مسلم تاریخ کی پہلی خاتون لبرل حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کی تحریر میں بات ہوگی مسلم خاتون حکمران رضیہ سلطانہ کی۔ رضیہ سلطانہ مسلم تاریخ کی پہلی اور آخری خاتون حکمران تھی۔ مسلمانوں کی تاریخ میں بہت کم مواقع ایسے آئے ہیں جب کسی خاتون نے حکمرانی کی ہو، جب بھی مسلمانوں کی تاریخ میں خواتین نے حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجایا ہے تب تب اچھا ہوا ہے۔ رضیہ سلطانہ کو اسلامی تاریخی کی پہلی سیکولر اور لبرل حکمران بھی مانا جاتا ہے۔ رضیہ سلطانہ کی حکمرانی کی تین سال چھ ماہ اور چھ دن حکمران رہی ہیں۔

قطب الدین ایبک نے 1206 میں ہندوستان میں slave dynesty کی بنیاد رکھی تھی۔ slave یا مملوک بنیادی طور پر ترکی کے غلام تھے۔ اس لیے اس dynesty کو turkish dynesty بھی کہا جاتا ہے۔ slave dynesty ہندوستان میں 1206 سے 1290 تک رہی ہے۔ اس dynesty کا دارالحکومت دلی تھا۔ اسی وجہ سے اس سلطنت کو دلی سلطنت بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں نے رضیہ سلطانہ کو لبرل اور سیکولر حکمران کا خطاب دیا ہے۔

ہندوستان میں اس سے پہلے کسی مسلمان خاتون  نے حکمرانی نہیں کی تھی کیونکہ مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت میں خاتون کی حکمرانی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ رضیہ سلطانہ نے اپنے دور میں سیکولر خیالات اور رواج کو اختیار کیا۔ جمہوریت میں خاتون حکمران آ جاتی ہیں لیکن بادشاہت کے نظام میں کسی خاتون کا حکمران بن جانا اپنے آپ میں ایک معجزہ ہے۔ ایک شاندار اور باصلاحیت حکمران بننے کے لیے جتنی خصوصیات ہونی چاہیے وہ سب کچھ رضیہ سلطانہ میں تھی۔ رضیہ سلطانہ 1236 سے لے کر 1240 تک ہندوستان کی حکمران رہی۔ 1240 میں رضیہ سلطانہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ 10 نومبر 1236 کو ان کے سر بادشاہت کا تاج سجایا گیا تھا۔

کہاجاتا ہے کہ اپنے دور حکومت میں رضیہ سلطانہ نے پردہ سسٹم کو ختم کر دیا تھا اس لیے کٹر ملا ان کے خلاف ہو گئے تھے اور رضیہ سلطانہ کا یہی فیصلہ ان کی موت کا سبب بھی بنا۔ رضیہ سلطانہ نے اپنے دور میں صنفی مساوات کرنے کی کوشش کی تھی۔ رضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئی۔ قطب الدین ایبک ان کے نانا تھے۔ قطب الدین ایبک کی ایک بیٹی تھی جن کا نام قطب بیگم تھا۔ قطب بیگم کی شادی ترک غلام التتمش سے ہوئی۔

رضیہ سلطانہ ترک غلام التتمش کی بیٹی تھی۔ التتمش ایک قابل فوجی کمانڈر تھا اس لیے قطب الدین ایبک نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرا دی۔ رضیہ سلطانہ کا ایک بھائی بھی تھا جس کا نام ناصرالدین محمود تھا جبکہ کچھ سوتیلے بہن بھائی بھی تھے۔ 1229 میں ناصرالدین محمود کو ایک سازش کے ذریعے قتل کرا دیا گیا تھا۔ رضیہ سلطانہ کے دو سوتیلے بھائی تھے جس میں ایک کا نام تھا رکن الدین فیروز اور دوسرے کا نام تھا معزالدین بہرام۔

التتمش کے بعد کچھ عرصے کے لیے رکن الدین حکمران رہا اور جب رضیہ سلطانہ کو قتل کر دیا گیا تو اس کے بعد بہرام کو حکمران بنایا گیا۔ رضیہ سلطانہ پردہ نہیں کرتی تھی۔ بے خوف، آزاد خیال اور نڈر خاتون تھی۔ شروع میں ہی ان کی تربیت عام مسلمان خواتین سے ہٹ کر کی گئی تھی۔ رضیہ سلطانہ التتمش کی فیورٹ تھی اور بہت ذہین اور بہادر خاتون تھی۔ رضیہ سلطانہ کو تلوار بازی آتی تھی اس کے علاوہ بہترین گھڑ سواری تھی۔ وہ تمام صلاحیتیں جو ایک مرد حکمران میں ہونی چاہییں وہ ساری خصوصیات رضیہ سلطانہ میں تھیں۔

رضیہ سلطانہ ابھی پانچ سال کی تھی جب قطب الدین ایبک انتقال کر گئے۔ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ التتمش نے کچھ عرصے کے لیے حکمرانی چھوڑ دی اور اپنی جگہ رضیہ سلطانہ کو حکمران بنا دیا۔ 1229 میں جب رضیہ سلطانہ کے بھائی ناصرالدین انتقال کر گئے تو ان کی جگہ رضیہ سلطانہ کے سوتیلے بھائی رکن الدین فیروز کو دلی سلطنت کا حکمران بنا دیا گیا۔ رکن الدین ایک نا اہل حکمران ثابت ہوا۔ اس وقت تک 1236 میں التتمش بھی انتقال کر گئے تھے۔

رکن الدین عیاش تھا اور ہر وقت بدمست رہتا تھا۔ اسی نا اہلی کی وجہ سے رکن الدین اور ان کی بیوی شاہ ترکان کو قتل کر دیا گیا۔ رکن الدین اور ان کی بیوی شاہ ترکان نے صرف چھ ماہ حکمرانی کی۔ اس کے بعد 1236 میں رضیہ سلطانہ کے سر پر حکمرانی کا تاج سجا۔ اس وقت بہت سارے اعلیٰ حکام اور ملا طبقے نے کہا کہ وہ کسی خاتون کی حکمرانی تسلیم نہیں کریں گے لیکن طبقہ اشرافیہ رضیہ سلطانہ کو ہی حکمران دیکھنا چاہتا تھا، اسی وجہ سے وہ دلی سلطنت کی سلطان بن گئی۔

جب انہیں رضیہ سلطانہ کہا گیا تو اس  نے کہا وہ سلطانہ نہیں سلطان ہیں۔ کسی قسم کی بے انصافی کو وہ نہیں مانتی۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو رضیہ سلطان کہتی تھی لیکن تاریخ دانوں نے انہیں رضیہ سلطانہ بھی لکھا ہے۔ رضیہ سلطانہ آرٹ و کلچر کی دلدادہ تھی۔ آرٹ ثقافت اور خواتین کی آزادی کے حوالے سے رضیہ سلطانہ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ بہت تعلیم یافتہ تھیں اس لیے انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت زیادہ تعلیمی درسگاہیں بنوائیں۔

رضیہ سلطانہ کے دور میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری و سائنس کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اپنے دور میں رضیہ سلطانہ نے غیر مسلموں پر ٹیکس ختم کیا۔ اپنے دور میں ہر روز رضیہ سلطانہ ایک کھلا دربار سجاتی تھی اور عوام کے مسائل خود سنتی تھی۔ یہ جو سب کام وہ کر رہی تھی اسی وجہ سے ان کے دشمن بھی بہت تھے۔ اب ایک ایسی حکمران جنہیں عوام پسند کرتے تھے ، سوال یہ کہ ان کا دور حکومت بہت کم کیوں رہا؟ سب سے اہم بات یہ تھی کہ خاتون تھیں، اسی وجہ سے مسلمان اشرافیہ اور ملا ان کے خلاف تھے اور یہ ملا طبقے کو پسند بھی نہیں کرتی تھیں۔

رضیہ سلطانہ کی ایڈمنسٹریشن میں ترکش چیف تھے جو انہیں پسند نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ یہ کہتے رہتے تھے کہ کیسے وہ ایک خاتون کو اپنا حکمران مانیں۔ رضیہ سلطانہ بہت سخت مزاج حکمران تھی جو بھی ان کے خلاف ہوتا وہ ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اور کسی قسم کی نرمی اختیار نہ کی جس کی وجہ سے ان کے مخالفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اس دور میں بھاٹنڈرا کا گورنر اختیارالدین التونیا تھا۔ یہ رضیہ سلطانہ کا بچپن کا دوست تھا اور رضیہ سلطانہ سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن رضیہ سلطانہ کو اس دور میں ایک غلام ترک جمیل الدین یعقوب سے محبت ہو گئی اور وہ اسی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ التونیا رضیہ کے خلاف ہو گیا کہ کیسے وہ ایک غلام سے محبت کر سکتی ہیں۔ اب رضیہ کے سوتیلے بھائی بہرام اور التونیا نے رضیہ سلطانہ کے خلاف سازش کی۔ رضیہ سلطانہ اور یعقوب نے منصوبہ بنایا کہ اگر وہ التونیا کو شکست دے دیں تو بغاوتیں کچلی جا سکتی ہیں۔

کچھ عرصے بعد التونیا اور رضیہ سلطانہ کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رضیہ سلطانہ کو شکست ہو گئی۔ التونیا نے یعقوب کو قتل کرادیا اور رضیہ سلطانہ کو بھاٹنڈرا کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ التونیا نے بعد میں رضیہ سلطانہ سے طاقت کے زور پر بغیر اس کی مرضی سے شادی کر لی۔ شادی کے فوری بعد ہی رضیہ سلطانہ کو قتل کر دیا گیا۔ اکتوبر 1240 میں رضیہ سلطانہ کو قتل کی گیا تھا۔ رضیہ سلطانہ کا دور حکومت بہت کم رہا لیکن مورخین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ وہ ایک بہترین اور قابل ایڈمنسٹریٹر تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر رضیہ سلطانہ لمبے عرصے تک ہندوستان پر حکومت کرتی تو آج ہندوستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

Latest posts by اجمل شبیر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •