پولیس ہے یا کلنک کا ٹیکہ


پولیس کے چندناہنجار اہلکاروں نے اسلام آباد کے نواح میں ایک نوجوان اسامہ کی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کی۔چند لمحوں میں ایک ہنستے مسکراتے چراغ کو ہمیشہ کے لیے گل کردیا۔یہ حرکت ان کے خاندان اور پولیس کے محکمے کے ماتھے پر رہتی دنیا تک کلنک کا ٹیکہ بنی رہے گی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ایک روز قبل نوجوان اسامہ کی پولیس سے معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی جس کا بدلے پولیس اہلکاروں نے اسے قتل کرکے لیا۔اس لرزہ خیر واقعے نے پورے ملک پر لرزہ طاری کردیا۔ معمولی تلخ کلامی یا غلطی پر کسی بھی شخص کو گولیوں سے بھون دینا محض ایک اتفاق یا حادثہ نہیں کہ اسے نظر انداز کردیا جائے۔ ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔سانحہ ساہیوال اور ماڈل ٹاؤن لاہور کے کرب انگیز مناظر ابھی حافظے کی سکرین سے پوری طرح محونہیں ہوئے تھے کہ ایک اور تکلیف دہ واقعہ رونماہوا۔

اسلام آباد پولیس کے ان اہلکاروں کو عبرت ناک سزا ضرور ملے گی۔ انشا اللہ۔ یہ موقع ہے کہ پولیس کے اس طرز عمل کے بارے میں زیادہ گہرائی کے ساتھ غورکیا جائے کہ آخر پولیس کو کیا بیماری لاحق ہے کہ وہ شہریوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتی ہے اور پھر بے غم سوتی بھی ہے۔ چوک چوراہے پر مخلوق خدا کی تذلیل کرتی ہے۔ تھانے اور کچہری کا رخ کرتے ہوئے شہریوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔میری نظر میں بنیادی وجہ یہ ہے کہ پولیس کی بنیاد ہی سروس فراہم کرنے والے ادارے کی نہیں بلکہ کنٹرول کرنے، حکم چلانے اور شہریوں پر خوف طاری کرنے والے ایک ادارے کی ہے۔

قدیم بادشاہوں، راجوں مہاراجوں یا پھر فرنگیوں کے عہد غلامی میںیہ طرزعمل روا تھا لیکن اب نہیں۔ آزادی کے مابعد پولیس کی تشکیل نو کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ فرنگی قیام پاکستان کے بعد منظر سے غائب ہوگئے لیکن ان کے پیروکاروںنے ملک کی زمام کار سنبھال لی۔انہوں نے بھی پولیس کے استعماری استعمال کے تسلسل کو جاری وساری رکھا۔ جنرل محمد ایوب خان او ربعدازاں جنرل محمد یحیٰ خان نے اقتدار سنبھال لیا جنہیں جمہور کی تائید حاصل نہ تھی۔

پولیس اور فوج کو ان دونوں حکمرانوں نے شہریوں کو کنٹرول کرنے اور اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ عوامی تائیدسے برسر اقتدار آئے لیکن انہوںنے آمروں سے بھی بڑھ کر پولیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ سیاسی مخالفین کوزدوکوب کیا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے ایک ایسا ادارہ بنایا جس کا مقصد ہی سیاسی مخالفین کو خوف زدہ کرنااوران کی عزتیں اچھالنا تھا۔افسوس! سات دہائیاں گزرنے کے باوجودپرنالہ وہیں گررہاہے۔ پولیس میں اصلاحات کے موضوع پر درجنوں کمیشن بنے۔ کتابیں رقم ہوئیں۔

سیمینار ز ہوئے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی جوہری تبدیلی نہ آئی۔ پولیس آج بھی خوف ودہشت کی علامت ہے۔ریاست کے ایک اہم ستون کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی جاسکی اور نہ ہی ضروری وسائل فراہم کیے گئے۔پولیس اصلاحات نہ ہونے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود حکمران بنتے رہے۔ وہ پولیس کو جیسے کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ۔پولیس ریفارمز کرنے کے لیے جس سیاسی عزم کی ضرورت تھی وہ ان میں نہ تھا۔اگر یہ عزم ہوتا تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں سر جوڑ کر بیٹھ جاتیں۔

مسلسل تربیت، معیاری بھرتی اور کڑے احتساب کے اصولوں کی بنیاد پر پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرسکتیں تھیں۔ پولیس افسران بتاتے ہیں کہ ان کے محکمے میں ہونے والے تبادلے اور ترقی کا معیار عمومی طور پر کارکردگی اور میرٹ نہیں بلکہ سیاستدانوں اور اعلیٰ افسران کی خوشنودی اور ذاتی پسند نہ پسند ہوتاہے۔فوج یا اور کوئی ادارہ ملازمین بھرتی کرتے وقت سو طرح کے ٹیسٹ لیتاہے۔ ترقی کے لیے بے شمار مسابقتی امتحانات سے گزرنا پڑتاہے۔ اس کے برعکس پولیس کے اندریہ نظام زیادہ موثر نہیںبنایاگیا۔

پولیس کے پاس معیاری تربیتی اداروں کی بھی کمی ہے۔ جو ہیں ان میں دماغ کے بجائے طاقت کے استعمال کے اسرار رموز زیادہ سیکھائے جاتے ہیں۔ادارے کے اندر پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی معیار کے پیمانے ازبر کرانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ پولیس ریفارمز موجودہ حکومت کی کلیدی ترجیحات کا ایک اہم جزو ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پولیس ریفارمز پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے ۔فوجداری نظام کے اندر جس اصلاح کی ضرورت ہے اسے بھی بلاتاخیر عمل میں لایا جائے۔پاکستانی عوام کبھی بھی پولیس کو ایک پیشہ ور تنظیم کے طور پر قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ حقیقی معنوں میں بدل نہیں جاتی۔

پولیس ریفارمز کے لیے پاکستا ن کو بین الاقوامی اداروں کی مدد کی بھی ضرورت ہے ۔جن کے پاس طویل تحربہ اور فنی مہارت ہے۔آج کے زمانے میں روایتی آلات کے برعکس جدید ٹکنالوجی سے لیس پولیس زیادہ کارگر اور برق رفتار ہوتی ہے۔ دوست ملک اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پاکستان کو پولیس ریفارمز میں مدد دینے کے لیے مائل بہ کرم ہیں لیکن کوئی سائل ہی نہیں۔ اسامہ کے قاتل انشا اللہ ضرور کیفرکردار تک پہنچیں گے لیکن یاد رہے کہ پولیس ریفارمز ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اب مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔

اسامہ کے اندوہناک قتل نے ایک بار پھر موقع عطاکیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس کریں۔ عدالت عالیہ بھی اپنا حصہ ڈالے۔ قومی اتفاق رائے سے پولیس کا ایک ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس پر حکومتوں کے آنے جانے سے کوئی اثر نہ پڑے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 174 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood