ہائبرڈ سرکار کے لیے نیا برس کیسا ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا نئے سال کی مبارکباد جمہوریت، فری میڈیا اور فری کووڈ کے ساتھ دے رہی ہے مگر پاکستان میں نئے سال کی مبارکباد ہائبرڈ جمہوریت، پاپند سلاسل میڈیا، مذہبی منافرت اور عوامی بدحالی سے دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن چور ہے، حرام کا پیسہ اور حرام کی اولاد کے حکومتی طعنے سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کے جھنڈے نئے پاکستان میں گاڑے جا چکے ہے۔ اچھی طرز حکومت، عوامی خوشحالی، انصاف اور احتساب کہیں پر بھی دکھائی نہیں دیتا ماسوائے لیڈ مافیا اور بلڈر مافیا کی ترقی اور اپوزیشن کے احتساب کے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کے ہاتھی کاون کو کمبوڈیا بھیجنے سے زیادہ خوشی اس حکومت کو چڑیا گھر کی کھربوں روپوں مالیت والی زمین کی ہے۔ جلد ہی یہاں پر لکی مال اور لگژری فلیٹ نظر آئیں گے۔ ریاست مدینہ کو دیکھنے کے لیے شاید ہمیں ماضی میں جانا پڑے یا پھر شاید بھنگ پی کر ہی کوئی سہانا خواب دیکھنا پڑے گا کیوں کہ ریاست مدینہ کے نام پر سامراجی نظام کا بول بالا ہے۔ مارکس ازم، سوشل ازم کی تھیوریز حقیقی معنوں میں پریکٹس ہوتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہو کر ختم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست مدینہ کا راگ الاپنے کے باوجود کرک میں مندر گرانے کا کام کیا گیا اور پھر وقت آنے پر ہم قائد اعظم کے رہنما اصولوں اور مذہبی ہم آہنگی کی تقاریر جھاڑتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مذہب کے نام پر بننے والے ریاست میں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے پائیں اگر مذہبی ہم آہنگی کی چند مثالیں موجود بھی ہیں تو یہ تقسیم ہند سے پہلے کی چلی آ رہی ہیں جس میں الگ ریاست کا ہونا کوئی کمال نہیں ہے۔

اس وقت ملک تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت ہائبرڈ ہے جو صرف ٹی وی پر نظر آ رہی ہے جہاں حکومتی وزیر اور مشیر، خان صاحب کی نئی نئی تھیوریز کی سپورٹ اور اپوزیشن کو گالی گلوچ کرتے نظر آتے ہیں اور خان صاحب قوم کو خطاب کرنے کے بجائے حکومی ترجمانوں کو خطاب کرتے نظر آتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ خان کو یہ پختہ یقین ہے کہ تحریک انصاف کی 2018 کے انتخابات میں جیت کا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی ہے جس کی وجہ سے حکومت کی توجہ عوام پر کم اور ہائبرڈ طرز حکمرانی پر زیادہ ہے۔

اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہائبرڈ وار فیئر اور بھارت کے جھوٹے فلیگ شپ آپریشن پر توجہ کم اور اپنے منشور سمیت اچھی طرز حکمرانی پر تھوڑا زیادہ دھیان دے پاتی تو شاید ہر طبقہ فکر یہ دہائی دیتا نظر نہ آتا کہ اب ہم پر رحم کرو ہاتھ جوڑتے ہیں ہم۔ تحریک انصاف کے ترجمانوں اور تحقیق دانوں کی پالیسیاں اپوزیشن سے شروع ہو کر بھارت اور مودی پر ختم ہوتی ہیں جس سے ملکی ترقی ہونی ہے اور نہ ہی کشمیر آزاد ہونا ہے۔

ہائبرڈ جمہوریت میں چاہے آپ کا ڈیجیٹل کلرفل گراف اونچا نظر آئے مگر یقین مانیے عوام یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کہاں گیا انصاف، قانون اور حکمرانی،  آٹا چور پکڑے گئے نہ ہی چینی چوروں کو آپ ہاتھ لگا سکے الٹا بجلی، گیس سمیت کئی بحران آپ پر منہ چڑا رہے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات آپ تو آئے روز ڈیلی ویجز ملازمین کو بیروزگار کر رہے ہیں۔ بھلے ہی آپ بینک قرضوں پر اپنا گھر جیسی اسکیمیں چلائیں مگر عام لوگوں کی 5 فیصد بھی خود سے دے کر گھر بنانے کی قوت استطاعت نہیں رکھتی۔

ادویات کی قیمتیں آسمانوں پر ہیں۔ صحت کی سہولیات دینا آپ کی ترجیحات میں شامل ہے نہ ہی اچھی تعلیم۔ آپ کا مقصد اچھی طرز حکمرانی ہے نا ہی سانحہ ساہیوال جیسے کیسز کو انصاف دلانا آپ کا مقصد ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے غلطیاں کیں اور ملک میں کرپشن کا بول بالا ہوا۔ اگر ماضی کی حکمران چور ہیں تو پھر آج آپ کے ساتھ بیٹھنے والے بھی تو ماضی کی انہی حکومتوں اور ان حکمرانوں کے قصیدے گاتے رہے ہیں ، اگر اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا تو پھر ان کو کیوں؟

اگر اپوزیشن میں شامل حکمران لوٹی ہوئی دولت واپس کریں تو پھر سوال یہ ہے کہ حکومت میں شامل ان لوگوں نے اپنے حصے کی لوٹی ہوئی دولت کہاں جمع کروائی ہے؟ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کی وجہ سے کمزور ہیں اور ہمیں بھی یہ پتہ ہے کہ 1947 سے لے کر 2020 تک تمام حکومتیں کن کی آشیرباد سے بنی اور ٹوٹتی رہی ہیں مگر اس وقت بھی تبدیلی سرکار اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود بھی ان کی منظور نظر ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری اور خان صاحب کے سرد موسم کے دھرنے تو حکومت گرانے میں ناکام رہے مگر اب کے برس پی ڈی ایم عمرانی حکومت کو گرانے کے لیے گرم موسم کا سہارا لینے کے چکر میں ہیں۔ تمام تر سیاسی انجنیئرنگ کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن نماز نجات پڑھانے کا انتظار کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سینیٹ انتخابات، ضمنی انتخابات سمیت فتح کشمیر کے انتظار میں غیبی طاقتوں کو مزید چھے ماہ دینے کو تیار ہیں کہ ان تلوں میں تیل ہی نہیں ہے اِن ہاؤس تبدیلی کر لو؟

ورنہ تو قومی حکومت بنانے ولا خواب بھی ادھورا رہے گا اور میاں صاحب کو بھی منانا مشکل ہو جائے گا۔ میاں صاحب فی الحال انتظار اور غورو فکر کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ مگر پی ڈی ایم کے سربراہ حقیقی اپوزیشن سمجھنی جانے والی شخصیت مولانا فضل الرحمٰن تو سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست سیاستدانوں کو اپنے ساتھ ملانے میں مشغول ہیں جو جلد ہی سندھ اور بلوچستان کے وسائل پر وفاقی حکومت کے قبضے، مہنگائی، بے روزگاری اور لاپتہ افراد کے خلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کرتے نظر آئیں گے۔

کیا 2021 تبدیلی کا سال ہوگا؟ کیا عمران خان کی ہائبرڈ حکومت کو فرشتوں کی آشیرباد کے بغیر گرایا جا سکے گا؟ دیکھا جائے تو امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن امریکی عوام کے مقبول ترین رہنما نہ تھے مگر صدر ٹرمپ کے خراب طرز حکومت، گالی گلوچ اور خراب رویے کی وجہ سے ہی صدر جو بائیدن کو زیادہ ووٹ ملے۔ بھلے جے یو آئی، پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور بی این پی مینگل سمیت دیگر جماعتیں عوام میں مقبول نہ ہوں اور مولانا فضل الرحمان، مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما عوام کا سمندر اسلام آباد لانے میں ناکام رہیں ، خان صاحب کی خراب طرز حکمرانی، گالی گلوچ اور خراب رویے کی سیاست لوگوں کو حکومت مخالف تحریک میں آنے پر مجبور ضرور کرے گی۔

یہ کہا جا سکتا ہے 2021 ملک میں تبدیلی کا سال ہوگا۔ سیاسی شعور کی بیداری کے ساتھ اسٹیبلشمنیٹ کا کردار محدود اور سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا کردار مضبوط ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •