نوکری برائے فروخت اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ساکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سب سے پہلے آپ تجمل حسین کیس کے بارے میں مختصر جان لیں۔

فروری 2019 ء میں ایف آئی اے (کو خبر ملی کہ سی ایس ایس کے پیپر فروخت ہو رہے ہیں اور یہ معاملہ کئی برسوں سے جاری ہے جس میں کئی اہم ترین نام ملوث ہیں۔ ابتدائی طور پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر تجمل حسین نقوی کا نام سامنے آیا (تجمل اس وقت پی ایم ایس بھی پاس کر چکا تھا)۔ ایف آئی اے نے لاہور میں واقع تجمل حسین نقوی کے گھر (کچا لائنز روڈ ) پر چھاپہ مارا اور تجمل حسین گرفتار ہو گیا۔  کارروائی ہوئی تو انکشاف ہوا کہ اس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن بلوچستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد حسین مغیری ، پنجاب پریزن ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سپریڈنڈنٹ اویس شریف اور ملتان ریجن کے ٹیکس آفس انسپکٹر سجاد علی ملوث ہیں۔

ایف آئی اے کی کارروائی سے ان مجرمان کے اکاؤنٹس میں سی ایس ایس کے امتحانات سے قبل لاکھوں روپے کی ٹرانزکیشنز کا بھی انکشاف ہوا۔ انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے 18 فروری 2019 ء کو اس خبر کو شائع کیا اور یوں یہ معاملہ پورے ملک میں میڈیا کی زینت بن گیا۔ کچھ دن تک لوگ ایف پی ایس سی اور ملک کے دیگر اہم ترین اداروں کو برا بھلا کہتے رہے اور مجرموں کے خلاف بھی چاج شیٹس تیار ہوئیں لیکن چند ہی ماہ بعد یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب گیا جیسے پاکستان کے کئی اہم اور حساس واقعات قانون کی فائلوں میں مدتوں پہلے دب چکے۔

میں نہیں جانتا کہ پاکستان کے سب سے اہم امتحان سی ایس ایس  کے پرچے بیچنے خریدنے والوں اور اس سال پاس ہونے والے امیدواروں کے ساتھ کیا ہوا اور آج وہ سب لوگ کہاں ہیں۔ مگر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان مجرموں کو عبرت ناک سزا دی گئی ہوتی تو یقیناً آج پنجاب کے اہم ترین ادارے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا یہ حال نہ ہوتا۔

ایک ہفتہ قبل میڈیا سے یہ خبر مجھ تک پہنچی کہ پیپر فروخت ہو رہے ہیں ، مجھے اس پر یقین نہ آیا اور اس کی پڑتال شروع کر دی۔ جوں جوں اس معاملے پر توجہ دیتا گیا، حیران کن خبریں موصول ہونے لگیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، اسسٹنٹ اکاؤنٹ افسر،  اسسٹنٹ اینٹی کرپشن ، لیکچرار کیمسٹری، تاریخ ، ایجوکیشن‘ فزیکل ایجوکیشن سمیت کئی اہم ترین پرچہ جات انتہائی سستے داموں فروخت ہونے کے انکشافات ہونے لگے۔ اس میں نوسرباز بھی اپنی نوسربازی سے لوگوں لوٹتے رہے اور پیپرز کا جھانسا دے کر لاکھوں روپے بٹورتے رہے۔

پی پی ایس سی کی طرف سے امیدواران کے احتجاج کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ اسے بے بنیاد قرار دے کر من پسند ٹی وی چینلز سے اپنی مرضی کے پروگرامز تک نشر کروائے گئے۔ سیکرٹری پی پی ایس سی کی ذاتی اکیڈمی کا ذکر آیا تو وہ اس سے لاتعلق ہو گئے۔ چیئرمین صاحب کی طرف سے بھی ایک واٹس اپ ”وائس نوٹ“ جاری کیا گیا جس میں وہ حلف دینے کو بھی تیار تھے کہ مجھے اس معاملے کا علم تو نہیں مگر پی پی ایس سی کی ایگزام کمیٹی میں کئی لوگ ایسے تھے جن کے خلاف پیپر بیچنے کی خبریں آئی تھیں ۔ میں نے ان کے خلاف کارروائی کی جس پر یہ پراپیگنڈا ہو رہا ہے۔

امیدواران کے مسلسل احتجاج اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود پی پی ایس سی کے سر پر جوں تک نہ رینگی ۔ جب خفیہ ذرائع سے یہ معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن تک پہنچا تو انھوں نے خفیہ ٹیم کے ذریعے مجرموں کو پکڑا،  یہ بات یقیناً زائد ہوگی کہ ٹیم نے کیسے خفیہ کارروائی کی اور کتنی مہارت سے تین دنوں میں یہ معاملہ نمٹا دیا۔

میرا مقصد پی پی ایس سی کے تمام افسران اور ادارے کے تمام لوگوں پر تنقید نہیں مگر میں اس بات سے یقیناً حیران ہوں کہ اس سطح کی کرپشن کہانی سے چیئرمین اور سیکرٹری کیسے بے خبر رہے حالانکہ پیپر بیچنے والا شخص ڈیٹا انٹری آپریٹر تھا جو سکریسی کے لحاظ سے ادارے کی اہم ترین پوسٹ ہے کیونکہ تمام پیپرز چیئرمین کی منظوری کے بعد یہی شخص انٹری کرتا تھا اور کرپشن کہانی کھلنے پر اس کی یو ایس بی سے سابقہ کئی پیپرز بھی برآمد ہو گئے۔

اب اس مسئلے کا حل تو یہ ہے کہ کم از کم گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والے تمام پیپر کالعدم قرار دیے جائیں ، تمام رزلٹس منسوخ کیے جائیں اور ٹیسٹ کا نیا شیڈول جاری کیا جائے تاکہ اس کرپشن کہانی کا ازالہ کیا جا سکے کیونکہ ہزاروں امیدوار نہ صرف عدالت میں رٹ کرنے جا رہے ہیں بلکہ بہت بڑی سطح کا احتجاج بھی ہونے جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد گزشتہ تمام پیپرز کالعدم قرار دلوانا ہے۔

میرے کئی دوست اس وقت پی پی ایس سی اور دیگر پوسٹوں کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھے ، اس واقعے کے بعد درجنوں اسٹوڈنٹس کو روتے  بھی دیکھا جن کا کہنا تھا کہ ”بھائی اگر میرے پاس پانچ یا دس لاکھ نہیں ہے تو کیا میں قابل نہیں؟ اگر میں ایک غریب طالب علم ہوں تو کیا میں اس ملک کا شہری نہیں؟ میرا باپ اگر محنت مزدوری کرتا ہے تو کیا پی پی ایس سی مجھے نوکری نہیں دے گا؟“ یہ وہ سوالات ہیں جو اگرچہ مجھ سے کیے گئے مگر سچ یہ ہے کہ یہ تمام سوالات حاکم وقت سے ہوئے ہیں،  یہ تمام سوالات نوکری دینے والے سب سے اہم اور بڑے اداروں سے کیے گئے ہیں۔

اس ملک کے نوجوانوں کو ایف پی ایس سی اور پی پی ایس سی پر اعتماد تھا کہ یہ ہمارا حق کبھی غصب نہیں ہونے دیں گے مگر آج پاکستان کا غریب پڑھا لکھا نوجوان خالی ہاتھ حیرت کی تصویر بنا کھڑا ہے۔ قارئین! میرے پاس ان سوالوں کا اور نوجوانوں کی حیرت کا خاموشی اور افسوس کے سوا کوئی جواب نہیں کیونکہ آج صرف چار لوگ پکڑے گئے لیکن کیا صرف یہی چار لوگ یہ کام کر رہے تھے؟ یا یہ گینگ کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے ، اس گینگ کے پیچھے کون کون لو گ ہیں اور کون سے بڑے لوگ اس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

ان تمام لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا کیونکہ یہ معاملہ اگر اب بھی دبا دیا گیا تو کم از کم ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ”بیٹا پڑھائی کرو تاکہ تمہیں اچھی نوکری مل سکے اور تم شعور حاصل کر سکو“ ۔ شعور تو شاید اسے آ جائے گا مگر نوکری کیسے ملے گی جب نوکری دینے والے اداروں میں یہ بولی لگ جائے  کہ ”نوکری برائے فروخت“ ہے۔ لہٰذا خدا را اس ملک کے نوجوانوں پہ رحم کیا جائے اور ایف پی ایس سی اور پی پی ایس سی جیسے اہم ترین اور شفاف اداروں کی ساکھ کو بچایا جائے۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •