ جو کسی طور سابق کمانڈو نہیں لگتے۔ ایک نادر علی اور ہے : 1971ء اور اس سے پہلے اور بعد کا میجر نادر علی۔ کچھ عرصہ قبل تک میں اس میجر نادر علی سے بالکل واقف نہ تھی اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس میجر نادر علی کو جانے بغیر اس کی کہانیاں، نظمیں اور خود فرد کو سمجھنا ممکن نہیں۔

1971ء کا سال کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہی وہ سال ہے جب حقیقت نے اپنی عظمت کے زعم میں مبتلا نادر علی کے تخیل کی دھجیاں اڑا دیں۔ وہ اپریل سے اکتوبر تک ڈھاکہ میں پاکستان آرمی کے میجر کے طور خدمات سر انجام دے رہے تھے، حالات ایسے ہو گئے کہ میجر صاحب کے لیے اپنی بٹالین کمانڈ کرنے کا موقع پیدا ہو گیا۔

ڈھاکہ سے پاکستان واپسی کا سفر ہوش و حواس سے جنون تک کا سفر تھا۔ واپس گھر لوٹ کر اسے ایک اور طرح کی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا؛ جو کچھ وہ ملک کے ایک حصے میں دیکھ سن کر لوٹا تھا اس سانحے پر احساس جرم کی عظیم بازگشت اور ملک کے دوسرے حصے میں اتنی ہی زیادہ لاتعلقی اور معمول کی صورتحال۔ یہ بوجھ نادر علی (فرد) جیسے حساس شخص کی برداشت سے باہر تھا۔ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی یادداشت کھو دی۔

صحت کی بحالی میں وقت لگا لیکن وہ کاملاً صحت یاب ہو گئے ؛ اس کا سبب بنا ادب اور چند ایسے نرم دل اشخاص جنہوں نے انہیں ادبی کام کی جانب راغب کیا۔

اور پھر آخر کار چند سال پہلے انہوں نے اتنا اعتماد محسوس کیا کہ 1971ء میں پیش آئے واقعات کے بارے کھل کر بڑی تفصیل سے 2007ءمیں بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بات کی، اس انٹر ویو کا عنوان تھا ’ایک فوجی کی یادداشت۔ ”سچی، موثر، جامع اور آنکھیں کھول دینے والی یہ یادداشتیں بد قسمتی سے ہمارے ہاں بہت زیادہ مقبول نہ ہو سکیں۔ 2011 میں انہوں نے بی آر اے سی یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے بھی مشرقی پاکستان میں اپنی تعیناتی کے چھے ماہ کے بارے میں گفتگو کی۔

گزشتہ دو برس سے، سقوط ڈھاکہ کی یاد میں منائے جانے والے دن سولہ دسمبر کے آس پاس، میں اس کوشش میں تھی کہ کسی طرح ان سے ملاقات ہو جائے اور میں ان سے 1971ء کے بارے بات چیت کر سکوں (وہ دونوں بار اس خاص دورانیے میں ملک میں موجود نہ تھے ) ۔ اس برس وہ مل تو گئے اور میں نے خود کو خوش قسمت بھی جانا لیکن نادر علی نے اس حوالے سے بات کرنے میں زیادہ دلچسپی نہ دکھائی کیونکہ ان کے اپنے ہی لفظوں میں، ”بنگلہ دیش کافی ہو چکا ہے،“ پھر ”یہ کچھ ذاتی نوعیت کا معاملہ بھی ہے،“ اور ”یہ کوئی بہت خوشگوار یادیں نہیں ہیں۔“ یہ بہت تکلیف دہ معاملہ ہے، انہوں نے بتایا اور میں نے ان کی اس بات کو تسلیم کیا۔

خود میرے لیے کچھ اور چیزیں بھی اہم تھیں جنہیں مجھے ذہن میں رکھنا تھا۔ سب سے پہلے تو یہ مشکل تھی کہ کسی ایک شخص کا بیان تاریخی طور پر وقوع پذیر ہوئے کسی عظیم واقعے کی ہر اعتبار سے مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم ہم یہ امید تو رکھ ہی سکتے ہیں کہ ان کا بیانیہ تاریخ میں در آنے والی کجی کو درست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ ایک سپاہی کے طور پر اپنے نقطہ نظر کو کھل کر بی بی سی سے انٹرویو اور بی آر اے سی میں دیے جانے والے لیکچر میں بیان کر چکے تھے، پاکستانی فوج کی ناکامیوں کو صورتحال کے اپنے تناظر میں وہ بیان کر چکے تھے۔ جب میری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے پہلے سے زیادہ تجزیاتی اور چیزوں کے متعلق کہیں زیادہ وسیع تناظر کو مدنظر رکھا۔ یقینی طور پر وہ 1971 کے متعلق دنیا میں کیے جانے والے علمی کام سے جان کاری رکھتے تھے (خود ان کے اپنے خیالات بھی اس عرصے میں ہوئے کچھ علمی کام کا حصہ بنے تھے ) ۔

انہوں نے شروع میں ہی چند چیزیں بیان کر دیں۔ ”پاکستانی فوج کو بہت وسیع کردار ادا کرنا تھا کیونکہ یہی مشرقی پاکستان میں فعال اہم ترین ریاستی عضو تھا۔ نام نہاد سیاسی لوگ جن کی تعیناتی ایوب خان نے کی مثلاً فضل القادر چوہدری، عبدالصبور خان اور عبدالمنعم خان وغیرہ جو گورنر مشرقی پاکستان مقرر ہوئے ان کی اہمیت ثانوی نوعیت کی تھی۔ حتیٰ کہ بڑی سیاسی شخصیات مثلاً اے کے فضل الحق، جو مسلم لیگ کے سینئیر ترین رکن تھے، وہ بھی اس وقت مشرقی پاکستان کی سیاست میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ 1958ء سے لے کر 1971ء تک ملک میں مارشل لاء نافذ تھا۔ اور ہم لوگ نمایاں طور پر، اور ایک خاص وقت تک تو مکمل طور پر، مغربی پاکستانی فوج ہی تھے۔

” سقوط ڈھاکہ سے بچا جا سکتا تھا اگر فوجی ایکشن اپریل 1971ء میں روک دیا جاتا اور اگر دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل نہ کیا جاتا۔

” فوجی شکست اس لیے نہیں ہوئی تھی کہ مشرقی پاکستان میں کوئی منظم مزاحمت جاری تھی بلکہ اس کی وجہ انڈیا کا حملہ تھا۔ جب نوے لاکھ مہاجرین سرحد عبور کر کے انڈیا پہنچ گئے تو انڈیا والوں نے سوچا کہ ان کے پاس حملہ کرنے کا قانونی جواز موجود تھا۔“

بی بی سی پر شائع ان کی یادداشتوں میں انہوں نے اپنے سمیت فورسز کو دیے جانے والے ان احکامات کے بارے میں بات کی جن میں ہندوؤں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کو کہا گیا تھا؛ فوج کے اندر اس حوالے سے مکمل اتفاق رائے پایا جاتا تھا کہ ہندو ہی مسئلے کی اصل جڑ تھے اور اگر ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا تو مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ ”یہ کہ اس حوالے سے واقعی ایسے احکامات جاری کیے گئے تھے، ان کی تصدیق تو حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے،“ انہوں نے مجھے آگاہ کیا۔

دوسرے احکامات کے علاوہ انہیں یہ حکم بھی موصول ہوئے۔ بھاگنے والوں کو روکیں یا ایسے لوگ جو مزاحمت کریں، ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں۔ ”لیکن میں نے جو کچھ چیزیں دیکھیں وہ یہ تھیں : اول تو ایسی کسی مزاحمت کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ یہ غیر منظم لوگ تھے، نہتے اور غریب لوگ جن کے گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی اور ان میں سے کچھ معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔ جہاں تک ہندوؤں کو قتل کرنے کا معاملہ ہے تو اس سے میں نے ہمیشہ انکار کیا اور کہا کہ میں نہتے لوگوں کو ہلاک نہیں کروں گا۔“

نادر علی اچھے طریقے سے مشرقی پاکستان سے واقف تھے کیوں کہ وہ اس سے پہلے ساٹھ کی دہائی کے وسط میں بھی وہاں تین برس کے لیے تعینات رہ چکے تھے۔ چونکہ وہ وہاں کی حرکیات، لوگوں اور زمینی صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے اس لیے وہ خود کو ملنے والے احکامات پر عمل درآمد سے انکار کر دینے کی پوزیشن میں تھے۔ ”جو لوگ حکم جاری کرتے تھے وہ بھی اس چیز سے درگزر کر دیا کرتے تھے۔ وہ صرف میرے ساتھ یہی بحث کرتے کہ میرا یہ رویہ درست نہ تھا۔ لیکن میں اپنے دل میں اس بات کو سمجھتا تھا کہ وہاں مزاحمت یا ایسی کوئی شے نہیں ہو رہی تھی۔ میں پانچ یا چھے ایسے مقامات پر گیا جہاں مجھے براہ راست ایکشن کرنا تھا اور مجھے ان جگہوں پر بالکل بھی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ مجھے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا۔ ہم اپنی حفاظت کے لیے چند پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھاتے تھے لیکن ہم کھلے بندوں، آزادی سے ہوائی جہاز یا ٹرین پر سفر کر لیا کرتے تھے۔ میں نے اپریل 1971ء کے وسط میں جیپ پر اپنے ڈرائیور کے ہمراہ شمالی بنگال سے ڈھاکہ تک کا سفر کیا،“ انہوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3