نوک پا تک کھنچی اداسی کی چادر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی گزر رہی ہے۔ وقت اپنے رواں رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا کہ زندگی کس چیز کا نام ہے؟ جہاں تک اس موضوع پر لوگوں کے تجزیے کا تعلق ہے، تو اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ زندگی ایک چیز، شے یا شخص کا نام نہیں۔ جس نے بھی زندگی کو ایک شے پر محدود کیا تو اس نے ہمیشہ بدلے میں درد و غم پایا۔ زندگی کو ایک مخصوص شے تک محدود رکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ زندگی ایک وسیع پھیلے ہوئے عام تجربوں سے گزرتی ہوئی ایک دریا جیسی ہے۔

اس دریا میں سفر کرنے کے لئے ہم سفر اور منزل تک پہنچنے کے لیے ایک لکڑی کا تختہ درکار ہوتا ہے۔ ساتھ میں زندہ رہنے کے لئے مچھلیوں سے بھی دوستی رکھنی پڑتی ہے۔ انسان نے ہمیشہ مستقبل کو سنوارنے کے لئے اپنے حال کو عذاب بنا دیا اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ وہ جس مستقبل کے لیے سب کچھ کرتا ہے، پھر وہ اس مستقبل کا حصہ بھی رہے یا وہ یہ سفر ادھورا چھوڑ جائے گا۔ ایسے مستقبل کا میں کیا کروں؟ جس کی وجہ سے مجھے اپنا حال ہمیشہ برا لگے۔

میرا تو حال، ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی۔ میں ماضی اور مستقبل پہ یقین نہ رکھنے والا ایک حالات کا باغی ہوں۔ جس سے صرف اپنے حال کی فکر ستاتا ہو۔ معاشرے کا کیا؟ لوگوں کے پاس کہنے کے لیے تو بہت کچھ ہے۔ آخر سب کی زباں پر میرا تذکرہ ہی کیوں؟ میں تو حالات کا مارا ایک بھٹکتا ہوا مسافر ہوں۔ جس کو منزل کا پتہ نہیں، صرف انجان راستوں سے عشق ہو۔ ابد سے ازل تک لوگوں کا یہ طریق رہے گا کہ وہ دوسروں پر ہمیشہ خدا بننے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

آخر کب تک ہم ہر خدا کی پوجا کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم یوں ہی زندگی سے اداس رہیں گے۔ ہر شخص اس حد تک ظالم ہے، جہاں تک اس کی رسائی حاصل ہو۔ بعض اشخاص عدم رسائی کے بنا پر فرشتہ صفت ہے۔ کیا کروں؟ انسان ہوں! سکون کی خواہش دل میں پیدا ہوتا ہے۔ لیکن سکون کیا ہے؟ اور بے چینی کیسے متعارف ہوئی، میں نہیں جانتا۔ میں نے تو زندگی کو دریا قرار دیا تھا۔ پھر کیوں مجھے اس شے میں سکون لگ رہا ہے، جو کہ میرے بے چینی اور بے سکونی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ زندگی چلتے چلتے پھر سے اس شے پہ رکھ سی جاتی ہے۔ معلوم کچھ یوں ہوا کہ ہم حقیقت جانتے ہیں، لیکن اس حقیقت کو ماننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یا پھر ہم انجان بننے کی ایک ناکام کوشش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

میں عمر کہ اس موڑ پہ ہوں، جہاں کئی راستے ملتے ہے۔ تو میں عادتاً نا آشنا راستوں پر سفر کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ بغیر منزل کے راستوں کے سفر کا ابتداء کرتا ہوں۔ آخر نتیجہ کچھ یوں موصول ہوا کہ ابتداء سے انتہا تک اداس ہم رہے۔ پھر بھی خود سے کچھ حد تک محبت ہے کہ میں جی رہا ہوں۔ ورنہ راستوں سے تھکے مسافر کبھی کبھی کہی پہ مستقبل بسرا کر لیتے ہیں اور یادوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •