بلیک میلر لاشیں اور ریاست مدینہ ثانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” میرے پاکستانیو سنو سنو ریاست مدینہ کیا تھی؟ یہ وہ ریاست تھی جہاں فرات کے کنارے کتا بھی مر جاتا تو خلیفہ اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا، میں پاکستان کو ایسی ریاست بناؤں گا“ یہ الفاظ کس عظیم ہستی کے ہیں، قارئین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ انہی الفاظ کو سن کر متاثر ہوئے، یقین کر لیا اب کی بار ریاست مدینہ ثانی بن کر ہی رہے گی۔ ایسی فلاحی ریاست دیکھنے کو ملے گی جہاں امیر، غریب، حاکم اور محکوم کے لیے ایک ہی قانون ہو گا اور ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔

ریاست مدینہ ثانی کی بنیاد رکھے ابھی کچھ عرصہ ہوا تھا کہ سانحہ ساہیوال ہو گیا، ریاست کے سادہ لوح لوگ امید باندھ بیٹھے اب کی بار نا صرف انصاف ہو گا بلکہ انصاف ہوتے ہوئے نظر بھی آئے گا۔ حاکم وقت نے فرمایا بس مجھے قطر سے واپس آنے دیں پھر دیکھیں میں کیسے مجرموں کو نشان عبرت بناتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آئے گا۔ بدقسمتی سے وہ دن آج تک نہیں آیا۔ سانحہ ساہیوال کے مقتولین کو انصاف تو نہ مل سکا لیکن ترجمان حاکم وقت اب بھی یہی قصیدے دہراتے رہتے ہیں کہ انصاف کرنا تو کوئی ہمارے لیڈر سے سیکھے۔

اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہمارے ہر دل عزیز لیڈر اس وقت کے حکمرانوں کو اس لیے کوستے رہتے تھے کیوں کہ حکمران انسانی ہمدردی کے جذبہ سے عاری تھے۔ حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے اور فرماتے یہ کیسے حکمران ہیں جو مظلوم کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ لیکن اپوزیشن والے کپتان سے اب والا کپتان یکسر مختلف بلکہ متضاد سوچ کا حامل ہے۔ اب ان کو جلسے جلوس پسند نہیں، نہ ہی احتجاج میں جمہوریت کا حسن نظر آتا ہے۔ سیاسی احتجاج تو اپنی جگہ اب تو کپتان کو دہشت گردی کی شکار ہزارہ برادری، جو چھ دن سے اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر منفی دس سینٹی گریڈ سردی میں ٹھٹھر رہی ہے، وہ بھی خلیفہ وقت کو بلیک میلر لگتے ہیں۔

ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والا یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں، اس سے پہلے بھی وہ کئی مرتبہ دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں اور کئی قیمتی جانیں قربان کر چکے ہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ ہزارہ اب لاشے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ وہ ریاست کی بے حسی بے نالاں ہیں اور ریاست سے انصاف کے متقاضی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حاکم وقت ان کے پاس آئے، ان کے آنسو پونچھے، ان کی داد رسی کرے، ان کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے یہ وعدہ کرے کہ ان کے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ انصاف ہو گا اور اس گھناؤنے جرم میں شریک تمام مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔

حکومت کو اس بات کی کوئی پروا نہیں اور نہ ہی حکومت ہزارہ برادری کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکومت نے اپنے جو نمائندے احتجاج ختم کرانے کے لیے بھیجے، انہوں نے الٹا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جن کا کام متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کا تھا، وہ زخموں پر نمک چھڑک کر واپس آ گئے۔ رہی سہی کسر وزیراعظم اور ان کے میڈیا سیل نے پوری کردی۔ وزیراعظم کے پاس ترکی اور پاکستان کے اداکاروں سے ملاقات کا ٹائم تو ہے لیکن سانحہ مچھ کے متاثرین کے پاس جانے کا وقت نہیں۔

چلیں اداکاروں سے آپ نے ملاقات کر لی لیکن کم از کم اس ملاقات کی وڈیو تو پبلک نہ کرتے۔ اب جب متاثرین یہ خبر پڑھتے اور دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا بیتتی ہو گی؟ باقی سب تو چھوڑیے، جو سب کچھ ابھی ہمارے وزیراعظم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا ہے وہ کہاں کی انسانیت ہے؟ اتنی بے حسی کا مظاہرہ آخر کیوں؟ ریاست مدینہ میں تو کتے کو بھی انصاف میسر تھا اور ریاست مدینہ ثانی میں لاشیں ”بلیک میلر“ ٹھہریں، آخر کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •