دھرنے، دھند، لاہور کے بند راستے اور ایک طالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھوٹی سی خبر ہوتی ہے، ”ٹائر جلا کر موٹروے کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے“ لیکن روزانہ بڑے شہر کی جانب سفر کرنے والے ہم غریبوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ کسی کو نہیں۔ میں میٹرک کے بعد سے لاہور روزانہ آتی ہوں، پہلے کالج، پھر چھ سال یونیورسٹی اور اب کئی سالوں سے نوکری کا سلسلہ چل رہا ہے۔

جب میں کالج میں تھی، ہائیکورٹ سے گزر کر جیل روڈ پر پہنچنا ہوتا تھا، تب وکیل مشرف کی ایمرجنسی کے بعد سیخ پا ہوئے رہتے تھے، چیف جسٹس کی بحالی میں جتنا خون میں نے جلایا ہے، کسی نے نہ جلایا ہو گا، روزانہ کالج سے واپسی پر ایسی ایسی خواری ہوتی، لاہور کی گلیوں، کونوں کھدروں سے وین والے انکل وین نکالنے کی کوشش کرتے۔ ایک دن تو دوپہر اڑھائی بجے پرچہ تھا اور میں دو بجے سگیاں پل سے پیدل چل رہی تھی، سگیاں سے جی سی یونیورسٹی تک پیدل چلنے کے بعد ایک عدد رکشہ ملا اور تین بجے امتحانی ہال میں ہانپتی کانپتی پہنچی، ڈیوٹی پر موجود ٹیچر کے پاؤں پڑنے کے بعد سینٹر میں بیٹھنے کی اجازت ملی۔

کسی دن وین نہ ہوتی تو جہاں لوکل بس والے نا امید ہو کر بیس روپے ہاتھ میں تھماتے وہیں سے پیدل مارچ کا آغاز ہو جاتا۔ کبھی بارش ہو جاتی، مال روڈ پانی کے سیلاب میں ڈوب جاتا تو بیگ کندھے پر لٹکائے، ہاتھوں میں اخبار، یا اسائنمنٹ کا انبار ہوتا، جوتے بھی اتار کر ہاتھوں میں پکڑ لیے جاتے اور مال روڈ سے داتا دربار کی جانب مارچ شروع کر دیتی۔ وہاں پہنچ کر امید ہوتی کہ چلو اپنے علاقے کی گاڑی میں بیٹھ جائیں گے تو کبھی گھر پہنچ ہی جائیں گے۔

پھر میٹرو بس کے لیے جب لاہور کی سڑکوں کو ادھیڑا گیا، تب بھی ہر دوسرے دن میں کلس کلس جاتی، صبح یونیورسٹی تو کسی طرح پہنچ جاتی لیکن واپسی پر وہی خواری۔ جناب آپ کی بہن نے میٹرو بس کے لیے بھی خون جگر جلایا ہے۔ سردیاں آتیں، دھند کی وجہ سے میرا ایک گھنٹے کا سفر دو سے تین گھنٹوں میں بدل جاتا، پہلی کلاس مس ہو جاتی، لاہور میں جیسے ہی داخل ہوتے تو سورج منہ چڑا رہا ہوتا اور میری کلاس فیلوز اور ٹیچرز کو لگتا میں کون سا الاسکا کے جنگلوں سے آئی ہوں جو اتنی دھند تھی۔ وہ لوگ نہیں سمجھتے کہ بڑے شہروں کی نسبت کھلے علاقوں میں دھند کا اپنا ہی سماں ہوتا ہے۔

سفر کی صعوبتیں سہتے سہتے، میں نوکری تک پہنچ چکی تھی اور ایبٹ روڈ سے مال روڈ کی طرف سے گزرنے لگی، ہر روز بم دھماکوں میں مر جانے والوں کی یاد میں مال روڈ بند ہوتا تو کبھی کسان، سکول ٹیچر، کبھی نابینا اپنے مطالبات لیے لاہور کی کسی نہ کسی شاہراہ کو بند کر دیتے اور میں کبھی جاتے ہوئے تو کبھی آتے ہوئے راستوں میں پھنسی رہتی۔ خیر اب وکیلوں سے نکل کر دھرنوں کا سلسلہ مولویوں تک پہنچ چکا تھا۔ یہ بہت شدید تھا، کیونکہ دوسرے لوگ لاہور کی کسی ایک شاہراہ کو بند کرتے تھے، ان کے ساتھ کافی حد تک لوگوں کی جذباتی وابستگی بھی تھی، اس لیے یہ لوگ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کا نشانہ بناتے اور وہ بھی شام چار بجے کے بعد ۔

جوہر ٹاؤن میں میری جاب تھی، وہ بھی نئی نئی، پرانے دوستوں نے ایک عدد لنچ کا انتظام کر رکھا تھا، صبح معمول کے مطابق دفتر پہنچی تھی، آدھی چھٹی لے کر دوستوں کے ساتھ لنچ اڑایا تھا، لیکن واپسی پر یہ خبر ملی کہ جناب سب کچھ بند ہے۔ بند روڈ سے تاج کمپنی اور پھر راوی پل تک پیدل چلی، فون پر بھائی سے مستقل رابطہ، یہاں بتاتی چلوں، ہر دفعہ پھنسنے پر میرے بھائیوں میں کوئی نہ کوئی لاہور کی دوسری جانب ضرور میرا انتظار کرتا ہے۔

خیر راوی سے آگے ایک عدد رکشہ ملا اور فیض پور پہنچی، یہ ہڑتال اور دھرنا اتنی سخت نوعیت کا تھا کہ پیٹرول پمپ تک بند تھے، لہٰذا میرا بھائی نہ جانے کہاں سے پیٹرول کا بندوبست کر کے مجھے لینے پہنچا تھا اور وہ بھی بائیک پر۔ اتنا چلنے کے بعد جب میں بائیک پر بیٹھی تو شال کے ساتھ دوپٹہ بھی گلے میں تھا، وہ نہ جانے کب کہیں اڑ گیا، پتہ ہی نہیں چلا، آج تک مجھے وہ دوپٹہ نہیں بھولا، اتنے پیار سے میں نے بنوایا تھا، خیر اس کی تصویریں ضرور میرے پاس موجود ہیں۔ ایسے ہی ایک دن دفتر سے واپسی پر پارلر کا چکر لگایا، خوب سیلف کیئر اور ریلیکس ہونے کے بعد جب گھر لوٹنے لگی تو جناب بڑی عید قریب قریب تھی، سگیاں پل پر بکروں کی منڈی میں گھنٹوں خوار ہونے کے بعد جو پیسے ریلیکس ہونے پر لگائے تھے، انہیں برباد ہوتے دیکھ کر خوب دل جلایا۔

صحافی ہو کر، کورونا کے لاک ڈاؤن میں جیسے جیسے دفتر پہنچتی رہی ہوں، اس کی روداد پھر کبھی سہی۔ وطن عزیز نے، مشرف کی ایمرجنسی، وکیلوں کے دھرنوں، بم دھماکوں، الیکشن کے جلسوں، سے نکل کر کب مذہبی دھرنوں، اور نہ جانے کون کون سے دھرنوں کی جانب سفر طے کر لیا ہے اپنا مسئلہ ابھی بھی حل نہیں ہوا۔

پس تحریر:فی الحال روزانہ کا سفر موٹر وے کے کھلنے سے مشروط ہے جبکہ موٹر وے کا کھلنا دھند کی شدت سے مشروط ہے، دھند نہ ہو تو وزیر اعظم کی ہٹ دھرمی سے مشروط ہے۔ اس لیے اب میں نے اپنی سگی خالہ کے ساتھ تعلق بہتر بنا لیے ہیں، اب کسی مصیبت کی صورت میں ان کا آسرا ہوتا ہے، اتنے برسوں میں کچھ اچھے اور مخلص دوست بھی میسر ہیں جو میری ایک کال پر مدد کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ میں کالج گرل سے ورکنگ وومن بن چکی ہوں، اس دوران الیکشن ہوئے، دھاندلی ہوئی، سول نافرمانی کا اعلان ہوا، سونامی آیا پھر جلسے ہوئے، پھر الیکشن ہوئے، پھر کامیابیاں ہوئیں، پھر قتل ہوئے، پھر دھرنے ہوئے، پھر ہٹ دھرمیاں ہوئیں اور نہ جانے کیا کیا ہوا، البتہ پہلے صرف گھر ایک فون کر کے اپنی خواری کا قصہ سناتی تھی، اب فیس بک پر لائیو آجاتی ہوں، چلو اور نہ سہی ٹیکنالوجی میں تو ترقی ہوئی ہے ناں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •