جنت سے پروین شاکر کا خط
دنیا سے آئے بہت سے خطوط میں سے تمہارے خط کا جواب دے رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہے ان ڈھیروں خطوط، جو میری ہم پیالہ شاعرات، جو دنیا میں میری چغلی کھانے کا ایک بھی موقع جانے نہ دیتی تھیں نے بھیجے ہیں، جنہیں میں ہاتھ لگانے سے اس لیے ڈرتی ہوں کہ الزام تراشیوں کا نیا سلسلہ ہی نہ شروع کر دیا ہو، اور نہیں تو کہیں جنت کے داروغہ سے ہی میری باتیں نہ گانٹھ دی گئی ہوں۔
Read more
