جھوٹ نگر اور عزت کا سورج  گرہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ہوں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر یا خود جناب وزیر اعظم عمران خان۔ نواز شریف کی واپسی کے معاملے میں ان عالی دماغوں کی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ عمران خان نے فرمایا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو کہیں گے اور نواز شریف کو بازو سے پکڑ لائیں گے۔ شیخ رشید اورشہزاد اکبر فرماتے ہیں کہ نواز شریف کا پاسپورٹ سولہ فروری کو ختم ہو رہا ہے جس کے بعد انہیں نیا پاسپورٹ جاری ہی نہیں کیا جائے گا جس کے بعد ان کی کہانی ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ کہیں جا نہیں سکیں گے، ان کی شہریت ہی ختم ہو جائے گی، وہ سٹیٹ لیس بن جائیں گے جس کے بعد برطانیہ بھی حیران پریشان ہو کر انہیں واپس پاکستان کے حوالے کر سکتا ہے۔

عرض ہے کہ یہ بچوں کی کہانیاں، پریوں کی داستانیں سنانے والے سرکس میں کام نہیں کرتے یہ لوگ پاکستان کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ مذاکرات ہوں یا علمی، سیاسی بحث ہو عام طور پر یہ اپنے اپنے نکتہ نظر کی تبلیغ کے لئے ہوتی ہے دو فریق ایک ہی مسئلے کو اپنے انداز میں دیکھ کر اس کا وہ حل بتاتے ہیں جو ان کی نظر میں درست ہوتا ہے۔ ایسی بحث میں دلیل اور حقائق کو سامنے رکھ کر دونوں فریق، عوام کی رائے اور حمایت کے طلب گار رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں، اپنے نزدیک مسائل کے درست حل کو منشور کی شکل میں عوام کے سامنے رکھتی ہیں اور عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے لئے کس کے پیش کردہ نسخے کو قابل عمل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح کسی درسگاہ میں علمی مباحث ہوں یا عوام کے منتخب کردہ ایوان ہوں، وہاں بھی حقائق اور دلیل کی بنیاد پر گفتگو ہوتی ہے، اپوزیشن، حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے حقائق، ثبوت اور دلیل کی بنیاد پر سوال اٹھاتی ہے جس کا جواب حکومت کو انہی حقائق پر اپنے دلائل سے دینا ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اوپر لکھی کتابی باتیں وہیں سمجھ آتی ہیں جہاں ایسا کتابوں سے باہر اصل دنیا میں ہوتا بھی ہو۔ ہمارے طلسم کدہ میں یہ باتیں اجنبی سی لگنے لگی ہیں۔ یہاں حقیقت کو اپنے انداز میں بیان کرنے کا تصور ہی ختم ہو چلا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک مسئلے کا حل آپ کے نزدیک کچھ اور ہے میرے نزدیک کچھ اور۔ یہاں حقیقت کو ہی ماننے سے انکار ہے۔ دلیل کا جواب گالی، حققیت کا جواب جھوٹ اور بات یہاں رکتی نہیں بلکہ جھوٹ بولنے والا عزت دار بھی ہے اور اہم ترین عہدوں پر فائز بھی ہے۔

وضاحت کرتا چلوں کہ یہاں جھوٹ سے میری مراد وہ نہیں کہ جسے بولنے والا حقیقت میں اس جھوٹ پر یقین رکھتا ہو اور اسی کو سچ بھی سمجھتا ہو، ایسی صورت میں تصحیح ممکن ہے، میری مراد اس جھوٹ سے ہے جس کو بولنے والا پوری طرح باخبر ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، نظریاتی یا اصولی جھوٹ بھی نہیں بلکہ سرے سے حقیقت کے خلاف بات کر رہا ہے اور یہ جانتے ہوئے کر رہا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے لیکن وہ بول رہا ہے اور سب سن رہے ہیں۔ سننے والوں کی اقسام میں ایک سننے والا تو پارٹی ورکر یا عاشق ہے لہذا وہاں تو دلیل، سچ وغیرہ بے معنی ہو جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو حقیقی طاقت کے مراکز میں بیٹھے ہیں یا سول سوسائٹی نامی چیز یا غیر جانبدار لوگ جو جانتے ہیں کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے وہ بھی خاموش ہی رہتے ہیں۔

فرانس ہو جرمنی یا برطانیہ، یہ قانون ہر وکیل کے ہی علم میں نہیں بلکہ تقریباً ہر اس شخص کے علم میں ہے جس کا امیگریشن کے نظام سے کوئی تعلق رہا ہو کہ کوئی شخص، سٹیٹ لیس نہیں ہو سکتا۔ یہ قانون صرف نواز شریف کے لئے نہیں ہر کسی کے لئے ہے یعنی قانون سب کے لئے برابر ہے۔ تمام وہ لوگ جو یورپ یا برطانیہ میں سیاسی پناہ چاہتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے ملکوں میں انہیں کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا، جھوٹے کاغذوں، پرچوں اور خبروں کی بنیاد پر وہاں ثابت کرتے ہیں کہ واپسی کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے لہذا انہیں پناہ دی جائے۔ عمران خان نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نواز شریف کو جس طرح دھمکی دی تھی اس کے بعد نواز شریف کو برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لئے اور کیا چاہیے تھا؟ اس سے آگے بڑھیں اور پاسپورٹ پر آ جائیں، شہریت کی منسوخی کے لئے سولہ فروری کا انتظار کیوں؟ یہ کام تو آج بھی ہو سکتا ہے، لیکن ایسا ہوتے ہی برطانوی حکومت قانونی طور پر پابند ہو جائے گی کہ وہ نواز شریف کو نہ صرف برطانیہ رہنے کی مستقل اجازت دے بلکہ پاکستان کے علاؤہ، دنیا بھر میں سفر کے لئے سفری ستاویزات مہیا کرے۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ برطانوی حکومت کی جاری کردہ سفری دستاویز یا کاغذ کی برطانیہ سے باہر تقریباً وہی حیثیت اور مقام ہو گا جو خود برطانوی پاسپورٹ کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک خاص مدت، عام طور پر پانچ سال جبکہ زیادہ سے زیادہ دس سال اس صورت حال کے بعد برطانوی حکومت کو ایسا سائل شہریت کی درخواست دے کر وہاں کا پاسپورٹ حاصل کر سکتا ہے جس کی واحد بنیاد یہ ہو گی کہ اس کی ریاست سے اس کی شہریت کو منسوخ کر دیا ہے لہذا میزبان ریاست کا یہ قانونی فرض ہے کہ وہ اب اس شہری کو اپنی شہریت عطا کرے کیونکہ کوئی انسان ریاست کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

شیخ رشید تو خیر بادشاہ آدمی ہیں لیکن یہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ عمران خان یا شہزاد اکبر کو اس قانون کا علم نہیں، یہ دونوں جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن بول رہے ہیں۔ جب لیڈر ایسا کرے گا تو اس کے چاہنے والے اور اس کے پیچھے چلنے والے کیا کسر چھوڑیں گے ؟ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں تک جھوٹ بولا جاتا ہے کہ فاٹف کی گرے لسٹ میں پاکستان کے رہنے کی واحد وجہ نواز شریف اور آصف زرداری کی منی لانڈرنگ ہے۔ تیار رہیں کہ کل بتایا جائے کہ بلوچستان میں ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والی مسلسل درندگی کی وجہ بھی نواز شریف اور آصف زرداری یا آج کل کی پی ڈی ایم ہے۔

جھوٹ آخر کار جھوٹ ہوتا ہے لیکن طاقتور کے تگڑے جھوٹ کے سامنے لاچار سچائی کیا کرے ؟ ہار ہی سکتی ہے سو ہار رہی ہے لیکن ظاہر ہے اس طریقے پر چلتے ہوئے اگر قومیں کامیاب ہوتیں تو سپر پاور ہم ہوتے نہ کہ امریکہ۔

اب گلہ کریں تو کس کریں کہ ہمارے پاسپورٹ دیکھتے ہی دنیا چوکنا ہو جاتی ہے کہ جھوٹی قوم کا فرد جھوٹ ہی بولے گا لہذا اس کی بتائی کسی بات پر اعتبار نہیں کرنا، اس کے مہیا کردہ ہر ہر کاغذ کی سو مرتبہ جانچ پڑتال کرنی ہے کیونکہ یہ جھوٹی قوم کا فرد ہے۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ کینیڈا، برطانیہ سمیت ترقی یافتہ دنیا کے ممالک ہمارے کسی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال کے جاری کردہ ٹی بی ٹیسٹ سرٹیفیکیٹ تک کو نہیں مانتے جو صرف ایک معمولی سا ایکسرے ہے اور بس۔ اگر آپ کو برطانوی سفارت خانے سے امیگریشن ویزا حاصل کرنا ہے تو ٹی بی ٹیسٹ کا سرٹیفیکیٹ جمع کروانا لازمی ہے جو آپ صرف ان پرائیویٹ مراکز سے حاصل کر سکتے ہیں جن کو یہ ذمہ داری سفارت خانے نے دی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ٹی بی جیسا معمولی ٹیسٹ سرٹیفیکیٹ تک انہیں قابل قبول نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم جھوٹ کو ایک آرٹ سمجھتے ہیں کوئی برائی نہیں۔

جس راستے پر چلتے ہوئے ہم موجودہ مقام پر پہنچے ہیں، اسی پر چلنے کا اصرار مستقبلِ میں ہمیں مختلف نتیجہ کیسے دے پائے گا ؟ آخری بات لکھتے ہوئے دل لرزتا ہے مگر کہنا پڑے گا کہ خوشحالی، عوامی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسے خواب یہاں خواب ہی رہیں گے، زندگی یہاں ایسے ہی بلکتی رہے گی۔ خوشی، اطمینان اور عزت کا سورج یہاں کبھی طلوع نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •