سعودی ولی عہد اور آزادی کا جادو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے ایک سو دس سال پہلے دنیا میں زیادہ تر مملکتوں میں بادشاہت قائم تھی۔ تب دنیا میں اتنی جمہوری حکومتیں تھیں جتنی آج بادشاہتیں ہیں۔ لیکن آج بادشاہتیں دنیا سے مٹتی ہی کیوں چلی جا رہی ہیں اور اگر کہیں قائم بھی ہو رہی ہیں (جیسے شمالی کوریا یا پوتن کا روس یا بیلا روس) تو یہ ملک بھی خود کو شہنشاہیت کیوں نہیں قرار دیتے؟ شمالی کوریا بھی ہر چند سال بعد بڑی دھوم دھام سے انتخابات کیوں کرواتا ہے؟

اس بات کا جواب بڑا آسان بھی ہے اور تھوڑا ٹیڑھا بھی۔ بات یہ ہے کہ پچھلے دو تین سو سال میں مغرب میں جو فلسفہ برآمد ہوا اس نے ہر انسان کو برابر نہیں بلکہ یکساں (جیسے ایک فیکٹری سے نکلی ہوئی بوتلیں ہوتی ہیں ) قرار دیا۔ یعنی فلسفہ جدید کے بہت سے مواخذ میں انسان equal نہیں بلکہ similar ہیں۔ یعنی کالا اور گورا similar ہیں تو مطلب یہ کہ اب کالے کو اپنے آپ کو کمتر بھی نہیں سمجھنا چاہے اور ممتاز بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسی طرح اردو اور انگریزی similar ہیں تو یہ جو علاقوں، موسموں، مذہبوں اور زمان و مکان کے فرق ان زبانوں میں ہیں، ان کو بھلا دینا چاہیے۔ اسی طرح عورت اور مرد بھی similar ہیں تو عورتوں کو بھی ٹینک، جہاز، توپ، ٹائپ رائٹر وغیرہ سب چلانا چاہیے اور جو ان میں فرق ہے (جیسے ماں بننے کی صلاحیت) اسے ان کو بھول جانا چاہیے۔ اس جدید فلسفے نے نسلی امتیازات کو بھی مٹا دیا تو اب گورا کیا، کالا کیا، پیلا کیا، اب شاہی خاندان کیا اور گنگو تیلی کیا؟

دور قدیم میں ہر قوم، ہر ملت، ہر جنس، ہر علاقے کے رہنے والے اپنے آپ کو بالکل الگ رکھتے تھے۔ عورت اور مرد کے لباس سے لے کر بولنے کے انداز تک میں بے حد فرق ہوتا کرتا تھا، مگر دور جدید میں ہر قسم کی تفریق یا تو مٹ چکی یا مٹ رہی ہے۔ اب ہر قسم کی رنگا رنگی بھی ختم ہو رہی ہے۔ اب آپ کا دل چاہے تو دور قدیم کو گالیاں بکیے اور دور جدید کی مدح میں تالیاں پیٹئے۔ یہاں اچھے برے کی بحث ہے ہی نہیں، یہاں تو ہم ایک بنیادی سوال کا جواب طلب کرنے نکلے ہیں کہ آخر یہ بادشاہتوں کی بساط کیوں اس تیزی سے عالمی منظر نامے سے لپٹ گئی؟

جواب: بادشاہت میں جو شاہی خاندان اور شاہی نسل کی تقدیس اور اس کے حکمرانی کے زیادہ اہل ہونے کے جو تصورات تھے وہ سب انسانوں کے بالکل ایک یعنی equal نہیں بلکہ similar ہونے کے تصور سے ٹکرا گئے اور ختم ہو گئے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے جہاں جہاں بادشاہتیں ہیں یا قائم ہوئی ہیں وہ دراصل صحیح معنوں میں جدید معاشرے ہیں ہی نہیں اور جہاں جہاں بادشاہتیں مٹ گئی ہیں وہ جدید ہو گئے ہیں۔ لیکن بعض معاشرے ایسے بھی ہیں جو جدید تو مکمل طور پر ہوئے نہیں لیکن وہاں بادشاہتیں مٹ گئیں جیسے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش۔

بات یہ ہے کہ کئی ملکوں میں ان کی اپنی بادشاہتیں غیر ملکوں کے قبضے سے ختم ہوئیں اور جب یہ قبضے ختم ہوئے تو ان ملکوں میں قومی حکومتیں قائم ہو گئیں اور ان تمام ہی ملکوں میں شاہی خاندان جنم لینے لگے جیسے نہرو خاندان، بھٹو خاندان، مجیب خاندان، شریف خاندان۔ ہر جگہ وہی قدیم نظریہ کہ کوئی خاندان حکومت کے لیے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ان کو ایک نوع کی برتری حاصل ہے۔ یہ تصور ہمارے عوام کے ذہنوں میں اسی قدیم شاہی نظام کے دور سے چلا آ رہا ہے۔

جیسے جیسے معاشرے کی اساسیات اور مبادیات بدل جائیں گی سارے ہی سماجی ادارے بھی اپنی ہیت بدل لیں گے اور لوگوں کے سارے ہی تصورات (جیسے تصور حق، تصور خدا، تصور علم وغیرہ) بدل جائیں گے۔ جب گھر کا ادارہ اپنی شکل مطلقاً بدل لے گا تو کوئی بھی سماجی ادارہ (جیسے بادشاہت) اپنی اصل شکل میں قائم نہیں رہ سکے گا۔

اب سعودی عرب بھی اسی دوراہے پرکھڑا ہے جس پر کبھی دیگر بادشاہتیں کھڑی تھیں۔ یعنی جدیدیت کے اسی سفر پر چلا جائے جس پر ساری قدریں، سارے سماجی ادارے بدل جائیں گے یا نہیں۔ سعودیہ نے جدیدیت کو ”میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو“ کے اصول کے تحت قبول کیا ہے۔ چند سال قبل سعودیہ کے جواں سال ولی عہد نے فرمایا تھا کہ ہم ”دوبارہ“ ایک برداشت سے بھرپور معاشرہ بن رہے ہیں جو ہم ”پہلے“ تھے۔ وہ یہ بات فخر سے کہہ رہے تھے اور اس کا خاص تناظر ان کی نئی پالیسیاں ہیں جن میں مذہبی پولیس کے اختیارات پر لگام ڈالی گئی ہے اور عورتوں کو گاڑی چلانے کی آزادی دی گئی۔

عجیب بات ہے کہ ولی عہد صاحب یہ لفظ ”دوبارہ“ کہہ کر ماضی کے کس دور کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں اور درمیان میں ایسا کون سا دور آیا تھا جب سعودی معاشرہ عدم برداشت اور انتہا پسندی پر مبنی ہو گیا؟ سعودیہ کی تاریخ کوئی ایسا راز تو ہے نہیں کہ جس سے دنیا واقف نہ ہو۔ عربستان میں جب سے ”سعودی“ کا سابقہ جڑا ہے وہ اس سے کم ہی برداشت والا معاشرہ رہا ہے۔ شہزادہ صاحب کے جد بالکل وہی چیز تھے جو آج ابوبکر البغدادی اور داعش ہیں۔

یہ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اور تکفیری عقائد کے ساتھ ایک بغاوت کی صورت میں نجد سے نکلے تھے اور بار بار کی شورشوں کے بعد بالآخر برطانویوں کی مدد سے عربستان کے اس حصے کو ترکوں سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے جس کو سعودی عرب کہا جاتا ہے، ان ہی لوگوں نے سعودیہ کے چپے چپے میں مزارات منہدم کیے جن میں سے بعض خود خلفائے راشدین نے تعمیر کرائے تھے۔ یہ وہ نیا اسلام تھا جس نے پرانے عرب معاشرے کو اس کے رسوم و رواج، اس کے عقائدو نظریات، اس کے رہن سہن الغرض ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

پرانے سماج کو گرانے والے آل سعود اور ان کے ساتھیوں کانعرہ یہی تھا کہ پرانا سماج کفر و شرک و بدعت پر مبنی تھا، پھر جوں جوں دولت تیل کے کالے سیال سے سونے چاندی میں ڈھل کر ان سخت گیر لوگوں کے پاس آنے لگی تو خیموں اور مٹی کے مکانات کی جگہ محل بننے لگے، اونٹوں کی جگہ قیمتی گاڑیاں اور جہاز نظر آنے لگے۔ کلچر کو تو ڈائنامائٹ لگا کر آل سعود اڑا چکے تھے تو اس کی جگہ صرف ایک خلا تھا، اس خلا میں تیزی سے مغربی کلچر نے اپنی جگہ بنا لی جیسے ہمارے معاشرے میں مایوں اور مہندی کو ہندوانہ رسوم کہہ کر مٹانے والے بڑے زور و شور سے ’برائڈل شاور‘ اور بے بی شاور اپنا رہے ہیں۔ بالکل ویسے ہی عثمانی مٹھائیوں کی جگہ مارس چاکلیٹ نے لے لی۔

یہ سب اندرون خانہ ہو رہا تھا اور بیرون خانہ بھی میک ڈونلڈ، KFC اور برگر کنگ اور ہر قسم کے مہنگے برانڈ اس اونٹ چلانے والوں کے دیس میں جگہ بنا رہے تھے۔ مغربی اشیاء تو ایک پیکیج ڈیل ہیں، Nike کے جوتے اور Starbucks کی کافی صرف جوتے اور کافی نہیں ایک پورا لائف اسٹائل ہیں۔ خیر ملک میں ایک نوع کی سختی قائم تھی کیونکہ سعودیہ کے ہونے کی دلیل ہی یہی دی جاتی تھی کہ ترک اقتدار کفر، شرک، بدعت اور غیر شرعی آزادیوں کا دور تھا۔

آج اسی دور کی طرف اشارہ کر کے سعودی ولی عہد یہ فرما رہے ہیں کہ ہم ”دوبارہ“ ایک برداشت سے بھرپور معاشرہ بن رہے ہیں۔ مگر آپ غلط فہمی کا شکار ہیں ولی عہد صاحب۔ آپ وہ معاشرہ نہیں بن رہے جو آپ سلطنت عثمانیہ و عباسیہ یا امیہ کے دور میں تھے۔ آپ وہ بن رہے ہیں جو رومانوف شہنشاہیت کے آخری شاہ نکولس II کے عہد میں روس بن گیا تھا اور آپ کی آزادیوں سے کبھی بھی آپ کی شہنشاہیت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ اب آپ اچانک برطانیہ اور جاپان کی طرح آئینی شہنشائیت بھی نہیں بن سکتے۔

اب آپ دوبارہ سے پہلے کی طرح سخت بھی نہیں بن سکتے۔ یہ آزادی کا اور برابر ی کا جادو سعودیہ کو تو آزاد کر دے گا لیکن آل سعود کے ہاتھوں میں شاید کچھ بھی نہ بچے۔ مگر روس میں جدیدیت لانے والے پیٹرؔ اعظم سے لے کر نکولسؔ تک نہ یہ بات کسی کی سمجھ میں آئی تھی نہ آپ کے آئے گی۔ اس گاڑی میں ریورس گیئر نہیں ہوتا، اس لیے پیشگی الوداع!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •