نادیہ خان کی شادی پر سوشل میڈیا پر بحث: ’یہ معاشرہ نہ طلاق یافتہ عورت کو قبول کرتا ہے، نہ اس کی دوبارہ شادی کو‘

سارہ عتیق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’شادی کرنی ہی نہیں نبھانی بھی پڑتی ہے۔‘

’جب شادی کرنی تھی تو تیسرا بچہ کیوں کیا؟‘

’آخر یہ اس کی کون سے نمبر کی شادی ہے؟‘

یہ ہیں وہ چند فقرے و تبصرے جو پاکستان کی مشہور اداکارہ اور میزبان نادیہ خان کو ان کی شادی کی خبر اور تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کرنے پر دیے گئے۔

مارننگ شوز کی میزبانی سے شہرت حاصل کرنے والی نادیہ خان نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اور یوٹیوب چینل پر جب اپنی تیسری شادی کی خبر اپنے فالورز کے ساتھ شیئر کی تو انھیں بھی معاشرے کے انہی تلخ رویوں کا سامنا کرنا پڑا جو شاید اکثر طلاق یافتہ خواتین کو دوسری یا تیسری شادی کی صورت میں کرنا پڑتا ہے۔

کوئی نادیہ خان سے ان کے سابقہ شوہروں کی تعداد پوچھتا نظر آیا تو کسی نے انھیں اس بات پر شرم دلانے کے کوشش کی کہ انھوں نے اپنے بچوں کی موجودگی میں شادی کی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں شادی عورت کی ’کامیابی‘ کا پیمانہ کیوں

’طلاق یافتہ عورت خوش کیوں نہیں رہ سکتی‘

طلاق کے بعد خود سے پیار کرنا سیکھا

بڑی عمر کی لڑکی سے شادی! ’یہ شادی تو ٹوٹ جائے گی‘

یہ معاشرہ نہ طلاق یافتہ عورت کو قبول کرتا ہے نہ اس کی دوبارہ شادی کو

تاہم طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرنے پر نادیہ خان وہ اکیلی خاتون نہیں جنھیں ان تلخ سوالات، طعنوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

اسلام آباد میں گذشتہ 15 سال سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ آمنہ سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ جب ان کی طلاق ہوئی تو پہلے انھیں اس کا قصور وار ٹھہرایا گیا اور خاندان والوں کی طرح طرح کی باتیں سننی پڑیں اور پھر جب انھوں نے اس سب سے نکلنے کے لیے دوبارہ شادی کا فیصلہ کیا تب بھی انھیں اپنے والدین کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا رہا۔

’طلاق کے وقت میری دو چھوٹی بیٹیاں تھیں۔ اگرچہ میری طلاق کی وجہ میرے شوہر کی زندگی میں آنے والی دوسری عورت تھی پھر بھی شادی کی ناکامی کے لیے مجھے ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ میری پسند کی شادی تھی اور میں ابھی شادی ناکام ہونے کی تکلیف سے نکلی نہیں تھی کہ خاندان والوں کا رویہ میرے لیے ایک اضافی تکلیف کا باعث بن گیا۔ میں نے اپنے آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں مصروف کیا تو اس پر بھی ہر قسم کی روک ٹوک کی گئی اور طعنے دیے گئے۔‘

آمنہ کا کہنا ہے کہ طلاق کے بعد انھیں اپنے اور بچوں کی خرچوں کے لیے کہیں سے مدد نہیں ملی تو طلاق کے چار سال بعد انھوں نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا۔

’میرے والدین چاہتے تھے کہ میں دوسری شادی کا مت سوچوں بلکہ اپنی بیٹیوں کی پرورش پر دھیان دوں۔ لوگوں کی ان سب تلخ باتوں اور رویوں نے مجھے اتنا بیمار کر دیا کہ میری شادی کے دوسرے دن مجھ میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور شاید کینسر کی خبر سن کر میرے والدین نے بلآخر میری دوسری شادی کو قبول کر لیا۔‘

آمنہ کا کہنا ہے کہ معاشرے کے لوگ نہ تو طلاق یافتہ عورت کو اکیلا رہنے دیتے ہیں اور نہ ہی ان کی دوسرے شادی کو قبول کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں سرکاری ملازمت کرنے والی حنا انوار بھی اس نکتے سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی طلاق کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کبھی شادی نہیں کریں گی لیکن لوگوں کے رویوں نے انھیں مجبور کر دیا۔

’لوگ طلاق یافتہ عورت کو مال غنیمت سمجھنے لگتے ہیں۔ اگرچہ میں ایک سینیئر افسر ہوں لیکن پھر بھی طلاق کے بعد میں نے اپنے افسران کا رویہ تبدیل ہوتے دیکھا۔ انھوں نے مجھے دوسرے ممالک کے دوروں کی پیشکش کرنا شروع کر دی۔ چھٹی کے ٹائم کے بعد مجھے فائلوں سمیت اپنے دفتر بلانا شروع کر دیا۔ میں ان سب کا مطلب بخوبی سمجھتی تھی۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں چاہے صرف ایک مرد کا نام لگانے کے لیے ہی صحیح لیکن شادی ضرور کروں گی تاکہ اپنے آپ کو ان لوگوں سے بچا سکوں۔‘

حنا انوار کا کہنا ہے کہ ان کے والدین اور بہن بھائیوں نے ان کے دوسری شادی کے فیصلے کی حمایت کی البتہ جب ان کی دوسری شادی کی خبر ان کے ایک قریبی رشتے دار کو دی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری کر لی ہے دیکھنا اب یہ تیسری بھی کرے گی، میڈونا کا ریکارڈ توڑے گی۔‘

‘معاشرے کا رویہ طلاق یافتہ مرد کے لیے اور عورت کے لیے اور’

حنا اور آمنہ کا کہنا ہے کہ جن معاشرتی رویوں کا سامنا ایک طلاق یافتہ عورت کو کرنا پڑتا ہے مرد کو نہیں کرنا پڑتا۔

حنا کے مطابق اگرچہ ان کے دوسرے شوہر کی بھی ان کے ساتھ دوسری شادی تھی لیکن ان کو اس بات کا طعنہ دیا گیا کہ انھوں نے ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کی ہے۔

’میں ایک نوکری پیشہ خاتون ہوں اور میرے شوہر میرے ساتھ دفتر میں کام کرتے تھے۔ شاید اسی لیے طلاق کے ڈیڑھ سال بعد ہماری شادی ہوگئی لیکن میں سوچتی ہوں کہ اگر میں گھر بیٹھی ہوتی تو جس طرح ہمارے لوگ طلاق یافتہ عورت کو برا سمجھتے ہیں، میری شاید کبھی دوبارہ شادی نہ ہوتی۔ اور شاید اسی لیے ایک گھر بیٹھی طلاق یافتہ عورت کی مشکلات مجھ سے کہیں زیادہ ہوں۔‘

رویہ تبدیل کرنا ہے تو اپنے گھر سے کریں

حنا اور آمنہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رویوں میں کچھ تبدیلی آ رہی ہے لیکن ابھی بھی اس سوچ کو مکمل طور پر بدلنے میں بڑا وقت لگے گا۔

حنا کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے لوگوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ ایک طلاق یافتہ عورت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کس طرح لوگ اسے برائی کے راستے کی طرف لانے پر اکساتے ہیں تو پھر شاید لوگ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں۔

’اصل تبدیلی آپ کے گھر سے شروع ہو گی۔ میرے دو بیٹے ہیں، میں ان کی تربیت ایسی کروں گی کہ وہ ہر عورت کی عزت کریں۔ اس کے علاوہ جب میں اپنے بھائی کے لیے لڑکی تلاش کر رہی تھی تو میں نے اپنے بھائی کے لیے کسی کنواری لڑکی کا رشتہ تلاش کرنے کی بجائے ایک طلاق یافتہ چار بیٹیوں کی ماں سے اس کی شادی کی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17262 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp