سانحہ مچھ: پتھر سے پگھلنے کا تقاضا بے سود

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی تو ہے، رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ’جدید ریاست مدینہ‘ کے بانی محترم عمران احمد خان نیازی صاحب کے تازہ فرمان کے مطابق مہذب اسلامی معاشرے اور ریاست مدینہ کے جدید ماڈل میں میتیں سڑک پہ رکھ کر کوئی بھی شخص ریاست مدینہ کے امیرالمومنین کو بلیک میل نہیں کر سکتا، اگر یہ روایت چل نکلی تو پھر ہر دوسرا شخص میت لے کر اسلامی اقدار کی نہ صرف دھجیاں اڑائے گا اور ریاست کے امیر کو بلیک میل کرے گا بلکہ میتوں کی بے حرمتی کا بھی مرتکب ہو گا۔ اس لیے کوئٹہ میں میتوں کے ساتھ دھرنا دینے والے میتوں کی فوری تدفین کریں، میں اگلے لمحے کوئٹہ پہنچ جاؤں گا۔

یہ ارشادات و فرمودات اس شخص کے ہیں جو آج اپنے آپ کو ’جدید ریاست مدینہ‘ کا بانی اور امیر سمجھتا ہے جبکہ خود ایک حکومت کو 126 دن تک دھرنا دے کر بلیک میل کرنے کا ارتکاب کر چکا ہے۔ جو سعودی عرب کی بلیک میلنگ میں آ کر ملائشیا میں اسلامی ممالک کی کانفرنس میں نہیں گیا، خان صاحب کے نزدیک کسی کے جنازے میں شرکت کرنا، کسی میت کو کندھا دینے کا نظریہ کچھ بھی ہو مگر اسلام میں ایک میت کے جنازے کے ساتھ اسے دفنانے اور اس کی قبر پہ مٹی ڈالنے تک ساتھ رہنے والے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے مطابق اللہ رب العزت نے احد پہاڑ کے برابر اجر رکھ دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جو مسلمان صفت اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور اس وقت تک جنازے کے ساتھ رہے جب تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اور اس کے دفن سے فراغت ہو تو وہ ثواب کے دو قیراط لے کر واپس ہو گا ’جس میں سے ہر قیراط گویا احد پہاڑ کے برابر ہو گا اور جو آدمی صرف نماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جائے تو وہ ثواب کا ایک قیراط لے کر واپس ہو گا۔“ (بخاری)

ایک مسلمان کے جنازے کو کندھا دینا نہ صرف اس میت کا حق ہے بلکہ یہ خود اس مسلمان کے کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اس کے لیے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”جس نے جنازے کو چاروں طرف سے کندھا دیا تو اللہ تعالیٰ اس (جنازے کو کندھا دینے والے ) کو اس کے چالیس کبیرہ گناہوں کا کفارہ بنا دے گا“

مگر افسوس صد افسوس کہ آج اس وزیراعظم نے بجائے میتوں کو کندھا دے کر لحد میں اتارنے، لواحقین کے درد کو ان کی تکالیف کو بانٹنے کے اور اللہ تعالیٰ کے اجر عظیم کا مستحق بننے کے غمزدہ، دکھ اور درد سے تڑپتے لواحقین شہداء کو بلیک میلر قرار دے کر انہیں مزید غم و اندوہ کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔ وزیراعظم صاحب نے کوئٹہ نہیں جانا نہ جائیں مگر انہیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظلم و جبر و نا انصافی کے مارے متاثرین شہداء کے لواحقین کو بلیک میلر کہیں، شہداء ہزارہ کے لواحقین تو خان کو قوم کا باپ مانتے ہیں، انہیں منتخب وزیراعظم تسلیم کرتے ہیں، انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں، اسی لیے ان سے یہ توقع رکھے بیٹھے ہیں کہ قوم کا والد اپنے بچوں کے زخموں پہ مرہم رکھنے ان کی تکالیف کے ازالے کے لیے آئے گا ضرور آئے گا، وہ پچھلے چھ دن سے یہی آس لگائے آنکھوں میں انتظار کے دیپ جلائے بیٹھے تھے مگر قوم کے والد نے تو انہیں بلیک میلر قرار دے کر ان کا یہ بھرم ہی توڑ دیا، ان کی امید ہی ختم کر ڈالی کہ خان صاحب ان کی دادرسی کریں گے، ان کے ساتھ انصاف کریں گے، ان کی مسیحائی کا حق ادا کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جنازوں میں شرکت اور میتوں کو کندھا دینے کا ریکارڈ خاصہ خراب ہے، شاید ہی کسی پاکستانی نے خان صاحب کو کسی میت میں جاتے اور اسے کندھا دیتے دیکھا ہو جبکہ خان صاحب یہ بھول گئے ہیں شاید کہ ایک دن انہیں بھی جانا ہے، ان کی بھی میت کو کوئی نہ کوئی کندھا دے کر تدفین کے لیے لے کر ہی جائے گا لیکن اگر ان کے رویے اسی طرح متکبرانہ، توہم پرستانہ رہے تو جب وہ دنیا چھوڑ جائیں گے تو انہیں کندھا کون دے گا۔

عمران خان صاحب نے جوش خطابت میں جو کہہ دیا اس پر ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ ان کی زبان سے نکلے الفاظ زہر میں ڈوبے تیر بن کر کروڑوں پاکستانیوں، درد دل رکھنے والے انسانی احساسات کے حامل لوگوں کے دلوں کو چیر کے رکھ دیں گے، ان کو نہ جانے کون سے انسانیت سے عاری مشیر اس طرح کے مشورے دے کر ان سے کون سی دشمنی نکال رہے ہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ خان صاحب کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر جس طرح مقبولیت کے آسمان پر پہنچے تھے، انہیں ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر اب ذلت و رسوائی اور غیر مقبولیت کی گہری کھائی میں گرتے جا رہے ہیں۔

اللہ رب العزت کی لاٹھی بے آواز ہے، وہ سب سے بہترین انصاف کرنے والا ہے، وہی انصاف بھی کرے گا، ہر بے گناہ خون ناحق سے انصاف کرے گا اور روز محشر سب سے پہلے حاکم سے حساب ہوگا تو خان صاحب کو جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ریاست مدینہ کا ماڈل قرار دیتے ہیں، اس شرعی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے رویوں اور اپنے کردار کو ریاست مدینہ کے امراء المؤمنین کے رویوں اور کردار جیسا ہی بنانا پڑے گا، مگر ان کے اس اڑھائی سالہ دور اقتدار میں ان کے گفتار و کردار اور افکار سے ایک لمحے کو بھی ایسا نہیں لگا کہ یہ ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے مسلمان وزیراعظم ہیں۔

خان صاحب ہر وقت تکبر، رعونت سے بھرے ذاتی انا کے خول میں مقید حکمران ثابت ہوئے ہیں، ساہیوال سانحے سے لے کر سانحہ مچھ کے وقوع پذیر ہونے تک خان صاحب کے رویوں نے انسانی اخلاقی اقدار کی نفی کی ہے۔ آج مچھ کے سانحے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور یکجہتی کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں شدید سردی میں سڑکوں پر دھرنے دیے اپنے حکمرانوں سے انصاف کی دہائیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب حکمران بجائے ان کی داد رسی کرنے ان کے زخم زخم وجودوں پہ مرہم رکھنے کے انہیں ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم کو بلیک میل کر رہے ہیں، اس سے زیادہ بے حس انسانی، اخلاقی، شرعی احساسات سے عاری شاید ہی کوئی حکمران اس پاک سر زمین پہ کبھی برسر اقتدار آیا ہو۔

بے حس کے تغافل کا تو شکوہ بے سود
پتھر سے پگھلنے کا تقاضا بے سود
بیگانہ ہے جو رسم روا داری سے
اس دل سے مروت کی تمنا بے سود

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •