جنت سے پروین شاکر کا خط

دنیا سے آئے بہت سے خطوط میں سے تمہارے خط کا جواب دے رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہے ان ڈھیروں خطوط، جو میری ہم پیالہ شاعرات، جو دنیا میں میری چغلی کھانے کا ایک بھی موقع جانے نہ دیتی تھیں نے بھیجے ہیں، جنہیں میں ہاتھ لگانے سے اس لیے ڈرتی ہوں کہ الزام تراشیوں کا نیا سلسلہ ہی نہ شروع کر دیا ہو، اور نہیں تو کہیں جنت کے داروغہ سے ہی میری باتیں نہ گانٹھ دی گئی ہوں۔

Read more

کیا ہم بھی اورویل کے 1984 میں جی رہے ہیں؟

کچھ عرصہ ہوا کہ جارج اورویل کا ناول پڑھنا شروع کیا۔ میری عادت رہی ہے کہ کتاب اٹھانے سے پہلے ادیب سے شناسائی پیدا کرتا ہوں۔ کبھی تھوڑی سوانح پڑھ کر تو کبھی اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کھنگال کر۔ اور جارج اورویل سے شناسائی بھی کچھ مدت پہلے تب ہوئی جب ہمارے پروفیسر نے طنزیہ سیاسی ادب کے دائرے کو وسیع کرنے والے اورویل کے ناول ”اینیمل فارم“ سے روشناس کروایا۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑ کر مارکس و لینن کے نظریات پر ابھر کر پھر زوال کی طرف سفر کرتے سویت یونین سے روس بنتے ملک کی داستان ہے۔

Read more