گریٹ خان کی رحم دلی کا ایک قصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کی تاریخ میں بہت بڑے بڑے حکمران گزرے ہیں لیکن چنگیز خان سے وسیع سلطنت کسی کی نہیں تھی جو ایک ہی جغرافیائی حد میں باہم متصل ہو اور درمیان میں سمندر نہ آتے ہوں۔ چنگیز خان کو منگول پیار سے اور باقی لوگ خوف سے گریٹ خان کہتے تھے۔ گریٹ خان ایک سیدھا سادہ سا آدمی تھا۔ وہ زیادہ تین پانچ نہیں جانتا تھا۔ کسی ملک پر حملہ کرتا تو اسے نہایت فراخ دلی سے اپنی غلامی میں آنے یا موت میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی چوائس دیا کرتا تھا۔ وہ غلامی میں آ جاتے تو ان سے خراج اور سپاہی وغیرہ وصول کر کے انہیں زندہ رہنے دیا کرتا، ورنہ قتل کر دیتا۔

اسے تعمیرات کا بہت شوق تھا لیکن کیونکہ اس نے دنیا فتح کرنی تھی تو وقت کی کمی آڑے آتی تھی۔ اس لیے مفتوحہ علاقوں میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر اپنا شوق پورا کر لیا کرتا تھا۔ یوں مشہور ہو گیا کہ وہ بہت ظالم ہے۔ حالانکہ وہ صرف انہیں قتل کرتا تھا جو اس سے اختلاف کیا کرتے تھے۔ جو ذی شعور تھے، ان کی وہ بہت قدر کیا کرتا تھا۔

گریٹ خان کے بغداد وغیرہ تباہ کرنے کے قصے تو آپ نے سن رکھے ہوں گے، مگر شاید آپ اس بات سے واقف نہ ہوں کہ اس ظالم نے اچھے بھلے لاہور کو بھی کئی مرتبہ تباہ کیا۔ جلال الدین خوارزم شاہ سے اس کا کسی قسم کا اختلاف ہوا تو جلال الدین ادھر انڈیا آ گیا۔ روایات کے مطابق اس نے جہلم تک تو سب کو خوب مارا پیٹا مگر آگے اسے کھوکھر مل گئے۔ کھوکھروں کے ساتھ بدمعاشی اسے مہنگی پڑی تو اس نے چالاکی سے کام لیا اور ان کا داماد بن گیا۔ پھر اس کی فرمائش پر کھوکھروں نے اسے لاہور فتح کر کے دے دیا کہ چلو تم یہاں بیٹھ کر سلطانی کا شوق پورا کر لو۔

ادھر گریٹ خان کو یہ شخص بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ اس نے بالا دیوانہ نامی منگول جرنیل کو اس کے پیچھے لگا دیا۔ جنرل بالا دیوانہ جب بھی لاہور پر حملہ کرتا تو جلال الدین غائب ہو جاتا۔ جنرل بالا دیوانہ لاہور ہی کو تباہ کر کے واپس ہو جاتا۔ روایات کے مطابق ایسا تین سال میں کوئی تین مرتبہ ہوا۔ لاہور نے ایسی تباہی یا تو بالا دیوانہ کے ہاتھوں دیکھی یا پھر اب حالیہ تاریخ میں اس کا سامنا کر رہا ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی گریٹ خان کی، یہ بالا لاہوری خواہ مخواہ درمیان میں ٹپک پڑا۔ گریٹ خان انا کا بڑا پکا تھا۔ انکار سن ہی نہیں سکتا تھا۔ کہتا تھا کہ جو میں نے کہہ دیا وہی قانون ہے۔ کوئی اختلاف کرتا تو اسے بتا دیتا کہ یقین نہیں تو قانون کی کتاب نکال کر دیکھ لو۔ کتاب نکالی جاتی تو واقعی گریٹ خان کی بات درست نکلتی۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ گریٹ خان کی بات اس کتاب میں نہ لکھی ہو۔ گریٹ خان کے اقوال زریں پر مشتمل یہ کتاب ”یاسا“ کہلاتی تھی۔

ہوتے ہوتے ساری دنیا میں گریٹ خان ایک اڑیل، ہٹ دھرم، ضدی اور ظالم شخص مشہور ہو گیا۔ ایک مرتبہ کسی نے اس سے پوچھا کہ اے گریٹ خان، کبھی تمہیں کسی پر رحم آیا؟ گریٹ خان کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا ”ہاں ایک مرتبہ آیا تھا۔ میں خوب اچھی پوشاک پہنے ایک دعوت کھانے اپنے گھوڑے پر سوار ندی کنارے جا رہا تھا کہ ایک بدقسمت عورت کی چیخ پکار نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ میں اس کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ اس کا شیر خوار بچہ ندی میں ڈوب رہا ہے۔ مجھے اس ماں پر بہت ترس آیا۔ اب میں اپنے کپڑے تو خراب کر نہیں سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا نیزہ نکالا اور ایسا پرفیکٹ نشانہ لگایا کہ بچہ سیدھا اس میں پرویا گیا۔ میں نے اسے پانی سے نکال کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دیا۔ یوں نیکی کر کے مجھے بہت سکون ملا“ ۔

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ گریٹ خان کا دل رحم سے خالی نہیں ہوتا۔ اسے اپنی انا کا اسیر ہونا پڑتا ہے، اپنے قول کو قانون سمجھنا پڑتا ہے، عوام جیسے کیڑے مکوڑوں کی اوقات ہی کیا ہے اسے تو دنیا کے دیگر سب حکمرانوں سے خود کو برتر سمجھنا ہوتا ہے، ورنہ لوگ اس کی عزت نہیں کرتے۔

اچھا آپ لوگ حیران ہو رہے ہوں گے کہ گریٹ خان کے منگول ادھر افغانستان، سندھ اور جہلم پار کر کے لاہور تک آ گئے تھے تو یہاں ان کا نام و نشان کیوں نہیں ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ وہ آج بھی پاکستان میں رہتے ہیں۔ وہ ہزارہ کہلاتے ہیں۔ اب ہر عروج کی طرح ان کا بھِی زوال ہے۔ وہ اب کمزور اور مظلوم ہیں۔ اب گریٹ خان تو یہاں اپنی اساطیری رحم دلی کے ساتھ موجود ہے، مگر انا قدیم گریٹ خان جیسی ہونے کے باوجود وہ منگول نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1343 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar