مستنصر حسین تارڑ کا ناول: ’‘شہر خالی، کوچہ خالی”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی
جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی

افغان شاعر اور موسیقار امیر جان صبوری کا کلام جسے تاجک گلوکارہ نگارہ خالوا نے گایا ہے اور جو یک دم پاکستان میں مقبول بھی ہوا اور وبا کے دنوں میں حسب حال بھی تھا کو جناب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے اور آغاز میں ہی اس نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے اور ناول کا عنوان بھی اسی شعر سے مستعار لیا گیا ہے۔

یہ ناول اسی فیصد تو مصنف کے ذاتی تجربات، احساسات اور خیالات پر مبنی ہے، جب کہ کوئی بیس فیصد حصہ فینٹیسی پر مشتمل ہے۔ کورونا کے دنوں اور راتوں کی کہانی ہے۔ پرندوں کی یلغار ہے فاختہ اور چیل ایک وقت میں زندگی اور موت کے استعارے کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ وبا کے پانی ہیں جس سے کل دھرتی بھر گئی ہے اور فاختہ خشکی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ شہر کی سڑکیں خالی ہو جانے کے باعث حرکت اور شور میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ مختلف طرح کے پرندے ہیں جو منڈیر پر آ کر بیٹھنا شروع ہو گئے ہیں جو ایک بوڑھے کے لئے توجہ اور دلچسپی کا باعث بن رہے ہیں۔

” یہ محبت کرنے کے دن نہ تھے۔ محبت مؤخر کرنے کے دن تھے۔
یہ تنہائیوں کے دن تھے۔

ایسی تنہائیاں جن کی کوئی حد نہ تھی۔ کون تھا جو پیش گوئی کر سکے کہ ان کا اختتام سو برس میں ہو جائے گا، شاید وقت کا اختتام ہو جائے پر یہ ان کی حدود سے بھی پار تک چلی جائیں، ماورا ہوجائیں زمانوں اور قرنوں سے اور چھید کر دیں اس کائنات کی ان دیکھی چادر میں اور کسی اور کائنات کی مسافتیں اختیار کر لیں۔

یہ ایسی تنہائیوں کے دن تھے۔ ”

گھر کی منڈیر مصنف کے اکلاپے کی واحد تفریح ہے جسے وہ دیکھتا رہتا ہے۔ جس روز وہاں پرندوں کی مختلف نسلوں کا ہجوم اترتا ہے تو مصنف کا دل بھی ایک سفید کنول کی مانند کھل جاتا ہے اور وہ دل بہلانے کی خاطر تصور کے تانے بانے بننے لگتا ہے کہ منڈیر دراصل ایک تھیٹر کی سٹیج ہے اور اس پر کوئی ایسا کھیل کھیلا جانا ہے جو آج تک کھیلا نہیں گیا۔ اس تھیٹر کی خوبی یہ ہے کہ آپ اپنی افتاد طبع اور اپنے حسن ذوق کے معیاروں کے مطابق دنیا کا کوئی بھی کلاسیک ڈرامہ یا اوپیرا متشکل کر سکتے ہیں۔ اپنی پسند کے کسی بھی کردار کو ڈرامائی انداز میں منڈیر کی سٹیج پر تصور کر سکتے ہیں۔

مصنف انسانی سائیکی کے مختلف در بھی کھولتا چلا جاتا ہے۔ موت، ناگہانی حادثے یا دکھ کا اور جنسی عمل کا آپس میں کیا رشتہ ہے، اس کی توجیہہ کی الجھنیں شاید فرائڈ اور ژونگ کی تحریروں میں سلجھی ہوں لیکن حتمی طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اہل مشرق کی نفسیات اور مغرب کے باسیوں کے نفسیاتی مسائل سراسر الگ ہیں اور ہم ان کے نفسیات دانوں کی تحقیق کو مکمل طور پر اپنے آپ پر منطبق نہیں کر سکتے۔ دکھ اور جنسی عمل کے ربط کا سلسلہ شاید ہماری سر زمین کی قدامت اور تواہم سے جڑا ہوا ہے۔

یہ تنہائی اور سماجی فاصلے کے اثرات ہیں کہ مصنف کہتا ہے کہ اصل یدھ تو رات کو پڑتا ہے۔

دن کے جتنے وسوسے ہوتے ہیں، خوف اور وہم جس قدر ہوتے ہیں، وہ تمام ڈراوے اور ہول جو دن کی روشنی میں اپنی گپھاؤں میں گھات لگائے منتظر ہوتے ہیں، دانت نکوستے، غراتے ہوئے باہر آ جاتے ہیں۔ نیند کی گولیاں پھانکنے کے باوجود نہ میں سوتا ہوں نہ جاگتا ہوں، نہ زندہ ہوتا ہوں نہ مرتا ہوں کہ نیند کو بھی تو عارضی موت کہا جاتا ہے۔

مصنف کا کہنا کے کہ جن علاقوں میں اب وہ آباد ہے کبھی یہاں ہرن آباد ہوا کرتے تھے پھر آبادیاں پھیلتی گئیں اور ویرانیاں سکڑتی گئیں اور یوں یہاں کی جنگلی حیات بھی معدوم ہوتی چلی گئی۔ اب وہی ایک ہرن بطور فینٹسی وہاں موجود ہے مصنف کے گھر کے باہر جو مصنف سے باتیں کرتا ہے ”اس وبا نے ہماری بددعا سے جنم لیا ہے۔ تم وہاں ہوا کرتے تھے اپنی بستیوں کی فصیلوں کے اندر اور ہم ان کے باہر تھے اپنے جنگلوں کی عافیت میں۔

تمہارے اور ہمارے درمیان ویرانوں اور بے آباد وسعتوں کے سلسلے تھے جو تمہیں اور ہمیں بھی محفوظ رکھتے تھے۔ پھر تم نے سؤروں کی مانند بچے جننے شروع کر دیے، اتنے بچے جنے کے بستیوں میں گنجائش نہ رہی اور تم ہمارے جنگلوں اور صحراؤں پر قابض ہو گئے۔ ہمیں اپنی سرزمینوں سے بے دخل کر دیا۔ یوں جب انسانوں اور حیوانوں کے درمیان محفوظ فاصلے نہ رہے، دونوں قریب آ گئے تو ایسی بیماریاں جو صرف حیوانوں میں پائی جاتی تھیں، انسانوں میں منتقل ہونے لگیں، یہ وبا ابھی ابتدا ہے۔

تم نے قدرت کے نظام کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے تمہاری بساط سمیٹی جا رہی ہے۔ تمہیں اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔ ”سائنسدان یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ جانور ہی ہیں جنہوں نے اس بیماری کو بیمار انسانوں سے لے کر صحت مند انسانوں کو منتقل کر دیا اور پھر انسانوں کے باہمی روابط نے انہیں ایک وبا کی شکل دے دی جو دنیا بھر میں پھیل گئی جس کے ذمہ دار انسان خود ہیں۔

مصنف تنہائی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر شے کا حساب کتاب ہو سکتا ہے۔ تنہائی کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔ ایک خاص حد تک تنہائی کے شب و روز کا حساب رہتا ہے اور پھر کچھ حساب نہیں رہتا، شب و روز کے شمار کے پیمانے معطل ہو جاتے ہیں، جیسے مکمل تنہائی کی قید کاٹنے والے انسان کو جب رہائی نصیب ہوتی ہے تو وہ تعین نہیں کر سکتا کہ کیا وہ ایک برس قید تنہائی میں رہا ہے یا اسے سو برس ہو گئے ہیں۔ اس کے آثار ہویدا ہونا شروع ہو چکے ہیں اور گمان یہی ہے کہ جب کرہ ارض کی اکثر بستیوں کی تنہائی اختتام کو پہنچے گی تو ہماری حالت اس قیدی سے جدا نہیں ہو گی۔

کورونا کے بچوں، خاص کر غریب بچوں پر ایسے بچوں پر جو پوش ایریاز میں کام کرنے والی عورتوں کے بچے ہیں ان پر پڑے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ایک بچی کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کہتا ہے کہ وہ ایک پارک میں روزانہ ایک چھوٹی بچی کو دیکھتا ہے جس کا پھیکا پڑ چکا فراک اور بن دھوئے بھورے بال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہاں گھریلو کام کاج کرنے والیوں میں سے کسی ایک کی بیٹی ہے۔ یہ بچی پورے پارک میں تنہا ہوتی ہے، دوڑتی پھرتی ہے، کبھی اس جھولے پر جھولتی ہے اور کبھی اس سلائیڈ پر چڑھ کر پھسلتی ہوئی نیچے آتی ہے اور اس کے فلاکت زدہ چہرے پر مسرت کی پھلجھڑیاں پھوٹتی ہیں کہ اسے اپنی خوش نصیبی پر یقین نہیں آتا۔ شاید پچھلے زمانوں میں وہ دیگر بچوں کی موجودگی میں اس پارک میں داخل ہونے کی جرات نہ کر سکتی تھی۔ اگرچہ داخلے پر ایک سرکاری اعلان آویزاں ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران اس پارک میں داخل ہونا منع ہے۔ لیکن صبح سویرے کون دیکھتا ہے۔

ہمارے ہاں جب آفتیں حد سے گزر جاتی ہیں، وباؤں بیماریوں اور موسموں کی شدت پر اختیار نہیں رہتا تو لوگ عبادتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ لوگ وبا کے خوف سے مذہب کے قریب آ جاتے ہیں یہاں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ شک و شبہے میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

لوگوں کے گھروں میں دبک جانے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی موجودگی سے درختوں، پودوں اور پھولوں کی مہک جو کہیں غائب ہو گئی تھی اب وہ خوشبوئیں بھی جسم میں سرایت کرنا شروع ہو گئی ہیں۔

تنہائی سے تنگ آ کر ایک دن مصنف داتا دربار جانے کا ارادہ کر لیتا ہے اور پھر ایک دن وہ وہاں پہنچ بھی جاتا ہے، وہ اپنے ساتھ کبوتروں کو ڈالنے کے لئے دانوں کی پوٹلی بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن وہاں جا کر پتا چلتا ہے کہ کبوتر تو مر گئے جیسے بھکاری بھیک نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں ویسے ہی کبوتر بھی خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے ہیں۔ دربار پر لوگوں کی آمد و رفت محدود ہونے کی وجہ سے وہاں لنگر کی تقسیم بھی بند ہو گئی ہے۔

داتا دربار پر ایک مجذوب ملتا ہے جو بتاتا ہے کہ لوگوں کو تو اپنے دانے پانی کی فکر ہے کبوتروں کو کہاں سے کھلائیں گے۔ کبوتروں نے خالی فرش پر چونچیں مار مار کر اپنی چونچیں توڑ لی ہیں۔ جب دانہ دنکا نہ ملا تو لاغر ہو کر مرنے لگے۔ صرف وہ ہے جو دن رات ان کبوتروں کے کفن دفن کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے ان میں سے نیم مردہ کبوتروں کو وہ پکا کر کھا بھی لیتا ہے۔ مجذوب کہتا ہے کہ کبوتر آ جائیں گے مولا، انہیں کیا پتہ کہ آج ان کے رزق کا بندوبست ہو گیا ہے۔

پتا چلے گا تو وہ چلے آئیں گے۔ ان کا رزق فرش پر بکھیرو تو سہی۔ مجذوب کی پکار پر جو روزن اور طاقچے تھے، محرابیں اور گنبد تھے وہاں سے کبوتر پھوٹنے لگے جیسے غیب میں موجود تھے اور مولا آ جاؤ کی پکار پر ظہور میں آ گئے۔ وہ جھپٹتے چلے آتے تھے۔ جہاں کہاں وہ پوشیدہ تھے، بھوک سے نڈھال پڑے تھے بند چونچیں کیے مقفل خاموشی کے ساتھ چلے آئے۔ اتنی کثرت میں کہ صحن میں اتری دھوپ سہم کر سمٹ گئی اور ایک سرمئی اندھیرا چھا گیا، جس بھوکی شدت سے وہ اترتے تھے مصنف کو یقین ہو چلا تھا کہ وہ اس پر جھپٹنے کے لئے چلے آتے ہیں اور وہ اسے نوچ نوچ کر کھا جائیں گے۔

مصنف فرش سے اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن گھٹنوں کے جواب دے جانے کی وجہ سے وہیں سنگ مرمر کے فرش پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ کبوتروں کی بھوکی چونچیں یہ تمیز نہیں کر پا رہی تھیں کہ فرش پر بکھرے یہ دانے ان کی خوراک ہیں یا یہ بوڑھا جو فرش پر لاغر پڑا لرزش میں ہے۔ وہ مصنف کی مٹھی میں بھنچی پوٹلی پر بھی چونچیں مار رہے تھے اور کچھ چونچیں بھٹک کر مصنف کے ہاتھ اور بدن کے دیگر حصوں پر بھی اترتی تھیں، استرے کی دھار ایسی تیز چونچیں مصنف کو کسی حد تک زخمی کر دیتی ہیں۔ وہ گھر پہنچتا ہے تو بیٹا باپ کے گھر سے غائب رہنے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا پایا جاتا ہے اور جب وہ کسی حد تک اسے زخمی دیکھتا ہے تو فوراً ان زخموں کو ڈیٹول سے صاف کر کے اس پر مرہم لگاتا ہے اور با امر مجبوری مصنف کو قرنطینہ میں جانا پڑتا ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کی وجہ سے گھر والے کورونا میں مبتلا ہوں۔

قرنطینہ کے آٹھویں روز مصنف بیدار ہونے پر سب سے پہلے کھڑکی کے پردے ہٹاتا ہے اس کے دل میں کھد بد ہوتی ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آج اس کی منڈیر پر کون سا پرندہ مہمان بن کر اترا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ وہاں ایک بدرنگ کریہہ شکل والی چیل پر پھیلائے بیٹھی ہے۔ چیلیں عام طور پر خالی آسمان پر معلق سی نظر آتی ہیں جیسے تھم گئی ہوں۔ نیچے اترتی ہیں تو کبھی ایسے مقام کا انتخاب نہیں کرتیں جہاں آس پاس کچھ شجر ہوں اور ان کے پروں کے الجھ جانے کا امکان ہو۔

اس چیل کی آمد نے ہر سو ایک نحوست پھیلا دی تھی۔ چیل کی وہاں موجودگی اسے بے آرام کر رہی تھی۔ ایک انجانا سا ڈر اس کے بدن کے مساموں سے پسینے کی مانند پھوٹنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے کمرے میں محفوظ تھا وہ اسے گزند نہیں پہنچا سکتی تھی تو پھر اس ڈر کا کیا جواز تھا۔ یہی چیل بعد ازاں موت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ مصنف بخار میں پھنکنے لگتا ہے وہ اپنے گھر والوں کو مطلع نہیں کرتا۔ اگلے دن بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے بیٹے کو خبر ہوتی ہے تو فوراً اسے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں وہ جان کنی کے مراحل سے گزرتا ہے۔

انتہائی نگہداشت کا وارڈ زندگی اور موت کے درمیان ایک پڑاؤ ہے، کبھی موت کھینچتی ہے تو زندگی اسے روکتی ہے اور کبھی زندگی حاوی ہونے لگتی ہے موت اپنا سیاہ بوجھ پلڑے میں ڈال کر اپنی جانب جھکانے لگتی ہے۔ یہ ہوش اور بے ہوشی کے درمیان ایک برزخ ہے۔ اور یہاں بھی قیام دائمی نہیں رہتا، ڈانواں ڈول ہوتا رہتا ہے کبھی ہوش کے آنگن میں اور کبھی بے ہوشی کی تاریک کھائی میں۔ اس وارڈ میں پلڑے اگر برابر رہتے ہیں تو تادیر نہیں رہتے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ نہ ہی یہاں وقت گزرنے کا کوئی پیمانہ ہے۔ شب و روز کا، ماہ و سال کا کچھ حساب نہیں۔ ایک لمحہ بیتا ہے یا بے حساب سورج ابھرے اور ڈوب گئے، کچھ شمار نہیں۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ اس مردہ ٹھنڈک میں وقت تھم گیا ہے۔ تمام گھڑیوں کی سوئیاں رک گئی ہیں۔

جھیل کے پانیوں کی ہموار سطح پر لہروں کے دائرے سے نمودار ہوتے ہیں۔ پانیوں کے اس خفیف سے تلاطم میں سے منڈیر کا سراب ہولے ہولے ابھرتا ہے اور ساکت ہو جاتا ہے۔ صرف ایک فرق کے ساتھ۔ منڈیر اب ویران پڑی ہے۔ وہ چیل جس پر گمان تھا کہ وہ مامور کر دی گئی ہے اس نے بو سونگھ لی ہے وہاں موجود نہ تھی۔ ڈوب چکی تھی۔

فاختہ اڑان میں تھی۔

وہ تھکاوٹوں کے جہاں کی کلفتوں اور اذیتوں کے پار بے حسی کی ایک کیفیت میں داخل ہو چکی تھی۔ نسل انسانی کی بقا کی خاطر وہ خشکی کا ایک چپہ بھی تلاش نہ کر سکتی تھی، اس کی جستجو اور کاوشیں رائیگاں گئی تھیں۔ لگتا تھا کہ وبا کے پانیوں نے نسل انسانی اور حیوانی کو نگل لیا تھا، ہمیشہ کے لئے اور ان سب کا خون اس کی گردن پر تھا کہ وہ ان کی بقاء کے لیے خشکی تلاش کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ روئے زمین پر کہیں خشکی کے آثار تھے ہی نہیں تو وہ کیسے انہیں تلاش کر سکتی تھی۔

عین اس لمحے جب وہ پانیوں کی جانب گرتی چلی جاتی تھی اور پانی اس کی جانب امڈتے چلے آتے تھے۔ وہ اگرچہ بے اختیار ہو چکی تھی لیکن اس کی انکھیں ابھی اختیار میں تھیں، ان آنکھوں نے دیکھا کہ پانیوں پر معلق دھند میں کچھ ابھرا ہوا ہے، اور فاختہ کی آن آنکھوں میں توانائی کی جتنی بھی رمق تھی وہ مرکوز ہوتی اس شے پر جو ظاہر ہو رہی تھی۔

اور وہاں خشکی تھی۔
ایک منڈیر تھی۔

منڈیر تیزی سے نزدیک آتی جاتی تھی اور جب اس کے درمیان چند لمحوں کا مختصر فاصلہ رہ گیا تو یک دم وہ اس سکت اور قوت کو بروئے کار لائی جو ابھی ابھی اسے عطا ہوئی تھی اور منڈیر کے عین اوپر ایک پل کے لیے معلق سی ہو گئی اور پھر اگلے پل وہ گری نہیں اپنے اختیار میں آچکے نئی حیات کی پھونک سے زندہ ہو چکے بال و پر کو سنبھال کر آرام سے خشکی کے اس ٹکڑے پر اتر گئی جس کی تلاش میں وہ اڑان کی کئی زندگیاں بسر کر چکی تھی۔ بار بار مرنے کو تھی اور ہر بار جی اٹھی تھی۔

فاختہ منڈیر پر ایسے براجمان ہو گئی جیسے یہ اس کا وہ گھونسلا ہو جس میں وہ ازل سے رہتی تھی۔
وہ نسل انسانی کی بقا کی نوید لے کر آئی تھی۔
اس کے تسلسل کی خوش خبری لے کر آئی تھی۔
وہ اس کے منقطع ہونے کی تردید لے کر ائی تھی۔

تصدیق کرنے آئی تھی کہ وبا کے یہ پانی سمٹ جائیں گے، تندور جن میں سے وہ ابلے تھے ان میں واپس دفن ہو جائیں گے۔

فاختہ منڈیر پر بیٹھی تھی اور اس کی چونچ میں خشکی کی ایک نشانی تھی۔ فاختہ منڈیر پر بیٹھی مصنف کو دیکھے جا رہی تھی۔

اور مصنف فاختہ کو تکتا جاتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •