غیر پیداواری ہجوم کے ساتھ تبدیلی کا خواب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2020ء دنیا کے لیے تکلیف دہ آزمائش کا سال تھا۔ کووڈ 19 وائرس پوری دنیا میں سات کروڑ سے اوپر جانیں لے گیا۔ یہ تعداد پاکستان میں دس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ہماری خواہش اور دلی تمنا ہے کہ نیا سال عالم انسانیت کے لیے سلامتی، خوشیاں اور امن لائے۔

پاکستان کے عوام کا تبدیلی ترقی اور خوشحالی کا خواب مستقبل قریب میں شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں میں اس کی آبادی کے اہم ترین حصے کو غیر پیداواری اور بے عمل رکھا گیا ہے اور یہ اہم طبقہ خواتین کا ہے۔ جن کی گود میں قوم کی اگلی نسل تیار ہوتی ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق، پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ تیس لاکھ ہے۔ اس آبادی کا تقریباً نصف حصہ ( 48 فیصد) خواتین پر مشتمل ہے۔

ملک کی بدقسمتی ہے کہ خواتین کی کل تعداد کا بمشکل 25 فیصد کسی معاشی سرگرمی میں حصہ لے پاتا ہے۔ باقی 75 فیصد خواتین امور خانہ داری جس میں سب سے ضروری کام شادی کر کے بچے پیدا کرنا سمجھا جاتا ہے۔ ہمہ تن مشغول و مصروف ہیں اور 2.5 فی صد شرح نمو کی رفتار سے آبادی میں مسلسل اضافہ کرنے کی خدمت سر انجام دے رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں تبدیلی، ترقی اور خوش حالی کی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک نے ترقی یافتہ، امن پسند اور خوشحال بننے کے لیے جہاں اپنی آبادیوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے محنت کرنے پر لگایا۔ وہاں ایسا کرتے وقت انھوں نے مذکر اور مونث کی تمیز نہیں برتی۔ انھوں نے قدیم اور بوسیدہ روایات سے چپکے رہنے کی بجائے ان کو ایک طرف کر کے سائنسی طرز فکر اپنایا۔

ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کسی پیداواری پیشے سے منسلک خواتین کے اعداد و شمار کی تصویر بہت دلچسپ ہے۔ مثال کے طور پر ورکنگ وومن کا تناسب ایران میں 15 فیصد، ترکی میں 29 فیصد، افغانستان میں 22 فیصد ، یو اے ای میں 18 فیصد، سعودی عرب میں 28 فیصد، بنگلا دیش میں 37 فیصد، ہندوستان میں 30 فیصد ہے جبکہ یہی تناسب، آئس لینڈ 88 میں فیصد، فن لینڈ میں 72 فیصد، نیوزی لینڈ میں۔ 8 68 فی صد، ملائیشیا میں 51.9 فیصد، ناروے میں 65.1 فیصد اور کینیڈا میں 61.4 فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں اکثر خواتین مواصلات، کھیل، تعلیم اور شعبۂ طب سے لے کر لڑاکا فوج، ٹرک ڈرائیوری، ہوا بازی اور خلا نوردی جیسے مشکل شمار ہونے والے شعبوں تک سے منسلک ہیں۔

پوری دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں سے جو قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے ہیں یعنی (ترقی یافتہ ممالک ) میں خواتین کی ملکی معاشیات کے عمل میں شمولیت 45 فی صد یا اس سے بلند ہے۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں خواتین کی ترقی کے سفر میں شمولیت کی شرح 40 فی صد سے نیچے ہے اور ان ممالک میں تقریباً تمام مسلم ممالک بشمول ترکی شامل ہیں۔

شرم و حیا اور عزت و عفت کے انوکھے معیار مسلم معاشروں میں سکہ رائج الوقت ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی عورتوں کی آبادی کی صلاحیتیں مسخ ہو کر رہ گئی ہیں۔ معاشی عمل میں شمولیت تو دور کی بات ہے۔ عورت کو اپنی مرضی سے سانس لینے، اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کر کے اپنی مرضی کا پیشہ یا جیون ساتھی چننے تک کی اجازت نہیں۔ حتیٰ کہ مذہبی اجتماعات، عیدین اور جمعے کی نماز ادا کرنے کے لیے بھی مساجد میں بھی خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے بھی شر پھیلنے کا خطرہ ہے۔

اگر ہم  نے من حیث القوم باقی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے، اپنے ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانی ہے اور ایک خوشحال قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرنا ہے تو ہمیں خواتین کی 75 فی صد مفلوج، جامد اور غیر پیداواری آبادی کو مرکزی قومی دھارے میں لانے کے لیے ان کو تعلیم کی دولت سے آراستہ کر کے معاشی عمل میں شامل کرنا ہو گا۔ بوسیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور منافقانہ طرز زندگی کا خاتمہ کر کے ہمیں مخلوط تعلیمی نظام کو نمو دینی ہو گی۔

ہمیں قدیم ثقافتی روایات اور خود ساختہ مذہبی تاریخ کے رومانس سے نکل کر وقت کے تقاضوں کے مطابق طرز زندگی اپنانا ہوگا۔ جدید تعلیم کا حصول عام آدمی کی دسترس میں لانے کے لیے تعلیم کے لیے مخصوص بجٹ کا حصہ 2.3 فیصد سے بڑھا کر کم ازکم 7 فیصد کرنا ہو گا۔ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کی مفت تعلیم کا بندوبست کرنا ہوگا اور تعلیم اور روزگار کے مواقع دیتے وقت صنفی امتیاز کو ختم کرنا ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ پروفیشنل خواتین کے گھروں کے اندر، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران اور کام کی جگہ پر حفاظتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ خواتین کو ہراساں کرنے کا تدارک کرنے والی تمام قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہو گا۔ پاکستان کی خواتین کی پچھتر فی صد غیر پیداواری آبادی کو مرکزی معاشی دھارے میں لائے بغیر تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •