بیماری اور خدا کی رحمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ رب العزت اپنے محبوب بندوں کو سو طریقوں سے آزماتا ہے۔ جو ان آزمائیشوں میں کھرا اترتا ہے وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ خدا کبھی انسان کو صاحب اقتدار بنا کر آزمائش میں ڈال دیتا ہے تو کبھی انسان کو کمزور، لاغر، محتاج اور تنگ دست بنا کر اس کا امتحان لیتا ہے۔ خدا انسان کو بیماریوں میں مبتلا رکھ کر بھی پرکھ کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ بیماری سے انسان کے گناہ کم ہوتے ہیں اس میں شک نہیں کیوں کہ بیماری سے انسان اذیت سے گزرتا ہے۔

اللہ اپنے بندوں کو ماں سے ستر گناہ عزیر رکھتا ہے۔ کوئی ماں نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ درد و کرب سے بلک اٹھے۔ پھر اللہ کیونکر ایک بندے کو درو و کرب سہنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا اللہ اپنے بندوں سے محبت نہیں کرتا۔ یقیناً اللہ رب العزت کی منشاء یہ نہیں کہ اس کے بندے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر درد و کرب اور اذیت سے گزریں۔

مشاہدہ بتاتا ہے کہ جب کوئی کسی بھی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے صرف وہی افسردہ اور اداس نہیں ہوتا بلکہ اس کے گھر والے اور عزیز و اقارب بھی تشویش ناک صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ رب العزت کو اس کی روح ہی قبض کرنی ہے تو اللہ اسے اتنی اذیت اور پریشانی سے کیوں گزارتا ہے۔ شاید اس بندے سے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔ اللہ نہیں چاہتا کہ اس سے وہاں خطرناک اور وحشت ناک سزا دے۔ اس لیے دنیا میں ہی اس کو سزا دے کر وہاں اس کو جنت کا باشندہ بنائے گا۔ یہ بجا طور پر صحیح ہے لیکن نو زائیدہ بچوں نے کون سے گناہ کیے ہوتے ہیں؟ انہیں کیوں خطرناک بیماریاں دے کر دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلایا لیا جاتا ہے؟ یقیناً اس میں اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہو گی ورنہ سترہ ماؤں کے برابر محبت کرنے والی بابرکت ذات اپنے بندوں کو تکلیف اور ایذا کیونکر دے۔

دنیا میں بہت کم اشخاص گزرے ہوں گے جو کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔ جس طرح موت کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے ، ٹھیک اسی طرح زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہر شخص کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کوئی جوانی میں ہی اس تجربے سے گزرتا ہے تو کوئی زندگی کے آخری ایام میں بیمار پڑ جاتا ہے۔

بیمار پڑنے میں سب سے زیادہ عمل دخل بد پرہیزی اور بے احتیاطی کا ہے۔ اللہ رب العزت انسان کو اذیت نہیں دیتا بلکہ انسان خود ہی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ ابھی چند روز قبل مجھ سے بدپرہیزی ہوئی۔ میں نے ٹھٹھرتی سردی میں سرد غذا کھائی۔ نتیجہ یقیناً نزلہ، زکام اور چھاتی خراب کی صورت میں سامنے آتا اور وہی ہوا، بیمار ہو کر دو انکشافات مجھ پر ہوئے۔ ایک یہ کہ انسان کتنا لالچی اور خود غرض ہے، جب صحت مند اور تندرست ہوتا ہے اپنے خالق کو یاد نہیں کرتا بلکہ اپنی ہی دھن میں مست ہوتا ہے اور دنیا کی محبت اس کے دل میں اتنی سرایت کر گئی ہے کہ یہ دنیا کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتا۔

دوسرا یہ کہ انسان میں بیماری سے تقویٰ آتا ہے ، انسان صابر بن جاتا ہے، قناعت پسند بن جاتا ہے۔ حب دنیا اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔ یہ تضاد ہے اور تضاد کا دوسرا نام ہی انسان ہے۔ جتنے شکر گزار ہم بیمار ہو کر ہوتے ہیں اگر اتنے ہی شکر گزار ، پارسا، صحت مند اور تندرست رہ کر بھی ہوتے تو اللہ ہمیں کسی بھی بیماری کی اذیت سے نہیں گزارتا۔

بہرحال انسان بیماری میں مبتلا اپنی بدپرہیزی سے ہو یا اللہ کی آزمائش اور منشاء سے انسان کو شکر اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نہ ہی انسان کو خالق کائنات کی رحمتوں سے نا امید ہونا چاہیے۔ بیمار ہو کر انسان جب بے بس ہو جاتا ہے تو اپنے رب کو ندا دیتا ہے۔ اس بے بسی سے صبر کو قوت ملتی ہے اور انسان صابر کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔ ہر صبح کے بعد شام اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے۔ جس اللہ نے بیماری میں مبتلا کیا، وہی رب شفا بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ رب العزت اپنے بندوں کو اذیت اور ابتری میں نہیں رکھ سکتا۔ یہی سچ اور حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •