بری نظامی: انمول پنجابی شاعر جسے بھلا دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کاپی رائٹ نہ ہونے کی وجہ سے سرقہ بازی اور بغیر اجازت مختلف چیزوں کا استعمال بہت عام ہے۔ شاعروں کا کلام ان کی اجازت کے بغیر گا کر گلوکار شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں۔ لیکن نغمہ نگار جو اپنے احساسات اور خیالات کو نغموں کا روپ دیتے ہیں وہ اکثر اندھیروں میں گم رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شاعر بری نظامی ہیں۔ نصرت فتح علی خان،  عطا اللہ عیسی خیلوی اور دوسرے بہت سے گلوکار ان کا کلام گا کر بین الاقوامی طورپر مشہور ہو گئے لیکن بری نظامی کا نام فیصل آ باد تک ہی محدود رہا۔

بری نظامی کی زندگی بڑی تلخ جدوجہد سے عبارت ہے۔ ان کا اصل نام شیخ محمد سفیر تھا۔ وہ 26 دسمبر 1946 کو اس وقت کے ضلع لائل پور کے قصبے گوجرہ کے ایک شیخ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ غلام محمد تھا۔ انہوں نے گوجرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مالی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور میٹرک کے بعد چیچاوطنی میں ایک کاٹنگ جننگ فیکٹری میں منشی بھرتی ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد ہی ان کا خاندان بہتر معاش کی تلاش میں فیصل آباد منتقل ہو گیا۔ یہاں بھی تعلیم کی کمی آڑے آئی اور کوئی مناسب روزگار نہ مل سکا۔ گھر چلانے کے لیے انہیں ایک بس کمپنی میں کنڈکٹری کرنی پڑی۔

نیادور میڈیا میں چھپے ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ زمان خان کے ایک مضمون کے مطابق ان کا خاندان اب بھی فیصل آباد میں مزدور طبقے کے علاقے میں رہتا ہے۔ ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان کے خاندان کے پاس اب بھی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ان کا خاندان مغل پورہ لاہور کے سید امانت علی شاہ نظامی کا مرید تھا۔ اس لیے بری نظامی بھی ان سے بیعت ہو گئے۔

تھیٹر کے بادشاہ امان اللہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ لوگ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بنتے ہیں، لیکن فن کار پیدائشی ہوتا ہے، جو اپنی خداداد صلاحیتوں کو مزید نکھار کر ایک اچھا فنکار بنتا ہے۔ روپیہ خرچ کر کے کوئی گلوکار،شاعریا اداکار نہیں بن جاتا۔ اسی طرح شاعری بری نظامی کی روح میں میں تھی۔ وہ لڑکپن سے ہی محنت مزدوری کے ساتھ شاعری بھی کرنے لگے تھے، انہوں نے اپنا تخلص اپنی محبوبہ کے نام پر پہلے بری رکھا۔ چونکہ وہ نظام الدین اولیاء کو مرشد مانتے تھے اس لیے بعد میں اپنے نام کے ساتھ نظامی کا اضافہ کر لیا۔

اپنی جوانی کے دور میں وہ ایک جوان کی حیثیت سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے  ”روٹی، کپڑا اور مکان ” کے ذریعے ان کی طرف راغب ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ ایک متحرک اور جانثار کارکن تھے، جس وجہ سے جلد ہی انھیں پیپلز پارٹی کی فیصل آباد ضلعی کمیٹی میں شامل کیا گیا جہاں انہوں نے کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر تھے۔ پارٹی کے زیر اہتمام جلسوں میں انقلابی اشعار اور نظمیں پڑھا کرتے تھے۔

ایسے کارکنوں کی ہر پارٹی کو ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ان کی بھی ان دنوں پارٹی میں کافی پذیرائی ہوئی۔ وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے اس ہراول دستے میں شامل تھے جس نے 1970 کے الیکشن میں مغربی پاکستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن وہ جلد ہی ذوالفقار علی بھٹو کے پارٹی کے منشور سے ہٹ جانے پر مایوس ہو کر ان سے ناراض ہو گئے اور مختار رانا کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کے ناراض گروپ میں شامل ہو گئے۔

ان ہی دنوں بھٹو کے خلاف ایک نظم لکھنے کے جرم میں انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ ضیاءالحق نے ذوالفقار بھٹو کی جگہ لے لی پھر بھی ان کے انقلابی نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کیونکہ وہ مزدور طبقے اور عام سے غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور عام آدمی کی عزت،  وقار اور ان کے لیے روزی کے خواہاں تھے جو کام آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ان کے خلاف سات مقدمات۔ ضیاءالحق کے مارشل لا میں گیارہ اور بے نظیر بھٹو  کے دور حکومت میں چھ مقدمات درج ہوئے اور متعدد بار انہیں جیل جانا پڑا۔ ذرا سوچیے کہ اس غریب نے کیا جرم کیا ہو گا، سوائے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے۔

ا نہوں  نے کچھ وقت کے لیے ایک مقامی روزنامے میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا اور ٹریڈ یونین ازم میں بھی سرگرم رہے۔ بھٹو دور میں انہوں نے چھابڑی ریڑھی یونین کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ لیکن یہاں بھی ان کی انقلابی اور ولولہ انگیز نظموں کو اور ان کی ذات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ 1990 کی دہائی میں وہ صوبائی وزیر قیوم اعوان اور فیصل آباد کے اس وقت کے میئر چوہدری شیر علی کے اصرار پر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔

ضیاء دور میں وہ حج کرنے سعودی عرب گئے تو واپسی پر وہاں سے کچھ چیزیں لا کر پاکستان فروخت کیں۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد بارحج کیا اور واپسی پر وہاں سے سامان لا کر یہاں فروخت کرتے رہے جس سے انہیں کچھ آمدنی ہو جاتی اور خاندان کا وقت تھوڑا سا اچھا گزر جاتا۔ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ  نے انھیں ”بری نظامی ” کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کرنے کا ڈیکلیریشن دینے کا فیصلہ کیا لیکن یہ منصوبہ بری نظامی کے پاس کاغذ کی خرید کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کاغذوں میں ہی رہ گیا۔

1991 میں ان کی آنکھوں میں ایک انفیکشن ہو گئی جو کہ بہت مہلک ثابت ہوئی کیونکہ ان کے پاس علاج کرانے کے لیے رقم نہیں تھی، اس لیے وہ آٹھ سال تک یہ تکلیف برداشت کرتے رہے۔ آدمی غریب ہو تو بیماریاں بھی اس کے جسم میں گھر کر لیتی ہیں۔ ان کو پیٹ کے السر کے علاوہ ٹی بی ہو گئی جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو گئی اور وہ مفلوج ہو کر طویل عرصے تک ہسپتال میں داخل رہے۔ انہوں نے نصرت فتح علی خان سمیت دوسرے دوستوں کی مدد لی لیکن یہ ان کے خاندان کی کفالت کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایسے میں فیصل آباد کے ڈاکٹروں کی جماعت ان کی مدد کو آئی جنہوں نے ان کو ہر قسم کی طبی امداد فراہم کی۔ وہ 1998 میں کس مپرسی کی حالت میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

اگرچہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام کے دوران جسمانی طور پر مکمل مفلوج ہو گئے تھے لیکن پھر بھی وہ ذہنی طور پر بہت چوکس تھے اور بیماری کے دنوں میں بھی شاعری کرتے رہے۔ وہ ہمیشہ پنسل اور کاغذ اپنے تکیے کے نیچے رکھتے تھے اور جب بھی آمد ہوتی وہ اسے لکھ لیتے تھے۔ ان کی آخری نظم کے دو اشعار ان کی قبر کے کتبے پر لکھے ہیں۔

کدی کدائیں دنیا تے بندہ کلا رہ جاندا اے

اپنے غیر وی بن جاندے نیں بس اک اللہ رہ جاندا اے

مشہور پنجابی شاعر اور افسانہ نگار افضل احسن رندھاوا نے ان کی موت پر تبصرہ کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی نابغہ روزگار شخصیات کی سرپرستی کرے، لیکن ریاست یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ کوئی مالی امداد، کوئی تحفہ، کوئی تمغا نہیں حتیٰ کہ ان کی موت پر کوئی عام تعزیتی پیغام بھی نہیں، کتنے افسوس کی بات ہے۔

ایک شاعر ہونے کے ناتے انہوں نے ہزاروں نظمیں، نعتیں، غزلیں اور گیت لکھے لیکن ان کا دیوان بہت عرصہ تک وسائل نہ ہونے اور اشاعتی اداروں کی بے حسی کی وجہ سے نہ چھپ سکا۔ اب سنا ہے کہ ان کے خاندان سے نسخہ لے کر ان کے ایک مداح جمیل سراج نے ان کا دیوان ” قدراں ” کے عنوان سے چھپوایا ہے۔ راقم  نے اس کے حصول کے لیے بہت کوشش کی لیکن نہیں مل سکا۔

اے پی پی کے صحافی محمد لقمان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جون یا جولائی 1997 کی ایک گرم سہ پہر وہ فیصل آباد کے علاقہ سمن آباد میں بری نظامی سے ملنے اور ان کی بیمار پرسی کے لیے پہنچے۔ چھوٹے سے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بری نظامی ایک چارپائی پر لیٹے تھے۔ کمرے کی دگرگوں حالت اہل خانہ کے مشکل حالات کا پتہ بتا رہی تھی۔

بری صاحب سے ان کی صحت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کھانستے ہوئے بتایا کہ صحت اچھی نہیں ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ میں زندہ ہوں۔ چونکہ ان کو سانس کی وجہ سے بات کرنے میں تکلیف ہوتی تھی اس لیے ہم ان کی تکلیف کے باعث چند منٹ تیمار داری بعد ہی اٹھ گئے۔ یہ بڑی عجیب بات تھی کہ جس کی شاعری کو گا کر نصرت فتح علی خان اور عطا اللہ عیسی خیلوی نے عالمی شہرت پائی اور بھلے وقتوں میں کروڑ پتی بن گئے، وہ شاعر چند روپے کی دوائی کے لیے ترس رہا تھا۔

بری نظامی کے لکھے ہوئے نغموں نے نصرت فتح علی خان کے فن کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا۔ عطا اللہ عیسی خیلوی کو گلوکار بنایا، وہ خود غریب تھا اور غریب ہی مرا لیکن اس کا نام اس کے گیتوں کے باعث امر ہو گیا۔ عطا اللہ کی آواز میں بھی بری نظامی کے گائے ہوئے گیت بے پناہ مقبول ہوئے۔

وہ چھوٹی بحر میں غزلیں لکھتے تھے۔ اس غزل میں ایک بہت ہی عمدہ خیال باندھا ہے۔

مئے خانے انبھول گیا واں ٭ دوگھٹ پیتی ڈول گیا واں
معاف کریں میں وچ نشے دے ٭ خورے کی کی بول گیا واں
آپے آ گئی میں ول بوتل ٭ میں کد بوتل کول گیا واں
وچ نشے دے بری نظامی ٭ لگدا اے سچ بول گیا واں

یہ غزل نصرت فتح علی خان نے اپنے ابتدائی دنوں میں ایک نجی محفل میں گائی تھی۔ نصرت فتح علی خان کی ان سے دوستی تھی اس لیے نصرت فتح علی خان نے ان کے گیت اور غزلیں گانا شروع کر دی تھی۔ فیصل آباد کی رحمت گراموفون کمپنی والوں نے فیصل آباد اور گرد ونواح کے مقامی فنکاروں کو لانچ کرنے میں بہت کام کیا ہے۔ نصرت فتح علی خان،  عطا اللہ عیسی خیلوی،  منصور ملنگی اور عزیز میاں کی پہلی آڈیوکیسٹس  چوہدری رحمت علی نے ہی ریکارڈ کی تھیں۔ دوسرے شعرا کی طرح بری نظامی نے بھی حمد و نعت کے علاوہ اپنے مرشد اور دیگر صوفیائے کرام کی مدح سرائی میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ بری نظامی کی حمد و نعت کے چند اشعار جو نصرت فتح علی خان نے قوالی میں گائے:

حمد میرے مولا توں میرے تے رحم کر دے ٭ تینوں تیری کریمی د ا واسطہ ای
تک عیب میرے اتے پائیں پردا ٭ تینوں تیری رحیمی دا واسطہ ای
دن محشر نہ بری دی پچھ ہووے ٭ مصطفے دی یتیمی دا واسطہ ای
نعت کملی والے محمد توں صدقے میں جاں ٭ جنھیں آ کے غریباں دی باں پھڑ لئی
میری بخشش وسیلہ محمد دا ناں ٭ جنھیں آ کے غریباں دی باں پھڑ لئی

ان کی غزلوں کے چند اشعار،  پوری غزل پڑھ کر لطف کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔

 یارا ڈک لے خونی اکھیاں نوں ٭ سانوں تک تک مار مکایا اے
دل جان جگر زخمی کیتے ٭ نظراں دا تیر چلایا اے

دل دی کھیڈ نہ کھیڈیں سجنا ہر جانا توں ہر جانا ٭ پیار وچ زندگی لبدی ناہیں مر جانا توں مر جانا

تارے گن گن رہندے نیندراں آؤندیاں نہیں ٭ وچ اوڈیکاں رہندیاں اکھیاں سوہندیاں نہیں

ان کی اس غزل کو بھی بہت پذیرائی ملی۔ ان کے دل سے نکلے ہوئے احساسات میں ڈھلی ہوئی غزل جس کا ایک ایک لفظ بار بار پڑھنے اور سننے کو دل کرتا ہے:

دل مر جانے نوں کی ہویا سجناں ٭ کدے وی نی اج جناں رویا سجناں
عشق ہوراں جدے ول پایاں چاتیاں ٭ پیار جنھیں کیتا اہو ہی رویا سجناں
شکر دوپہریں بری شاماں پے گیاں ٭ ظلفاں نے مکھ جاں لکویا سجناں

یہ غزل بھی خاصے کی چیز ہے۔

گن گن تارے لنگدیاں راتاں ٭ سپاں وانگن ڈنگدیاں راتاں
اکھیاں وچ جگراتے رہندے ٭ سولی اتے ٹنگدیاں راتاں
اہور کسے ول جان نہ دیون ٭ اپنے رنگ وچ رنگدیاں راتاں
بری نظامی یاد نہیں مینوں ٭ ہن خورے کی منگدیاں راتاں

اس غزل سے آپ شاعر کے دل کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں

وگڑ گئی اے تھوڑے دناں توں ٭ دوری پئی اے تھوڑے دناں توں
چن جیا مکھڑا نظر نہیں آؤندہ ٭ رت سرمئی اے تھوڑے دناں توں
تیرے ہوندیاں پیندے نہیں ساں ٭ پینی پئی اے تھوڑے دناں توں

ان کا لکھا ہوا ایک ایسا گیت جس نے سارے پاکستان کو رلا دیا۔ اس کو نصرت فتح علی خان نے ہی گایا تھا اور عاشر عظیم  نے اپنے ڈرامے دھواں میں شامل کر کے ڈرامے کے ایک کردار کی موت پر چلایا تھا۔

ایسں توں ڈاھڈا دکھ نا کوئی ٭ پیار نا وچھڑے کسے دا یار نہ وچھڑے
روگ ہجر دا مار مکاوے ٭ سکھ دا کوئی ساہ نہ آوے
دکھ لاوندے نیں دل وچ تیرے ٭ چارے پاسے دسن ہنیرے۔
دنیا وچھڑے نہیں پروا دلدار نہ وچھڑے

اس کے علاوہ انہوں نے ایک ایسا گیت لکھا جسے گا کر نصرت فتح علی خان شہرت کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ وہ تھا ”دم مست قلندر مست۔ آکھی جا ملنگا توں علی علی”۔ اس گیت کو انہوں نے مغربی اور مشرقی موسیقی اکٹھا کر کے پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ گیت اور غزلیں بھی نصرت فتح غلی خان نے گائیں۔

٭ مائے نی کراں تیرا سیدا کھیڑ۔ ارانجھا تے میرا رب ورگا۔
٭ سن چرخے دی میٹھی ہوک ماہیا مینوں یاد آوندا
٭ دکھ رج رج داتا نوں سنائیے۔ میلے نے وچھڑ جانا اے
٭ وعدہ کر کے سجن نہیں آیا اڈیکاں وچ رات لنگ گئی
٭ کناں سوہنا تینوں رب نے بنایا دل کرے ویکھدا رہنواں۔ دل مڑدا نہیں لکھ سمجھایاں

بری نظامی کا لکھا ہوا گیت ”ڈھول ماہیا ” نصرت فتح علی خان نے بھی گایا اور منصور ملنگی نے بھی گایا۔ عطا اللہ عیسی خیلوی نے ابتدا میں ان کی بہت سی غزلیں اور گیت گائے ہیں۔ جب کیسٹ کا دور آیا تو سب کچھ گڈمڈ ہو گیا۔ اب کاپی رائٹ کا کسی کو پتہ ہی نہیں ہے۔ بری نظامی کی لکھی ہوئی غزلوں اور گیتوں کے لاکھوں کیسٹ بکے ہیں ، اگر ایک کیسٹ پر صرف پچاس پیسے بھی اس کو رائلٹی ملتی تو اتنا بڑا شاعر یوں کس مپرسی کی موت نہ مرتا۔

اب جس کا دل کرتا ہے کسی کے گائے ہوئے گانے گا لیتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ زندگی کا سب سے کڑوا سچ یہ ہے کہ آپ کو آپ کا ٹیلنٹ دیکھ کر جج نہیں کیا جاتا بلکہ آج کل بیک گراؤنڈ دیکھ کر آپ کو جج کیا جاتا ہے۔ کیچڑ میں گرے ہیرے اور گدڑی میں پڑے لعل کو کوئی نہیں کھوجتا ، سب زندگی کی چمک دھمک میں گم ہیں۔ یہاں انسان کو نہیں اس کے سٹیٹس کو دیکھا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •