بے بی کا موبائل اور ادھوری فلم


ہدایت کار نے اس بات پر واجبی سی برہمی کا اظہار کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ اب کوئی نئی ہیروئن کاسٹ کرنے کے حق میں تھا؟ شاہنواز نے اس سے فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت مانگا۔ ایک ماہ تک وہ اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا اور بالآخر سنگا پور کے لئے روانہ ہو گیا۔

ایلینور شاہنواز کی لگن سے متاثر ہوئی تاہم اس نے صاف صاف اس احساس جرم کا اظہار کیا جو ایک شادی شدہ آدمی سے تعلق رکھنے پر اس کو کھائے جا رہا تھا۔ ایک طویل بحث کے بعد شاہنواز اسے یہ سمجھانے میں کامیاب ہو گیا کہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں۔

اس نے خوشگوار موڈ میں ہدایت کار حسن کو اس بحالی تعلقات کے بارے میں مطلع کیا اور دسمبر میں شوٹنگ کی حتمی تواریخ طے کرنے کے احکامات جاری کیے۔ شیڈول بن گیا، نومبر کے آخری ہفتے میں ہیروئن کی آمد، نکاح، دسمبر میں شوٹنگ، جنوری میں نوبیاہتا جوڑے کا ہنی مون۔

ہدایت کار حسن جاوید نے کمر کس لی۔ تمام متعلقہ افراد کو حتمی تواریخ بتا دیں گئیں، جس کی دستیابی مشکوک تھی اس کا متبادل تلاش کر لیا گیا۔ ڈیزائنر کو تمام ملبوسات خصوصاً ہیروئن کے جوڑے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات دے دی گئیں۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے موٹے کام اندازے سے ہٹ کر بھی نکل آتے تھے۔

مثلاً ایک دن اسکرپٹ رائٹر، سہیل رانجھا حسن کے پاس آیا۔ دو دن میں اس کی بیٹی کی شادی تھی اور اسے کچھ رقم کی ضرورت تھی۔ حسن نے پروڈیوسر کو کال کی اور ہیروئن سے بات کروانے کو کہا؛ وہ اس کے منتخب ملبوسات کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ پروڈیوسر نے کانفرنس کال پر اس کی ہیروئن سے بات کروائی۔ حسن نے اسے بتایا کہ اس نے پچیس ملبوسات منتخب کیے تھے جب کہ فلم میں زیادہ سے زیادہ بیس ملبوسات زیب تن کرنے کی گنجائش تھی لہذا اسے کوئی سے پانچ لباس رد کرنے ہوں گے۔

ہیروئن نے بچکانہ سی روہانسی آواز میں پوچھا ”کیا واقعی؟“ جس پر پروڈیوسر نے بات کاٹی اور حسن کو جھاڑ پلانے کے انداز میں کہا:

”میڈم نے پنجی ڈریس او۔ کے کیتے نے، تے فلم وچ پنجی ہی لگن گے، پانویں سین ودھا، پانویں گانے، میڈم دے ڈریس فل شاٹ وچ آنے چاہیدیں نیں“

”لیکن پروڈیوسر صاحب، میڈم کے سولو شاٹ پہلے ہی بہت ہیں، ان کی نسبت ہیرو کا سکرین ٹائم کم ہے، اور بڑھا دیں گے تو ہیرو کدھر جائے گا؟“

پروڈیوسر نے چار الفاظ میں اس سوال کا جواب دیا کہ ہیرو کو کدھر جانا چاہیے۔

الغرض، طے یہ ہوا کہ اسکرپٹ میں کچھ تبدیلی کر کے ایسے سیکیوئنس شامل کیے جائیں گے جن میں ہیروئن اپنے اضافی ملبوسات پہن سکے اور اس کے لئے اسکرپٹ رائٹر کے ساتھ ایک عدد نشست رکھی جائے گی۔ حسن نے پروڈیوسر سے دو چار گالیاں کھا کر ایک غریب کی مشکل حل کر دی تھی۔ ایسے موقعوں پر وہ سوچا کرتا تھا کہ کیا اس کا شمار بھی عبدالستار ایدھی، مدر ٹریسا اور دیگر ایسی شخصیات میں ہونا چاہیے؟

خدا خدا کر کے نومبر کے آخری ہفتے کی وہ شام آ گئی جس نے شاہنواز کو بیک وقت شدت انتظار سیبے چین، اور کچھ خوفزہ بھی، کر رکھا تھا۔ یہ تقریب جو قدرے خفیہ تھی شاہنواز کے ایک قریبی دوست کے گھر منعقد ہو رہی تھی۔ ایلینور مشرقی لباس میں نہایت پر وقار مگر اپنی عمر سے کچھ بڑی لگ رہی تھی۔ شاہنواز سادہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا اور ایک دوست کے مشورے پر گلے میں گلاب کا ایک ہار پہنے بیٹھا تھا۔

حسن اس تقریب میں مدعو تھا تاہم اس کی چھٹی حس نے اسے متوقع ذلالت سے بچا لیا۔ اسے رات گئے سارے ماجرے کی تفصیلات ملیں۔ شاہنواز کی پہلی بیوی نے اپنے باپ اور بھائیوں سمیت دھاوا بول دیا تھا۔ تاجر برادری کے سابقہ صدر، اس زیرک بڈھے اور اس کے بیٹوں کے سامنے شاہنواز ڈھے گیا۔ ایلینور جہاں سے آئی تھی، لوٹ گئی۔

حسن جان چکا تھا کہ آخری ضرب پڑ چکی ہے۔ ایک غیر ملکی حسینہ اور ایک شادی شدہ تاجر کی اتفاقیہ ملاقات کے نتیجے میں جو میلہ سا سجا تھا، اس کا خیمہ اب اکھاڑا جا چکا تھا۔

اتمام حجت کے لئے اس نے اگلی صبح شاہنواز سے ملنے کا ٖفیصلہ کیا۔
شاہنواز اپنے آبائی گھر میں موجود تھا۔
”اب کیا کرنا ہے؟“ حسن نے نا امیدی سے پوچھا۔
شاہنواز کا جواب دو الفاظ پر مشتمل تھا۔

حسن خاموشی سے باہر آ گیا اور پیدل چلنے لگا۔ ایک دو رکشے اس کے پاس آ کر رکے مگر اس کی عدم دلچسپی دیکھ کر آگے بڑھ گئے۔ بہت برسوں کے بعد آج وہ پیدل چلنا چاہ رہا تھا۔ کتنی ہی معیاری فلموں کے منصوبے اس نے ایسی چہل قدمیوں کے دوران بنے تھے۔ وہ سردیوں میں اپنا منہ مفلر میں لپیٹ لیتا، اور اگر گرمیاں ہوتی تو ہیٹ کا چھجا نیچے کر لیتا تاکہ کوئی مداح اس عمل میں مخل نہ ہو۔ مگر اب ایسے جتن کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ نئی نسل کے کم ہی لوگ اسے پہچانتے تھے اور اس سے بھی کم اسے روک کر آٹوگراف لینے کی خواہش رکھتے تھے۔

پھر بھی، ایک نوجوان نے اسے پہچان کر اس کے ساتھ فوٹو لینے کی درخواست کی جسے اس نے خوش گوار حیرت کے ساتھ قبول کر لیا۔ سیلفی لیتے وقت حسن کی نظر موبائل اسکرین مپر منعکس عقب کے منظر پر ٹھہر گئی۔ ان کے پیچھے ایک فوٹو اسٹوڈیو تھا جس کے شو کیس میں ایک قدیم ٹیلیفون اور ایک پرانا کیمرہ بطور نوادرات رکھے ہوئے تھے۔ اس نے سوچا کیا پرانی چیزوں کو عزت تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب وہ ریٹائر ہوجائیں؟ اپنے استعمال کے آخری ایام میں اس ڈائل نے کتنے تھپڑ اپنے مالک سے کھائیں ہوں گے، اس کیمرے نے کتنی پھبتیاں اپنی دھندلی تصویروں پر برداشت کی ہوں گی۔

کیا مدہم ہوتی روشنیاں کسی کو عزیز نہ تھیں؟

وہ چلتا رہا، یہاں تک اس کہ اس کا گزر اک مانوس محلے سے ہوا۔ اس تنگ و تاریک گلی کے مکان اس کے احسانوں کے بوجھ تلے دبے دبے سے نظر آتے تھے۔ ان دریچوں سے جھولتے کتنے لڑکپن اس کے سہارے عالیشان کوٹھیوں میں بالغ ہوئے تھے۔ ان گلیوں میں بھٹکتی کتنی بے قابو جوانیاں حسن کی مہربانیوں کے سبب اب باوقار بڑھاپے کی جانب گامزن تھیں۔ مگر اب وقت بدل چکا تھا۔ اب ان مکانوں میں غمزے سے نابلد، بے فن لڑکیاں مقیم تھیں۔ اس نسل کے خواب بہت چھوٹے تھے۔ وہ ٹک ٹاک اور فیس بک کے لائکس پر ہی خوش تھیں اور انہیں کے لئے ہلکان ہوئی رہتی تھیں۔ واقعی وقت بدل چکا تھا۔

وہ یادوں میں منہ چھپائے اس گلی سے گزر جاتا کہ ایک جانی پہچانی آواز نے اس کا راستہ روکا۔
”ماسٹر ٹی ٹو؟“

ماسٹر ٹی ٹو حسن سے نہایت عقیدت سے ملا یہاں تک کہ اسے سڑک تک کھینچ لایا تاکہ وہ اس کو اپنی گاڑی میں لفٹ دے سکے۔ حسن کی ٹانگیں بھی اب دکھن محسوس کر رہی تھیں چنانچہ اس نے لٖفٹ قبول کر لی۔ ماسٹر ٹی ٹو نے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی۔

” پنجاں منٹاں دا کم اے، بے بی نو موبائل پھڑانا اے“ ، ماسٹر ٹی ٹو نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔

بے بی محلے کی مشترکہ بیٹوں میں سے ایک تھی اور اس ہوٹل میں کسی کے ساتھ ڈنر کر رہی تھی۔ اس ہوٹل سے حسن کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں۔ وہ وہاں کتنی محافل منعقد کروا چکا تھا، کتنی دعوتیں دے چکا تھا۔ ہوٹل کے ایک پرانے ملازم نے اسے پہچان لیا اور نہایت اشتیاق سے اس کی جانب بڑھا۔ حسن گاڑی سے اتر کر اس سے ملا۔ پھر نہ جانے اسے کیا سوجھی کہ ہوٹل کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ لابی تک پہچا تھا جب ماسٹر ٹی ٹو ڈائننگ ہال سے بھاگتا ہوا آیا اور بہت اصرار کر کے بے بی کی ٹیبل تک لے گیا، جہاں وہ ایک نو دولتیے کے ساتھ موجود تھی۔

حسن بے بی کو نہیں جانتا تھا مگر وہ اس کی مداح تھی۔ جس خلوص سے بے بی اور نو دولتیے نے اس کو دعوت دی، اسے بیٹھنا ہی پڑا۔

آگے کی گفتگو مخصوص ڈگر پر چلنے لگی، خصوصاً نو دولتیے کے سوالات۔

فلم انڈسٹری کا کیا حال ہے؟ سنا ہے اب پھر سے اٹھان بھر رہی ہے؟ آپ ان دنوں کوئی فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ نہیں جی مجھے تو کچھ زیادہ نہیں پتا بس بے بی کے ساتھ دیکھ لیتا ہوں۔ ویسے ایک فلم بنانے میں کتنے پیسے لگ جاتے ہیں؟

حسن نے اس کے سوالوں کا شافی جواب دیا:

”ہاں ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہوں۔ کہانی مکمل ہے، دو ایکٹ لکھے جا چکے ہیں۔ دو گانے ریکارڈ ہوچکے ہیں اور سپورٹنگ کاسٹ مکمل ہے، ہیرو بھی ہے ایک نظر میں اس کا فائنل سکرین ٹیسٹ لینا ہے۔ ایک دو سرمایہ کار تیار ہیں ان میں سے کسی ایک کو فائنل کرنا ہے۔“

”اور ہیروئن؟“ بے بی نے پوچھا۔
”ایک نئے چہرے کی تلاش ہے۔“
بے بی کا چہرہ دمک اٹھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2