آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی: رحم دل شہزادہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہر کے مرکز میں بنے سنگ مر مر کے ایک اونچے لمبے ستون کی چوٹی پر ایک نوجوان شہزادے کا سنہری بت کھڑا تھا۔ شاہی وردی میں ملبوس، بت کی کمر میں بندھی تلوار کے دستے میں ایک بڑا سا یاقوت اور آنکھوں میں دو نیلم جڑے ہوئے تھے۔

ستون کے ارد گرد بہت چہل پہل رہتی۔ شہزادے کے ہونٹ ہمیشہ دلفریب انداز میں مسکراتے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ڈھب سے شہزادے کی خوبصورتی کو سراہتا۔

ایک رات ایسا ہوا کہ ایک چھوٹا سا پرندہ تنہا شہر کے اوپر اڑ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہو۔ ہوا یوں تھا کہ اس کے ساتھی چھ ہفتے پہلے اپنی سالانہ نقل مکانی کے لئے یورپ سے مصر کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔ لیکن یہ پرندہ ان کے ساتھ نہیں گیا تھا کیونکہ اسے پیار ہو گیا تھا۔

پچھلی بہار کے دن تھے۔ دریا کے کنارے کے ساتھ، جہاں یہ سب پرندے گرمیاں گزارتے، بنسیوں کا ایک چھوٹا سا جنگل تھا۔ وہاں ایک دن ایک تتلی کا پیچھا کرتے ہوئے اس نے ایک بڑی خوبصورت، نازک اور پتلی سی کمر والی بنسی دیکھی۔ پرندہ وہیں رک گیا اور بنسی سے بغیر کسی تمہید کے پوچھا،

”کیا میں تم سے پیار کر سکتا ہوں؟“
بنسی کچھ لجائی، کچھ شرمائی، ہوا کی سمت ذرا سا جھکی اور اقرار میں سر ہلا دیا۔

پرندہ فاتحانہ انداز میں سینہ پھلائے دیر تک بنسی کے گرد اڑتا رہا۔ اس نے پر پھڑپھڑاتے ہوئے پانی کی لہروں کو چھیڑا جنہوں نے اس کے لمس سے مستی میں اٹکھیلیاں کرنی شروع کر دیں۔

پرندہ بہت خوش تھا۔ وہ سوائے پیار کے اور ہر چیز کو بھول چکا تھا۔ جب اس کے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ مصر کی جانب نقل مکانی کریں تو اس نے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا۔

ساتھیوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

”دیکھو، یہ بنسی تمھاری نسل سے نہیں۔ یہ چند دن تمھارے ساتھ دل بہلائے گی اور پھر تم سے منہ موڑ لے گی۔ اس کے اتنے اقربا ہیں جو سب اس کی توجہ چاہیں گے۔ تمہیں اس سے کچھ نہیں ملے گا۔“

لیکن پرندے نے ایک نہ سنی۔ گرمیاں ختم ہونے سے پہلے سب پرندے مصر کے گرم اور مہمان نواز ماحول کی طرف پرواز کر گئے۔

چند مہینوں کے بعد بنسی اکتا گئی۔ اس کے باقی رشتہ داروں نے اس کے قریب قریب ہونا شروع کر دیا۔ اب وہ ان کے ہجوم میں ایسے گھر گئی تھی کہ پرندہ اس کے گرد اڑ کر اپنی محبت کا اظہار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آخر ایک دن وہ بنسی کی عدم توجہ سے تنگ آ گیا اور فیصلہ کیا کہ اب وہ تن تنہا مصر کی جانب پرواز کرے گا اور اپنے ساتھیوں میں شامل ہو جائے گا۔

پرندہ صبح سے اڑ رہا تھا۔ وہ تھک گیا تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا۔ دور سے اسے ایک اونچا ستون دکھائی دیا جس پر پیوستہ سونے کا ایک بت چاندنی میں چمک رہا تھا۔

تھکا ہارا پرندہ پر سمیٹ کر، اپنی چونچ کو سینے میں چھپائے بت کے سنہری قدموں کے درمیان جا کر لیٹ گیا۔
رات کے پچھلے پہر پرندے کے سر پر پانی کا ایک قطرہ گرا۔

”یہ کیا؟ ایسے بت کا کیا فائدہ جو بارش سے بھی پناہ نہ دے سکے۔ اس سے تو اچھا میں چل کر کوئی چمنی ڈھونڈوں۔“

اتنے میں دوسرا قطرہ گرا۔ پھر جیسے قطروں کا تانتا بندھ گیا۔ اس نے روشن چاند اور جگمگاتے بت کو دیکھا۔ اس کی تلوار میں جڑے یاقوت کو، اور پھر اس کے چہرے کو۔ پرندہ حیران ہوا کہ بت کی نیلم کی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔ اسے بت پر بہت ترس آیا۔

”تم کون ہو؟“
پرندے نے حیران ہو کر بت سے پوچھا
”میں سونے کا شہزادہ ہوں۔“
” شہزادے ہو تو رو کیوں رہے ہو؟“

”جب میں زندہ تھا اور میرے سینے میں انسانی دل دھڑکتا تھا تو مجھے احساس بھی نہیں تھا کہ آنسو کیا ہوتے ہیں۔ میں جس محل میں رہتا تھا اس کا نام ہی قصر مسرت تھا وہاں دکھ اور غم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

”محل کے ارد گرد ایک اونچی فصیل تھی۔ فصیل کے پرے کیا ہے؟ میں نے کبھی پوچھا تک نہیں تھا۔ درباری مجھے خوش و خرم شہزادہ کہتے تھے۔ اور اگر عیش و عشرت کا نام ہی خوشی ہے تو میں واقعی خوش تھا۔ میں ایسے ہی جیا اور ایسے ہی چھوٹی سی عمر میں مر گیا۔

” لیکن میری موت کے بعد جب بت بن کر میں اس بلند ستون پر کھڑا ہوا تو میری آنکھیں کھلیں۔ اب میں شہر کی وہ مفلسی، بدحالی اور مظلومیت دیکھ سکتا ہوں جس کو زندگی میں مجھ سے چھپایا گیا۔

”اگرچہ میرا دل سیسے کا بنا ہوا ہے لیکن غریبوں پر رنج اور مصیبتوں کے انبار دیکھ کر یہ سیسہ بھی پگھل جاتا ہے۔ ضبط کے باوجود آنسو بہہ ہی جاتے ہیں۔

” اب یہی دیکھو۔ بہت دور ایک چھوٹے سے مکان کی کھڑکی کھلی ہے۔ ایک ناتواں فاقہ زدہ عورت ساٹن کے ایک گاؤن پر گلاب کا پھول کاڑھ رہی ہے۔ جس کو پہن کر شہزادی کی پکی سہیلی کل رات محل میں ہونے والے رقص میں شرکت کرے گی۔ اس درزن کی انگلیاں سوئی کی نوک سے چھلنی ہو گئی ہیں۔ اس کا بچہ ایک کونے میں پڑی چارپائی پر لیٹا بخار سے تپ رہا ہے۔ اس نے ماں سے سوپ مانگا تھا۔ ماں نے دیگچی میں گرم پانی ابال کر اس کو دے دیا کیونکہ اس کے پاس کھانے پکانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

”پرندے، میرے پیارے پرندے، کیا تم مجھ پر ایک احسان کر سکتے ہو؟ میرے پاؤں ستون میں گڑے ہوئے ہیں۔ میں خود نہیں جا سکتا۔ کیا تم میری تلوار پر گڑا یاقوت کسی طرح اس عورت کو پہنچا سکتے ہو؟ وہ کتنی اداس ہے۔ اس کا بیٹا کتنا بھوکا ہے۔“

”شہزادے، میرے ساتھی نیل کے کنارے پر اگے کنول کے پھولوں سے کھیل رہے ہیں۔ مجھے ان کے پاس پہنچنا ہے۔“

”پرندے، بس ایک رات کے لئے رک جاؤ۔ یہ یاقوت اس غریب درزن تک پہنچا دو۔ کہیں ایسا نہ ہو اس کا بچہ بھوک سے مر جائے۔“

پرندہ انکار کرنے ہی والا تھا۔ لیکن اس نے شہزادے کی آنکھوں میں اتنی گہری اداسی دیکھی کہ اس کو انکار کی ہمت نہ ہوئی۔

”ٹھیک ہے۔ میں آج رات رک جاتا ہوں۔“

پرندے نے یاقوت اکھاڑ کر اپنی چونچ میں دبایا اور شہر کی چھتوں پر سے اڑتا ہوا عورت کی کوٹھری میں داخل ہوا۔ اپنے پروں سے بخار میں تپتے ہوئے بچے کو ہوا دی۔ یاقوت کو سلائی کی ٹوکری میں رکھ کر واپس لوٹ آیا۔

پرندہ اگلے دن شہر کی سیر کرتا رہا۔ جب چاند نکل آیا تو وہ شہزادے کے پاس لوٹا۔
کل میں یقیناً مصر کے لئے روانہ ہو جاؤں گا۔ میرے لائق کوئی خدمت؟
پرندے نے شہزادے سے پوچھا۔
”ننھے پرندے، بس ایک رات کے لئے اور رک جاؤ۔ مجھے یہاں سے ایک نوجوان آرٹسٹ کا کمرہ نظر آ رہا ہے۔ اس کی میز پر کاغذوں کا انبار ہے اور وہ تھیٹر کے ڈائریکٹر کے لئے ایک ڈرامہ لکھنا چاہ رہا ہے لیکن نقاہت اور بھوک سے لاچار ہے۔ میرے پاس اور کوئی یاقوت تو نہیں لیکن تم میری ایک آنکھ سے نیلم نکال کر اسے دے آؤ۔ کاش میں خود جا سکتا لیکن میں تو ستون میں گڑا ہوا ہوں۔“

”نہیں، میں یہ ظلم نہیں کر سکتا۔ تمہیں آنکھ سے محروم کرنا میرے بس کی بات نہیں۔“
”ننھے پرندے، تم میری فکر نہ کرو۔ میں جیسے کہ رہا ہوں ویسے ہی کرو۔“

پرندے نے دل کڑا کر کے نیلم شہزادے کی آنکھ سے نکالا اور آرٹسٹ کے گھر پہنچا۔ کمرے تک جانے میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی چونکہ آرٹسٹ کے کمرے کی چھت ٹوٹی ہوئی تھی اور اس میں ایک بڑا سا سوراخ ہو گیا تھا۔ پرندے نے نیلم اس کی میز پر رکھ دیا۔ آرٹسٹ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے بھوک اور نقاہت سے نیم بے ہوش تھا۔ اسے پتہ بھی نہ چلا پرندہ کب آیا اور کب گیا۔ پھر سر کے ایک جھٹکے سے اچانک اس کی آنکھ کھلی۔

” میرے ڈرامے مقبول ہو رہے ہیں۔ شاید یہ انعام کسی مداح کی طرف سے آیا ہے۔ ٹھٹھرتی سردی میں تو قلم پکڑنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اب میں پیٹ کی آگ بجھا سکتا ہوں اور کوئلہ خرید کر انگیٹھی کی آگ جلا سکتا ہوں۔“

اگلا دن پرندے نے برف میں پھنسے ہوئے ایک جہاز پر گزارا۔ اس نے ملاحوں کو بتایا کہ وہ مصر جا رہا ہے۔ رات گئے وہ شہزادے کو خدا حافظ کہنے کے لئے اس کے پاس پہنچا۔

” میں تمھاری منت کرتا ہوں ننھے پرندے بس ایک دن اور رک جاؤ۔ اسی ستون کے پاس ایک چھوٹی سی ماچس بیچنے والی لڑکی بنچ پر بیٹھی رو رہی ہے۔ اس کی ماچسیں نالی میں گر کر گیلی ہو گئی ہیں۔ وہ اب انہیں بیچ نہیں سکتی۔ تم میری دوسری آنکھ سے نیلم نکال کر اسے دے دو۔ ورنہ اگر وہ پیسے لے کر گھر واپس نہ گئی تو اس کا ظالم باپ اسے بہت مارے گا۔“
”نہیں شہزادے، یہ تو میں ہر گز نہیں کروں گا۔ میں تمھیں اندھا نہیں کر سکتا۔“
”میرے اندھے ہونے کی فکر مت کرو۔ جو میں کہ رہا ہوں وہ کرو۔“
شہزادے نے اصرار کیا۔
روتے روتے پرندے نے بت کی دوسری آنکھ کا نیلم بھی نکالا اور لڑکی کی جھولی میں ڈال دیا۔
”میرے شہزادے میں نے تمہیں آنکھوں سے محروم کر دیا ہے۔ اب میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ اب میں جیتے جی یہیں تمہارے قدموں میں رہوں گا اور تمہاری خدمت کروں گا۔“
اگلے دن سے پرندہ وہیں بت کے قدموں کے درمیان راتیں بسر کرنے لگا۔ وہ اسے دور دراز ملکوں کی کہانیاں سناتا، خاص طور پر مصر کی کہانیاں۔ یہ کہانیاں بہت دلچسپ ہوتیں۔ لیکن ایک دن شہزادے نے اس سے کہا،
” تم مجھے بہت حیرت انگیز باتیں بتاتے ہو لیکن غریبوں کی مظلومیت سے زیادہ دلگداز کوئی کہانی نہیں ہوتی۔ تم دور دراز سرزمینوں کی کہانیوں کی بجائے مجھے میرے شہر کے غریبوں کی کہانیاں سنایا کرو، جو زندہ ہوتے ہوئے بھی زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔“

اس کے بعد سے پرندہ شہر بھر میں اڑتا پھرتا۔ کہیں امیروں کے اللے تللے اور کہیں تاریک گلیوں میں یرقان زدہ بچوں کو بھوک سے بلبلاتا دیکھتا۔ اس نے دیکھا کہ ایک پل کے نیچے دو بچے شدت کی سردی سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے چمٹے بیٹھے تھے۔
”بھائی میں بہت بھوکا ہوں“
چھوٹا بھائی پڑے بھائی سے کہہ رہا تھا۔ چوکیدار نے انہیں دھتکار کر وہاں سے بھگا دیا اور وہ بارش میں بھیگتے روٹی کی تلاش میں نہ جانے کدھر چل دیے۔
پرندے نے یہ سب باتیں شہزادے کو سنائیں۔
”ننھے پرندے، میرے پاس اب کوئی یاقوت یا نیلم تو نہیں، لیکن میں سر سے پاؤں تک سونے کی پتریوں سے جڑا ہوا ہوں۔ تم ایک ایک پتری اکھاڑ کر جس مستحق غریب کو دے سکو دے دو۔ زندہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سونا ان کی زندگی میں خوشیاں لا سکتا ہے۔ شاید یہ سونا ان کو تھوڑی سی خوشی پہنچا دے۔“
شہر کے غریب بچوں کو کھانے کو کچھ میسر آنے لگا۔ ان کے چہروں پر لالی واپس آ گئی۔ شہر ان کے قہقہوں سے ایک مرتبہ پھر گونج اٹھا۔
اب برف کے طوفانوں نے شہر کو جیسے چاندی میں لپیٹ لیا تھا۔ ایک ایک کر کے بت کی سونے کی پتریاں ختم ہو چکی تھیں۔ پرندے کو خود بھی کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔ بیکری کے باہر کبھی کبھی سوکھے ٹکڑے مل جاتے تھے۔ وہ بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اسے احساس تھا کہ اب اس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہیں۔

ایک دن جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ اب اگلی صبح نہیں دیکھ پائے گا وہ اپنی پوری طاقت لگا کر بت کے قدموں سے اڑ کر اس کے کندھوں تک پہنچا۔ شہزادے کے ہاتھ چوم کر آخری مرتبہ خدا حافظ کہا اور اس کے قدموں میں گر کر دم توڑ دیا۔

عین اس وقت بت کے اندر سے ایک عجیب سی تراقے کی آواز آئی۔ جیسے کوئی چیز چٹخ گئی ہو۔ لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ آواز بت کے کے دل سے آئی تھی۔ سیسے کا دل، جو ٹوٹ گیا تھا۔

اگلے دن شہر کا مئیر سٹی کونسل کے عہدہ داروں کے ساتھ ستون کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ اس نے بت کو دیکھا جو یاقوت، نیلم اور سونے کی پتریوں سے محروم تھا۔ اس کا رنگ گدلا اور مٹیالا ہو چکا تھا۔

”کس قدر بد صورت ہے یہ بت۔“
مئیر نے کہا۔
”ہاں بہت ہی بد صورت“
خوشامدی کونسلر جو مئیر کی ہر بات پر رضا مندی کا اظہار کرتے تھے یک زبان ہو کر بولے۔
”یہ تو کسی فقیر کا بت لگتا ہے۔“

”اور دیکھو اس کے قدموں میں ایک پرندہ مرا پڑا ہے۔ کلرک، فوراً ایک فرمان جاری کراؤ کہ آج سے اس شہر میں بتوں کے قدموں میں کسی پرندے کا مرنا غیر قانونی ہے۔“

کلرک نے فوراً جیب سے کاغذ پنسل نکال کر ہدایت لکھ لی۔

کونسل کے حکم سے بت کو ستون سے گرا دیا گیا۔ بت کے سیسے کو پگھلانے کے لئے اسے ایک بہت بڑی فاؤنڈری میں بھیجا گیا۔ یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ پگھلانے کے بعد سیسے کو کس مصرف میں لایا جائے مئیر نے کونسل کی ایک خاص میٹنگ بلائی۔

”اس سیسے کو ایک اور بت بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ کیا کونسل کا اس بارے میں اتفاق رائے ہے کہ شہر کا مئیر ہونے کی حیثیت سے وہ بت میر ا ہونا چاہیے؟“

مئیر نے پوچھا۔
” جی حضور“
تمام خوشامدی کونسلرز یک زبان ہو کر بولے۔
ریزولوشن پاس ہو گیا۔
فاؤنڈری میں بت کو پگھلانے کا کام شروع ہوا۔
”کتنی عجیب بات ہے۔“
فاؤنڈری کے سپروائزر نے حیرت سے کہا۔
”تمام بت کا سیسہ پگھل گیا ہے۔ لیکن ٹوٹا ہوا دل پگھل کر نہیں دے رہا۔“

اس نے جھنجھلا کر سیسے کے ٹوٹے ہوئے دل کو وہیں کوڑے کے ایک ڈھیر پر پھینک دیا۔ اسی ڈھیر پر جہاں مرا ہوا پرندہ بھی پڑا تھا۔

آسمانوں پر خدا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس شہر کی دو سب سے قیمتی چیزیں لا کر اس کے حضور پیش کریں۔

شہر کا کونہ کونہ چھاننے کے بعد فرشتے خدا کے حضور لوٹے۔ ہاتھوں میں شہر کی قیمتی ترین دو چیزیں لئے ہوئے۔

ایک سیسے کا ٹوٹا ہوا دل اور دوسرا ایک مرا ہوا ننھا سا پرندہ۔

(Oscar Wilde) 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •