شرافت کی سیاست کا جنازہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل ایک ٹی وی ٹاک شو میں ایک خاتون وزیر صاحبہ بڑے دھڑلے کے ساتھ مریم نواز کے خلاف چند نامناسب جملوں کا استعمال کر رہی تھیں۔ ان کی عامیانہ جملے بازی سن کر بڑا دکھ بھی ہوا اور ندامت بھی محسوس ہوئی۔ محترمہ کو اس چیز کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ ایک عورت ہونے کے ناتے ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اگر سامنے والا کوئی ایسی ویسی بات کرے گا تو لامحالہ ان کو ہی سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بحث اور تکرار کے دوران دونوں اطراف سے چند نامناسب جملوں کا استعمال کیا گیا۔ جن کو چینل کی انتظامیہ نے میوٹ بھی کیا۔ اس طرح کی بدتہذیبی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آج کل پاکستان کی سیاست کس ڈگر پر رواں دواں ہے۔ اس قسم کی بلیم گیم نے شرافت کی سیاست کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

اگر ایک فریق اخلاق سے گری ہوئی بات کرتا ہے تو دوسرا اس سے بڑھ چڑھ کر جوابی وار کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ چند یو ٹیوبرز جو اس طرح کی مسالہ دار خبروں کی تاک میں رہتے ہیں۔ متعلقہ ٹاک شو کے اس حصے کو فٹافٹ ایڈٹ کر کے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ اور چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ جو سیاست دانوں کی جگ ہنسائی اور بدنامی کا موجب بنتا ہے۔ مگر سیاست دان برادری اس روش سے باز نہیں آتی۔ وہ ماضی کی باتوں کو لے کر ایک دوسرے پر گند اچھال رہے ہوتے ہیں۔

ان کو اس چیز کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ استعمال بھی ہو رہے ہیں اور اپنے آپ کو گندا بھی کرا رہے ہیں۔ کوئی نادیدہ ہاتھ ان کی ساکھ کو خراب کر کے اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ ہمیشہ بدنامی ان کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے۔ کیا ان کو اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ ہر پاکستانی حکمران اقتدار سے ہٹتے ہی جیل کا منہ کیوں دیکھتا ہے۔ بھٹو صاحب بڑے مضبوط حکمران تھے وہ پھانسی چڑھ گئے۔ نواز شریف جو آج لندن میں پناہ لئے ہوئے ہیں کو تینوں دفعہ بے آبرو کر کے نکالا گیا۔ سزایافتہ ہونے کا لیبل بھی ان پر لگ چکا ہے۔ اب وہ اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دو دفعہ وزارت عظمیٰ سے برطرف ہوئیں۔ یوسف رضا گیلانی کو چیف جسٹس نے نکال باہر کیا۔ وہ اب نا اہلی کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ خان صاحب کا نمبر بھی ضرور آئے گا۔ بڑے بڑے سورما اس میدان میں پٹ چکے ہیں۔ وہ کس باغ کی مولی ہیں۔ خواجہ آصف نے بھی کہہ دیا ہے کہ نیب قوانین کو ختم نہیں کیا جائے گا۔

برسراقتدار پارٹی کے ترجمانوں کی ایک فوج اور سوشل میڈیا ٹیم دن رات مخالفین کو جس طرح ناشائستہ انداز میں ٹارگٹ کرتی ہے۔ اس کی کسی مہذب اور خاص کر اسلامی معاشرے میں مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہ ان بے چاروں کی مجبوری ہے۔ آخر ان کو بھاری مراعات بھی تو وصول کرنا ہوتی ہیں۔ اپوزیشن کی مٹی پلید کرنے والوں میں زیادہ تر دوہری شہریت رکھنے والے مشیر اور معاونین شامل ہیں۔ اگر یہ لوگ باہر سے پیسہ کمانے کے علاوہ کچھ تہذیب بھی سیکھ کر آ جاتے تو کیا حرج تھا۔ مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ دوہری شہریت رکھنے والوں نے برا وقت آنے پر پرائے دیس کا رخ کر لینا ہے لیکن احتساب کا شکنجہ خان صاحب پر ہی فٹ ہو گا۔

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم صاحب کا مزاج کسی حد تک ضدی اور انا پرست شخص کا ہے۔ وہ اپوزیشن راہنماؤں کی تقریریں سن کر جلد غصہ میں آ جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ اکثر اوقات اپنے ترجمانوں کا اجلاس بلا کر مخالفین کو لتاڑنے کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی ترجمان، وزیر یا مشیر مخالف پر کیچڑ اچھالنے میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے تو خان صاحب اس سے ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے شبلی فراز جیسے شریف النفس انسان کو بھی بد تہذیبی پر لگا دیا ہے۔

لیکن بطور سربراہ حکومت خان صاحب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا کریں۔ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ایک بردبار حکمران کی طرح اپوزیشن کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں تاکہ سیاسی میدان کا ٹمپریچر نارمل ہو سکے۔ اس سلسلے میں انہیں اگر کسی کے پاس چل کر بھی جانا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ماضی میں میاں نواز شریف اپنے دور حکومت میں بنی گالہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ سیاست میں جب تک مثبت روایات کو فروغ نہیں دیا جائے گا۔ اس وقت تک سیاسی فضا پرسکون ہو سکے گی اور نہ ہی جمہوریت کا مرجھایا ہوا پودا پنپ سکے گا۔

ماضی میں تضحیک آمیز سیاست جو اسی کی دہائی میں پورے عروج میں تھی نے سیاسی میدان کو بہت زیادہ گدلا کر رکھا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اس مہم کا نشانہ بنی رہیں۔ پرویزمشرف کے دور میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہوش کے ناخن لئے اور ایک تاریخی دستاویز چارٹر آف ڈیموکریسی کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کے بعد سیاست میں مفاہمت اور خیرسگالی پر مبنی تعلقات کی شروعات ہوئیں۔

اگر تحریک انصاف بھی ان مثبت اور خیرسگالی پر مبنی روایات کو لے کر آگے چلتی تو آج سیاسی تاریخ مختلف ہوتی۔ مگر تبدیلی کا نعرہ لگا کر آنے والوں نے شرافت کی سیاست کا جنازہ نکال کر رکھ دیا۔ خصوصی طور پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اور فیس بک پر سیاستدانوں اور صحافیوں کے خلاف ایسے غلیظ ٹرینڈ چلائے گئے جن کو ضبط تحریر لانے کے لیے قلم کی حرمت اجازت نہیں دیتی۔ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور بلاول بھٹو جو کہ سیاسی میدان میں بڑے متحرک ہیں۔

آج کل اس دشنام طرازی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کو یہ بات ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگی کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو سازشی عناصر سے بچا سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کو ایک دوسرے کے ساتھ سینگ لڑانے کے بجائے اپنی حکومتوں کی کارکردگی اور عوامی مسائل کو موضوع بحث بنانا چاہیے۔ اس طرح صحت مند رجحان کی طرف ہیش رفت بھی ہو گی۔ اور اخلاقی گراوٹ سے بھی بچنے میں مدد ملے گی۔

موجودہ بحرانی کیفیت میں ٹریک ٹو بات چیت یا نیشنل ڈائیلاگ کی باتیں ہو رہی ہیں، اگر دیگر متنازعہ امور کے ساتھ ساتھ دونوں فریق کسی ایسے نکتے پر اتفاق کریں۔ جس کے تحت جذبۂ خیر سگالی کے تحت مستقبل میں پارلیمنٹ، سیاسی میدان اور خصوصی طور پر ٹاک شوز میں تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا جائے گا تو یہ ایک احسن اقدام ہوگا۔ اس طرح کے مثبت عمل سے مستقبل کی سیاست میں بہتر اور خوش گوار تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ اس کے علاوہ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی توجہ بھی مرکوز رکھ سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •