نیا سال ۔ دعا ہے ہو خوشحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2020 ء اپنی تمام تر اچھی بری یادیں لئے رخصت ہو گیا۔ مگر اپنے پیچھے کئی داستانیں چھوڑ گیا۔ ایسی داستانیں جو کبھی نہ بھلائی جاسکیں گی۔ ایسی داستانیں جو ہر سال اپنے پیاروں کے غم میں یاد آتی رہیں گی۔ ایسی کہانیاں جو اپنے نقش لوگوں کے دلوں میں چھوڑ گئیں۔

جہاں دنیا بھر میں کورونا نے تباہی مچائی وہاں وطن عزیز بھی محفوظ نہیں رہا۔ ہزاروں افراد اپنی جان سے گئے اور اپنے پیچھے اپنے لواحقین کو روتا چھوڑ گئے۔

دو ہزار بیس نے ہم سے کئی نامور شخصیات کو بھی چھین لیا۔ عاشق رسول ﷺ میر ظفر اللہ خان جمالی، خادم حسین رضوی، سید ضمیر اخترنقوی، علامہ طالب جوہری، سید منور حسن، نعمت اللہ خان، مفتی نعیم، مولانا زرولی خان، مولانا عادل، حاصل بزنجو، نامور شاعر راحت اندوری، عنایت اللہ خان، طارق عزیز اور کئی نامور شخصیات داغ مفارقت دے گئے۔

2020 ء میں جہاں کئی غمزدہ یادیں ہیں، وہیں کچھ لوگوں کے خوشیوں کا پیام بھی لایا۔ کئی نامور شخصیات نے اپنی نئی زندگیوں کا آغاز کیا۔

سیاسی درجہ حرارت بھی بھرپور گرم رہا مگر کوئی دیرپا تاثر چھوڑنے میں ناکام رہا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ میں شامل گیارہ جماعتیں بظاہر تو یکجا ہو گئیں مگر ان کے اپنے اپنے ذاتی مفادات نے ان کے دیرپا اتحاد اور کسی مضبوط تحریک کے آگے بند باندھ رکھا ہے۔ گزشتہ سال جلسے جلوس بھی ہوتے رہے۔ عوام کے دکھ اور تکالیف پر روئے بھی بہت۔ مگر شاید اس وقت یہ آنسو خشک ہو گئے تھے جب یہی لوگ حکمرانی کے مزے لے رہے تھے۔ اقتدار چھن جانے پر عوام کے دکھ اور تکالیف سے ان کے کلیجے پھٹ رہے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات بھی ہوئے، جس کے لئے دھواں دھار تقریریں بھی ہوئیں مگر ہوا وہی جو روایت رہی ہے۔ وفاق نے میدان مارلیا۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز کی غریب عوام کے لئے بہتری کی امید گزشتہ سال بھی نہیں رہی۔ حکومت کی جانب سے دعوے اور وعدے تو بہت کیے گئے مگر زمینی حقائق بہت ابتر صورت حال اختیار کرگئے۔ جہاں لاک ڈاؤن اور کورونا کی وبا نے کاروبار زندگی مفلوج کیا وہیں غریب سے دو وقت کی روٹی بھی چھن گئی۔ ناگفتہ بہ حالات کے باوجود غریب زندگی جینے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اشیائے خوردنوش، دودھ، بجلی، گیس کے بل، پیٹرول اور روزمرہ کی چیزوں کی قیمتیں دو گنی تگنی ہو گئیں۔ سرکاری نرخ سے بڑھ کر گرانفروشی کی جاتی رہیں۔ اداروں کی جانب سے برائے نام کارروائیاں ہوئیں۔ لاکھوں زائد منافع کمانے والوں کو ہزاروں روپے کا جرمانہ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔

نیب کی کارروائیاں بھی گزشتہ سالوں کی طرح رہی۔ ٹام اینڈ جیری کا کھیل کھیلا گیا۔ چھوڑا، پکڑا اور پھر چھوڑا گیا۔ مگر تفتیش کا عمل انتہائی سست رفتاری سے کرنے کی وجہ سے کوئی بھی ملزم کیفر کردار تک پہنچا اورنہ ہی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں جمع ہو سکی۔

اسٹریٹ کرائمز کا جن بھی بے قابو رہا۔ ریکارڈ وارداتیں ہوئیں۔ کراچی تو اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہی تھا مگر دارالحکومت اسلام آباد جیسا چھوٹا شہر بھی اس عفریت سے محفوظ نہ رہ سکا۔ شہری نہ صرف قیمتی اشیاء بلکہ جانوں سے بھی محروم کردیے گئے۔ مگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی صفر ہی رہی۔

موٹروے پر سفر کرتی ہوئی ایک خاتون کو ڈکیتی کے بعد اس کے معصوم بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کا مرکزی ملزم عابد ملہی کئی ہفتوں بعد گرفتار کیا گیا مگر اس کیس کا بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ یہ تو ایک واقعہ ہے پورے سال جنسی زیادتی کے کئی واقعات رونما ہوئے اور خاص طور پر معصوم کلیوں کو مسل کر قتل کرنے کے واقعات نے پوری قوم کوہلاکر رکھا ہوا ہے سوائے حکمرانوں اور عدلیہ کے۔

میرا ایسے واقعات پر ہمیشہ ایک ہی موقف رہا ہے، سرعام پھانسی اور عبرت کا نشان بنائے بغیر ایسے واقعات سے جان چھڑانا ناممکن ہے۔ ڈارک ویب کو حکومت نے شاید بہت ہلکا لیا ہوا ہے۔ اگر ایف آئی اے کا سائبر کرائم سیل اس کی مکمل تحقیقات کرے تو ہوش ربا انکشافات سامنے آئیں گے اور کئی بڑے بڑے نام اس میں ملوث ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان یاسین تاجی کی دیگر تحریریں