تاشقند معاہدے میں کشمیر کو بنیادی حیثیت کیوں نہ مل سکی؟

فاروق عادل - مصنف، کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاشقند، ایوب خان
صدر ایوب خان (درمیان)، وزیرِ اعظم الیکسی کوسیجن (دائیں) اور وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری (بائیں) 10 جنوری 1966 – تاشقند

’ہائے رام مجھ کو بڈھا مل گیا۔‘ سوویت گلوکارہ نے جیسے ہی گانے کی استھائی اٹھائی، ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

یہ آٹھ جنوری 1966 کی شام تھی، اس وقت تک واضح ہو چکا تھا کہ تاشقند مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان اور انڈیا کے وفود کو اب خالی ہاتھ ہی یہاں سے واپس لوٹنا پڑے گا۔

انڈیا کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے دوران مذاکرات انتہائی بے لچک مؤقف اختیار کیا تھا۔ کیا یہ گانا ان کی سخت گیری پر ایک لطیف طنز تھا؟ اس بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن عین اس لمحے جب یہ گانا ختم ہوا، کچھ چہروں پر امید کی روشنی جگمگانے لگی کیونکہ سوویت وزیرِ اعظم کوسیجن جو اپنے دونوں مہمانوں، پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان اور انڈیا کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے ساتھ کنسرٹ میں موجود تھے، کسی نہ کسی طرح ان کے دلوں پر دستک دینے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

سوویت یونین کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات کے آغاز میں ہی کئی مسائل پیدا ہو گئے تھے اور خود پاکستانی وفد کئی قسم کے مسائل کا شکار تھا جس کی وجہ سے مذاکرات کی کامیابی کی راہیں مسدود ہوتی چلی گئیں۔

سنہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ جیسے ہی ختم ہوئی، دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع ہو گئیں۔

جن عالمی قائدین نے اس سلسلے میں سرگرمیاں شروع کیں، ان میں کینیڈا کے وزیر اعظم لیسٹر پیرسن، یوگوسلاویہ کے مارشل ٹیٹو اور مصر کے صدر جمال عبد الناصر شامل تھے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ہیرالڈ ولسن نے بھی ایک بیان دیا جس میں انھوں نے خود کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل یو تھانٹ سے اپیل کی وہ اس سلسلے میں متحرک ہوں۔

یہ سب سرگرمیاں اپنی جگہ لیکن سوویت یونین ان میں سب سے نمایاں تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جنگ بندی کے صرف دو روز کے بعد سوویت وزیراعظم الیکسی کوسیجن نے پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں کی قیادت سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی میزبانی میں دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کروانے کے لیے تیار ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ اور ان کا ملک تاشقند میں ان کا بخوشی خیر مقدم کرے گا۔

سوویت یونین کی یہ پیش کش اس اعتبار سے اہم تھی کہ اس ملک نے دونوں ملکوں کو جنگ سے بھی پہلے یعنی جب کشمیر میں کشیدگی جاری تھی، خبردار کیا تھا کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس کے نتیجے میں خطے پر جنگ کے بادل چھا جائیں۔

سوویت پیش کش کے جواب میں انڈین وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری نے لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی بھی سطح پر ہونے والی بات چیت میں کشمیر کے معاملے کی حیثیت بنیادی نہیں ہوگی۔

پاکستانی حکمراں فیلڈ مارشل ایوب خان کا ردعمل شاستری کی طرح فوری رد یا قبول کے بجائے نسبتاً جداگانہ تھا کیوں کیونکہ سوویت پیش رفت نے ان کے ذہن میں کئی سوالات بلکہ تشویش کی لہریں پیدا کر دی تھیں۔

اس دور کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر کے مطابق ان کے ذہن میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا سوویت یونین کا حرکت میں آنا اس وجہ سے ہے کہ امریکا اور برطانیہ نے اسے برصغیر میں کوئی کردار دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے؟

تاشقند، ایوب خان
ایوب خان کو تاشقند کے دورے میں کئی حیرانیوں کا سامنا کرنا پڑا

اگر ایسا تھا تو ان کے نزدیک یہ ایک خطرناک بات تھی جس کے اثرات کثیر الجہت ہو سکتے تھے۔ ان کے نزدیک اس کا پہلا منفی اثر پاکستان پر پڑ سکتا تھا کیونکہ انڈیا کے ساتھ سوویت یونین کی غیر معمولی قربت کے نتائج روایتی طور پر ہمیشہ ایسے ہی دیکھے گئے تھے۔

ایوب خان کا یہ خدشہ دوران مذاکرات اس وقت درست ثابت ہو گیا جب دوران مذاکرات یہ کھلا کہ پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی بہت سی باتیں انڈین وفد کے علم میں آچکی تھیں۔

ان کا دوسرا خدشہ یہ تھا کہ مغرب اس موقع سے فائدہ اٹھا کر چین کے خلاف انڈیا کے لیے ڈھال بن جائے گا جس سے خطے کا توازن بگڑ جائے گا۔

ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ایوب خان کے لیے خوش گوار نہ تھی۔

تاشقند جانے سے قبل ایوب خان نے برطانیہ اور امریکا کے دورے کیے۔ خطے کی صورت حال، مستقبل قریب میں ہونے والے تاشقند مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ ان ملکوں کے تعلقات کے ضمن میں یہ دورے بہت اہم تھے لیکن اس ضمن میں دورہ لندن خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے جس نے ایوب خان کی بہت سی توقعات اور منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔

لندن میں ایوب خان کی برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن سے طویل ملاقات ہوئی جس میں خطے کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جس میں پاکستان کی چین سے قربت، مستقبل میں انڈیا کے جارحانہ عزائم، خطے میں اسلحے کی تیز ہوتی دوڑ اور اس کے مضر اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

مسٹر ولسن نے دوران گفتگو سفارتی آداب کو ایک طرف رکھتے ہوئے چین کے لیے درندے کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ سرحدی معاہدہ کر کے ایک درندے کو اپنے ملک میں جگہ دے دی ہے۔

اس کے جواب میں ایوب خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دوستوں کے انتخاب میں آزاد ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ گذشتہ جنگ میں چین نے اس کی حمایت کی کیونکہ وہ ہمیں کسی بھی صورت میں ہزیمت زدہ نہیں دیکھنا چاہتا۔

اس بات چیت میں ایوب خان کے لیے سب سے زیادہ چونکا دینے والا مرحلہ اس وقت آیا جب انھوں نے برطانوی وزیر اعظم سے مسئلہ کشمیر پر حمایت طلب کی۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں کا مکالمہ اور ’باڈی لینگویج‘ بہت معنی خیز تھی جس کی منظر کشی الطاف گوہر نے اپنی کتاب ’ایوب خان: فوجی راج کے پہلے 10 سال‘ میں کی ہے۔

ہیرالڈ ولسن: برصغیر میں اسلحے کی فراوانی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تباہ کاری برطانیہ کے لیے باعث تشویش ہے لیکن وہ کشمیر کے معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ایوب خان: اس میں کیا رکاوٹ ہے؟

ولسن: (بات بدل کر) کیا الیکسی کوسیجن تاشقند میں ثالث کا کردار ادا کریں گے؟

ایوب: نہیں، لیکن مشورے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ (یہ کہہ کر ایوب خان کشمیر کے موضوع پر واپس آئے اور کہا) اگر کشمیر میں انڈیا کی سفاکی کے باوجود امریکا اور برطانیہ کچھ نہیں کرتے تو پاکستان اپنے آپشن اختیار کرنے میں آزاد ہے۔

ولسن: دولت مشترکہ تاشقند مذاکرات کے بعد مسئلہ کشمیر پر غور کرے گی۔

ایوب: اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک خود کار نظام اختیار وضع کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔

ولسن: (جو اس وقت میز کے نیچے ٹانگیں پھیلائے سگریٹ کے کش لے رہے تھے اور بڑی پرسکون کیفیت میں دھوئیں کے مرغولے اڑا رہے تھے، ایوب خان کی طرف دیکھا اور کہا کہ) وزرائے خارجہ بعض اوقات سربراہان مملکت سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے گھر سے دور ہوں۔

برطانوی وزیر اعظم کی گفتگو کے اس حصے میں دو باتیں پنہاں تھیں۔ ایک تو یہ کہ برطانیہ پاک انڈیا معاملات، خاص طور پر مسئلہ کشمیر میں کسی طرح سے بھی کوئی کردار ادا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

دوسری بات وزرائے خارجہ والی تھی۔ یہ بات کہہ کر وہ ایوب خان کی توجہ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے دورہ ماسکو اور اس کے اختتام پر ان کے بیان کی طرف مبذول کروانا چاہتے تھے۔

تاشقند مذاکرات کا نظام الاوقات اور دیگر ضروری تفصیلات طے کرنے کے لیے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے 25 نومبر 1965ء کو ماسکو کا دورہ کیا تھا۔

دورے کے اختتام پر انھوں نے بیان دیا تھا کہ پاکستان ان مذاکرات میں غیر مشروط طور پر شرکت کے لیے تیار ہے۔ بھٹو صاحب کے اس بیان کو عالمی پریس میں نمایاں جگہ ملی لیکن پاکستان پہنچتے ہی انھوں نے مختلف بات کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماسکو میں انھوں نے سوویت حکام سے ان تجاویز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے جو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے تاشقند مذاکرات میں پیش کرنے والے ہیں۔

الطاف گوہر کے مطابق مسٹر بھٹو کے اس بیان پر عالمی پریس نے جب سوویت وزیر خارجہ آندرے گرومیکو سے سوال کیا تو انھوں نے خاموشی اختیار کی، گویا یہ ایک پیچیدہ مسئلے کے حل کے سلسلے میں ایک میزبان اور کسی حد تک ثالث ملک کی طرف سے ایک فریق اور مہمان ملک کے وزیر خارجہ کو سبکی سے بچانے کی ایک کوشش تھی۔

پاکستانی وفد کے سربراہ کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی یہ دوسری اور غیر معمولی وجہ تھی۔

پاکستانی وفد کے سربراہ یعنی ایوب خان کو تیسرا جھٹکا تاشقند پہنچ کر لگا۔ تاشقند مذاکرات اور اس میں شریک ہونے والے وفود کے خیر مقدم کے لیے سوویت حکام نے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ میزبانوں کی نگاہ میں دونوں فریقین یکساں اہمیت رکھتے ہیں، اس مقصد کے لیے ایئرپورٹ سے شہر تک پاکستان اور انڈیا کے قومی پرچم یکساں تعداد میں لگائے گئے۔

دونوں ملکوں کے وفود شہر میں داخل ہوئے تو مختلف مقامات پر تاشقند کے شہری جمع ہوئے۔ زیرک سوویت انتظامیہ نے ان استقبالی ہجوموں کی تعداد یکساں رکھنے کا بھی اہتمام کیا تھا۔ ایوب خان اور شاستری کے استقبال کے موقع پر بس ایک فرق ہی دیکھنے میں آیا۔ تاشقند کے لوگوں نے شاستری کو دیکھا تو قد کاٹھ کے اعتبار سے انھیں منحنی پایا اور شباہت میں لینن کا ہم شکل، لہٰذا انھیں ’چھوٹا لینن‘ کا خطاب دے دیا۔

ان ہلکی پھلکی باتوں کی اطلاع اڑتے اڑتے پاکستانی وفد تک بھی پہنچی۔ چھوٹا لینن والی بات ایوب خان تک پہنچی ہوگی تو ان کے سرخ و سفید چہرے پر یقیناً مسکراہٹ بکھر گئی ہو گی لیکن ایک بات ایسی تھی جس نے ان کے تقریباً ہوش اڑا دیے۔

لال بہادر شاستری
وزیرِ اعظم لال بہادری شاستری تاشقند معاہدے کی رات ہی دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئے

تاشقند پہنچتے ہی حکمت عملی طے کرنے کے لیے پاکستانی وفد کا اجلاس ہوا اور مذاکرات کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ جان کر سب کے ہوش اڑ گئے کہ اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے کوئی کام ہی نہیں کیا۔

اس سطح کی بات چیت کے مواقع پر وفود اپنی سہولت اور حکمت عملی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایجنڈا تجویز کرتے ہیں اور فریقین کے حکام اس پر بات چیت کر کے اسے حتمی شکل دیتے ہیں۔ ایوب خان کو ایک اور جھٹکا اُس وقت لگا، جب انھیں معلوم ہوا کہ وزارت خارجہ نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے لیے تقریر کا مسودہ بھی تیار نہیں کیا۔

ایسا کیوں تھا؟ الطاف گوہر نے اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا ہے، ایک تو انھوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزارت خارجہ جانتی نہ تھی کہ مذاکرات کی نوعیت کیا ہوگی اور ان میں کس کا کیا کردار کیا ہے؟

انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا سربراہ مملکت کے دفتر اور وزارت خارجہ کے درمیان رابطے ٹوٹ چکے تھے؟ ان سوالوں کے بعد انھوں نے ریاست کے مختلف اداروں کے مابین رابطوں اور ہم آہنگی کے فقدان کا نقشہ کھینچا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف ادارے اور ذمہ دار اپنے اپنے انداز میں سوچ رہے تھے اور اپنے اپنے ذہن کے مطابق مصروف عمل تھے یعنی ملک اس وقت یکسوئی کے بجائے منتشر خیالی بلکہ طوائف الملوکی کا منظر پیش کر رہا تھا۔

اس کا سبب یہ تھا کہ جنگ کے دوران اور اس سے پہلے یعنی آپریشن جبرالٹر کے موقع پر تمام متعلقہ محکموں اور ان کے ذمہ داران کے درمیان تعاون اور فکری ہم آہنگی کا فقدان بے نقاب ہو چکا تھا جس سے ایوب خان آگاہ تھے۔ اسی سبب سے یہ خیال عام تھا کہ سیکریٹری خارجہ عزیز احمد کو بہت جلد تبدیل کرکے اُن کی جگہ صدر مملکت کے سیکریٹری ایس ایم یوسف کو تعینات کر دیا جائے گا۔

یہ تمام واقعات ایسے تھے، جو ایک مشکل اور پیچیدہ مذاکرات کے لیے آئے ہوئے کسی وفد اور خاص طور پر اس کے سربراہ کے اعتماد کو توڑ کر رکھ دیں، لیکن ایوب خان کو ابھی ایک اور حیرت کا سامنا کرنا تھا۔

انھوں نے سیکریٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ وہ مذاکرات کے افتتاحی اجلاس کے لیے فوری طور پر اُن کی تقریر تیار کریں۔ اس مقصد کے لیے ایوب خان نے انھیں ذاتی طور پر تقریر کے نکات سے بھی آگاہ کیا۔

عین اُس وقت جب سیکریٹری اطلاعات نے تقریر لکھنی شروع کی، وزیر خارجہ بھٹو نے مداخلت کی اور کہا کہ مذاکرات کے آغاز میں ہی کشمیر کا خصوصی حوالہ مناسب نہیں ہوگا، چنانچہ تقریر وزیر خارجہ کی ہدایت کے مطابق لکھی گئی۔

اس ’حکم عدولی‘ پر سربراہ مملکت نے کس ردعمل کا اظہار کیا، الطاف گوہر نے یہ نہیں بتایا جس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے خاموشی اختیار کی ہوگی۔

مگر اتنی غیرمعمولی بات پر ایوب خان نے خاموشی کیوں اختیار کی ہوگی؟ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ تاشقند مذاکرات میں کشمیر کے معاملے پر ان کے سامنے خود ان کے وزیر خارجہ کی طرف سے اختیار کی گئی حکمت عملی کا قدم قدم پر جو انکشاف ہو رہا تھا، اس نے انھیں اس نتیجے پر یقیناً پہنچا دیا ہو گا کہ وہ جو بازی کھیلنے جا رہے ہیں، اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی شکست کا انتظام کر دیا گیا ہے۔

ایوب خان کو ان مذاکرات کے سلسلے میں داخلی سطح پر جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اس کا فطری نتیجہ یہی ہو سکتا تھا کہ مذاکرات میں وہ سخت مؤقف اختیار کرتے۔ اس پس منظر کے باوجود بات چیت کی ابتدا میں مایوسی کے کوئی خاص آثار دکھائی نہیں دیے۔

پانچ جنوری کی صبح ایوب خان اور شاستری کے درمیان اور کچھ دیر کے بعد وزرائے خارجہ یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور سردار سورن سنگھ کی ملاقاتیں ہوئیں۔

الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ مذاکرات میں شریک کسی فرد نے اس روز کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا جس سے کوئی مایوسی جھلکتی ہو لیکن اگلے روز کی ملاقات کے بعد ایوب خان نے کھانے کے دوران اپنے رفقا سے جو بات چیت کی، اس سے مایوسی جھلکتی تھی۔

ایوب خان نے بتایا کہ شاستری یوں تو ’معقول آدمی‘ دکھائی دیتے ہیں لیکن مذاکرات کے دوران انھوں نے ایک ہی رٹ لگائے رکھی:

’جنرل تم میرے مسائل سمجھنے کی کوشش کرو۔ میرے اپنے ملک میں مجھے بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ میں نے ایک بہت بڑے آدمی کی جگہ لے لی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میں اس کام (یعنی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے) کے لیے اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھتا ہوں۔‘

ایوب خان کہتے ہیں کہ انھوں نے شاستری کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا کہ تاریخ نے انھیں ایک عظیم کردار کے لیے منتخب کیا ہے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایوب خان کا یہ بیان اور اس سلسلے میں الطاف گوہر کی گواہی ایک طرف، دوسری طرف انڈین وزیر اعظم شاستری مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اپنے بے لچک مؤقف کی تو تائید کرتے ہیں لیکن ایوب خان سے اپنے ایک مکالمے کا بھی انکشاف کرتے ہیں جس سے مذاکرات میں شریک شخصیات کا اس سے مختلف تاثر سامنے آتا ہے جو ایوب خان کے بیان سے بنتا ہے۔

لال بہادر شاستری کے معاون خصوصی اور بعد میں ان کے سوانح نگار سی پی سری واستوا نے اپنی کتاب ’سیاست میں سچ: لال بہادر شاستری‘ میں ایوب شاستری مکالمہ اس طرح نقل کیا ہے:

’ایوب: کشمیر کے مسئلے میں کچھ ایسا کر دیجیے کہ میں بھی اپنے ملک میں منھ دکھانے کے قابل رہوں۔

شاستری: صدر صاحب! میں بہت معافی چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں آپ کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا۔‘

اس سے پہلے کہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہو جاتا، روسی متحرک ہوئے اور وزیر اعظم کوسیجن نے اس سلسلے میں ایوب خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انھوں نے معاہدے کا ایک مسودہ اس درخواست کے ساتھ پیش کیا کہ اس پر غور کر لیا جائے کیوں کہ اگر یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے تو دنیا میں یہ تاثر جائے گا کہ مسائل کا حل صرف طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مسودے میں مسئلہ کشمیر کا ذکر بھی شامل کیا گیا ہے جس پر انڈین وزیر اعظم کو بڑی مشکل سے آمادہ کیا گیا ہے، اور سوویت یونین مسودے میں مسئلہ کشمیر کے حل کا ایک خود کار نظام بھی شامل کرنے کا خواہش مند تھا لیکن شاستری اس پر آمادہ نہیں ہیں۔

کوسیجن کے جانے کے بعد پاکستانی وفد نے مسودے پر غور کیا۔ وزیر خارجہ بھٹو مسودے سے مطمئن دکھائی دیے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس میں مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی خود کار نظام تجویز نہیں کیا گیا، لیکن اس میں جموں و کشمیر کا حوالہ شامل ہے جو از خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ اپنے اس مؤقف کے باوجود انھوں نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ پاکستانی عوام اس معاہدے کو آسانی کے ساتھ قبول نہیں کریں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو
تاشقند میں وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ایوب خان کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آ گیا

سات جنوری کو ایوب خان، شاستری اور کوسیجن کے درمیان اس مسودے پر بات چیت کے کئی ادوار ہوئے جن کے بعد پاکستان نے اس مسودے کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا اور نئی دلی میں پاکستانی ہائی کشمنر ارشد حسین کے ذریعے انڈین وزیر خارجہ کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔

ارشد حسین نے ایوب خان کو بتایا:

’جب میں نے سورن سنگھ کو فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ ہکا بکا رہ گئے اور چند لمحوں کے لیے ان کے منھ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔‘

رات کے کھانے کے بعد بھٹو صاحب اور عزیز احمد نے سوویت مسودے کا ایک بار پھر جائزہ لیا۔ مسودے کی ایک شق میں لکھا تھا:

’دونوں فریق اپنے تنازعے پرامن ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے طاقت کے استعمال کے بغیر حل کریں گے۔‘

بھٹو صاحب نے یہ شق کاغذ کے ایک پرزے پر لکھ کر عزیز احمد کو دی۔ عزیز احمد اسے دیکھ کر غصے سے بے قابو ہو گئے اور انھوں نے یہ کاغذ توڑ مروڑ کر بھٹو کے منھ پر دے مارا۔ بھٹو صاحب کا چہرہ زرد ہوگیا۔ عزیز احمد نے چیختے ہوئے کہا:

’ہمیں پر امن ذرائع جیسے بے معنی لفظوں کو زبان پر نہیں لانا چاہیے۔‘

آٹھ جنوری 1966 کی شام تک دونوں وفود میں رابطے منقطع ہو گئے۔ اب کسی معاہدے کا امکان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہاں سوویت حکام ایک بار پھر متحرک ہوئے۔ دونوں وفود کو عشائیے پر مدعو کیا گیا، جس کے اختتام پر محفل موسیقی جمی اور روسی فن کاروں نے حاضرین کو روسی موسیقی سے لطف اندوز کرنے کے علاوہ پاکستانی اور انڈین گانے بھی سنائے۔

یہی موقع تھا جس کے بعد وزیر اعظم کوسیجن نے دونوں ملکوں کو ایک بار پھر بات چیت پر آمادہ کر لیا۔ آٹھ جنوری کی شام کوسیجن ایوب خان سے دوبارہ ملے۔ اس موقع پر طاقت کے استعمال سے گریز والے متنازع الفاظ کے متبادل الفاظ شق میں شامل کیے گئے۔ الطاف گوہر کے مطابق متبادل الفاظ کی تلاش میں کافی وقت صرف ہو گیا۔

اس موقع پر ایوب خان نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ مسودے میں مسئلہ کشمیر کے خود کار حل کا نظام بھی شامل ہونا چاہیے، تو کوسیجن نے جو الطاف گوہر کے الفاظ میں اس مجادلے سے تھک چکے تھے، بڑے تحمل اور بردباری کے ساتھ کہا:

’جناب صدر! اس مرحلے پر آپ کا یہ اصرار مناسب نہیں۔ آپ کے وزیر خارجہ ماسکو میں یہ یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ ان مذاکرات میں کشمیر کو فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔‘

یہ کہہ کر کوسیجن بھٹو صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن سے سوال کیا:

’کیا یہ بات درست نہیں؟‘

بھٹو خاموش رہے۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد بھٹو صاحب نے اس گفتگو میں صرف ایک بار حصہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ مسودے سے یہ شق خارج کر دی جائے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ پروپیگنڈا نہیں کریں گے۔ اس پر کوسیجن نے یہ کہہ کر بھٹو کو خاموش کردیا:

’دونوں ملک پر امن تعلقات بھی قائم کرنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ پروپیگنڈا بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں، آخر دنیا والے کیا سوچیں گے؟‘

تاشقند، ایوب خان
ایوب خان چاہتے تھے کہ تاشقند معاہدے میں کشمیر کو بنیادی حیثیت حاصل ہو تاہم ایسا نہیں ہو سکا

معاہدے پر دستخط ہو گئے تو ایوب خان نے کہا کہ اس میں کشمیر کا ذکر ضروری تھا، ایک دن آئے گا کہ انڈین قیادت کو تنازع کشمیر کے حل کی قدر و قیمت کا حساس ہو جائے گا۔ شاستری نے کہا کہ اس معاہدے سے بہت کچھ حاصل ہوا ہے اور دونوں ملکوں نے پرامن تعلقات کی بحالی کی طرف ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔

اسی رات لال بہادر شاستری دل کے دورے کے سبب وفات پا گئے اور ان کی میت کو جہاز میں سوار کرواتے وقت ایوب خان نے بھی کاندھا دیا۔ یہ تصویر پاکستان میں شائع ہوئی تو عوام نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

شاستری کی موت کے ہنگامے کے دوران ہی وزیر اطلاعات خواجہ شہاب الدین کو بھی دل کو دورہ پڑ گیا لیکن کسی کو اس کی خبر ہی نہ ہوسکی۔ خواجہ شہاب الدین کو پاکستانی وفد کی وطن واپسی کے بعد بھی علاج کے لیے کئی روز تک تاشقند میں قیام کرنا پڑا۔

وطن واپسی کے دوران جہاز میں ایوب خان نے سوال کیا کہ انھیں اسلام آباد پہنچ کر معاہدے کے بارے میں کیا بیان دینا چاہیے؟ بھٹو صاحب اور عزیز احمد نے انھیں مشورہ دیا کہ انھیں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دینا چاہیے۔

سینئر صحافی محمد سعید نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ معاہدہ تاشقند کے بارے میں محمکہ اطلاعات کے ڈپٹی سیکریٹری مجاہد کاظمی نے پریس کانفرنس میں ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا اور اس موقع پر سوال جواب کا سیشن نہیں رکھا گیا۔ اتنے اہم معاہدے کا اعلان اتنے غیر سنجیدہ طریقے سے کرنے کا نتیجہ کیا نکلا، محمد سعید لکھتے ہیں:

’مجاہد کاظمی چونکہ مرنجاں مرنج انسان تھے، خوش شکل، خوش گفتار، اس لیے بہت سے احباب کی ان سے بے تکلفی تھی چنانچہ اعلان پڑھنے سے قبل ہی فضا یکسر تمسخر کی تھی۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس پریس کانفرنس کے بعد معاہدے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی جس افسر سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی، وہ ’طبیعت کی خرابی کی وجہ سے‘ جلد سو چکا تھا۔

معاہدہ تاشقند نے ملک میں ایک سیاسی بحران کی بنیاد رکھ دی تھی اور محمد سعید کے مطابق اس واقعے کے فوراً بعد ملک میں ردعمل کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، جس میں کئی افراد مارے گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •