ڈھول کی تھاپ اور نقارے سے ٹویٹ ٹرینڈ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آواز، لاؤڈ اسپیکر سے ریڈیو، ٹیلی ویژن سے انٹرنیٹ اور پھر فیسبک اور ٹویٹر تک کا سفر طے کرتا انسان۔ زمین کو وسعتوں کو ہیچ کرتا۔ فاصلوں کے میل پتھروں کو حیرت میں ڈالتے ہوئے آج ابلاغیات کی معراج پر قائم۔

فی زمانہ انسان نے یہ تو سیکھ لیا کہ اس کو اپنی آواز اپنے نظریات اور اپنی سوچ کو دنیا کے کس مقام پر کس وقت تک پہنچانا ہے اور خوش قسمتی سے وہ بڑے زور شور سے اس کو پہنچا بھی رہا ہے۔ مگر ہائے رے انسان تم نے یہ نا سیکھا کہ اسی آواز، انہی نظریات کو کس انداز اور کس صداقت سے پہنچانا ہے۔

میں ذکر کر رہا ہوں جدید دنیا کے شعبہ ابلاغیات کا۔ شاید ہی کوئی اور شعبہ موجود ہو جس نے اس تیز رفتاری سے ترقی کی ہو۔ دنیا اس شعبہ میں شب و روز تاروں پہ کمند ڈالنے کی مصداق نظر آتی ہے۔ اللہ کرے یہ شعبہ ہائے جات مزید ترقیاں کرے۔ اس کے فوائد و ثمرات سے کون واقف نہیں۔

بالخصوص ہم جیسے ممالک جو شاید کبھی خود سے اس شعبہ میں اس قدر خود کفیل نہیں ہیں دنیا سے صدیوں پیچھے سفر کر رہے ہوتے لیکن نہیں ماشاء اللہ ہم اس خاص معاملہ میں دنیا سے دو ہاتھ آگے ہیں۔

سوچئیے جس ملک کے باسی ڈوبتے سورج کی سرخی کے گہرا ہونے پر یہ اندازہ لگایا کرتے تھے کہ ضرور کسی شہر میں خون بہا اور ظلم ہوا جو آج آسمان پہ اتنی لالی ہے ان کے ہاتھ سوشل میڈیا جیسا ہتھیار پکڑا دیا گیا۔ ازراہ تفنن ذکر کیا اس پر معذرت لیکن یہ حقیقت ہے کہہ یہ بندر ہاتھ ماچس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور ٹویٹر پہ ہزاروں فیک اکاؤنٹس کی بھرمار ابلاغی جنگ کے نامنہاد مجاہد نفرتوں کے بیوپاری جو اودھم مچا رہے ہیں آخر کو اس کے کچھ ثمرات تو ظاہر ہوں گے۔

معزز قارئین ابلاغیات در اصل ہے کیا؟

کسی خبر کو کسی بات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا۔ اس کے مختلف ذرائع ہیں جن میں سے دو ذرائع ابلاغ عام فہم ورقی ذرائع اور برقی ذرائع۔ ورقی ذرائع میں کتاب اخبار اور خط شامل ہیں اور برقی ذرائع میں ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور جدید دنیا کا انٹرنیٹ۔

یہ دو ذرائع ہیں ٹیکنالوجی کی شکل میں اس شعبہ کا سب سے اہم اور مرکزی ذریعہ ہے انسان، آدمی جسے ہم ابلاغیات کی زبان میں مبلغ کہتے ہیں۔ آج کے دور میں کوئی اینکر کوئی صحافی کوئی کالم نگار اور نیوز کاسٹر تک بھی مبلغ ہی کی جدید شکل ہے۔

جناب قارئین یہ بات بلاشبہ کہی جا سکتی ہے کہ آج کے دن آپ کے پاس لا تعداد ذرائع ہیں جو آپ کی آواز کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ جو آپ کو کہیں بھی پیش آیا واقعہ یا ہوئی بات فوراً آپ کی پہنچ میں دے دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی اتنی ہی جرآت سے کہا جا سکتا ہے کہ اس خبر کو اس نظریہ کو پہنچانے والے لوگ کم یاب ہیں۔ یا یوں کہئیے تو بہتر ہے کہ ایسے لوگ دستیاب نہیں جو حقیقی طور پر مبلغ کے اوصاف پر پورے اترتے ہوں۔

آپ نے محمد علی جناح کا نام سنا ہو گا۔ چھوڑئیے، آپ نیلسن منڈیلا کو جانتے ہیں۔ جانے دیں! آپ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کو جانتے ہیں۔

معزز قارئین لازمی ہے آپ ان تینوں شخصیات کو جانتے ہوں گے۔ یہ تینوں میرے نزدیک ماضی قریب میں بہترین مبلغ تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے نظریات اور موقف میں بڑے سخت کاربند تھے۔ انہوں نے کسی ایک لمحے بھی اپنی فکر میں رتی بھر نرمی نا آنے دی لیکن یہ تینوں بیک وقت اپنے مخالفین میں مقبول بھی تھے۔ مخالفین بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حضرات صرف اپنے موقف کو سخت رکھتے تھے اپنی زبان کو نہیں۔

یہ جب مخالف نظریات رکھنے والے افراد یا جماعت سے بات کرتے تھے تو اپنے دلائل کو مضبوط مگر اپنی زبان اور گفتار کو نرم رکھا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مخالفین بھی نا صرف ان کی بات کو سنتے تھے بلکہ اس پہلو سوچنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ آپ اس پہلو پر غور کیجئیے کہ آج کے موجودہ پاکستان میں بستے تمام لوگ کیا روز اول سے پاکستان کے طلبگار تھے؟ کیا انہوں سے روز اول سے جناح صاحب کے نظریات کو سر تسلیم خم کر لیا تھا؟ ہرگز نہیں۔

جہاں بہت سے لوگ انگریز اور ہندو تسلط اور جبر کے خلاف برسرپیکار تھے وہاں کئی ہزاروں میں ایسے مسلمان شامل تھے جو شب و روز ان کے اوصاف اور پھر برصغیر ایکتا کے معترف اور بے دام مجاہد تھے۔ مگر کیا ہوا جہد مسلسل اور بہترین مبلغی اوصاف سے محمد علی جناح صاحب اور ان کے ساتھی لوگوں کو پے در پے قائل کرتے گئے۔ اور یہ کارواں تھا اس خلوص اور نرم لہجے کا جو آپ نے ہر لمحہ نا صرف قائم رکھی بلکہ اس کو اپنا دستور بنائے رکھا۔

ایسے میں میرے بہت ہی پسندیدہ مبلغ جناب سید جنید غزنوی یاد آ گئے وہ بہترین مفکر اسلام تھے ان کے بیش بہا خطاب میں صرف ان کے لہجے کی چاشنی سے متاثر ہو کر سن گیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے ہمارے مدارس آٹھ آٹھ سال کا درس نظامی بچوں کو صرف یہ سکھانے میں لگا دیتا ہے کہ تم نے مخالف مسالک کو چت کیسے کرنا ہے۔ وہ خوبصورت دین جس سے غیر دین متاثر ہوا کرتے تھے وہ تعلیم جس سے غیر دین مشرف بہ اسلام ہو کر فخر محسوس کیا کرتے تھے وہ اس نہج پر پہنچ گیا ایک فرقہ ایک مسلک دوسرے مسلک کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

جناب قارئین مسئلہ صرف ایک ہے ہمارے مبلغین چاہے سیاست ہو چاہے مذہب ہو اور چاہے معاشرتی مسائل ان کے پرچار کرنے والے ان کو اجاگر کرنے والے معلومات اور دلائل تو بہت لے آئے مگر وہ لہجہ، زبان میں وہ چاشنی نا لا سکے کہ مخالف کو قائل کر سکیں۔ بلکہ ان کے لہجوں نے معاشرت میں وہ ہیجان مچا رکھا ہے کہ رہے اللہ کا نام۔

مولوی اپنے خطاب کا آغاز کفر کے فتوی سے کرتا ہے۔ اور سیاست دان اور سیاسی کارکنان اپنے مخالفین کو اجڈ، جاہل، چور اور غدار کے القاب سے اپنا بیان شروع کرتا ہے۔

ایسے میں مجھ جیسے کئی لوگ بس کھڑے یہ سوچ رہے ہیں کہ بحیثیت قوم بحیثیت ملک ہم دھیرے دھیرے کس کھائی میں گر رہے ہیں۔ کیا یہ سب لوگ جو ایسے خطابات اور ایسے بیانات کی بنیاد رکھ رہے ہیں وہ اس خوف کو محسوس نہیں کرتے۔

میری اور میرے جیسے کئی کمزور افراد جو اس اوقات کے مالک نہیں کہ آپ کی اس بے جا مباحث کو روک سکیں بس دست بدستہ درخواست ضرور کرتے ہیں کہ بس کریں۔

جب ملک معاشی، خارجی، سیاسی اور حتی کہ اخلاقی طور پر بھی اس قدر بحران کا شکار ہو چکا ہو تو اپنے بیانئیے سے مزید اس قوم کو منقسم کر کے وطن کو اس مقام پر نا لائیے کہ جس مقام پر اس کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •