ہماری سوساٸٹی اور عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دوپٹہ اگر عورتوں کو تعظیم دلواتا تو دوپٹہ اوڑھنے والی کبھی جنسی ہراسانی، جنسی اذیت یا جنسی حملے کا شکار نہ ہوتی۔ دوپٹے کو مذہب سے جوڑکر دیکھا جائے تب بھی تعظیم نہیں ملتی صرف حکم ہی حکم ملتا ہے۔ یہ محض ایک کلچر اور فیشن کا حصہ ہے جو زیب و زینت بھی بڑھاتا ہے۔

یہ کہنا کہ دوپٹہ پہننے والی حیا دار ہوتی ہے اور نہ اوڑھنے والی بے حیا، یہ محض ایک روایتی فتور ہے اور عورت کو گرفت میں رکھنے کا بہانہ۔ حیا تربیت اور سوچ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا تعلق صرف عورت سے نہیں ہوتا۔ مرد کا حیا دار ہونا بھی ضروری ہے۔ جب تک حیا دونوں فریقین کی تربیت میں یکساں طریقے سے شامل نہیں ہو گی ایک دوسرے کے لیے عزت پیدا نہیں ہو گی۔

شرم کو حیا کے ساتھ نتھی کرنا بھی ایک اخلاقی غلطی ہے۔ شرم کسی کا زیور نہیں، مرد کا نہ عورت کا۔ شرم شخصیت میں کجی چھوڑتا ہے۔ شرم تعلیم اور سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ شرم کو مثبت سمجھنا غلطی ہے۔ بہت سے شرمیلے خاموشی سے منفی کاموں میں پڑے رہتے ہیں اور معاشرہ ان کے شرمیلے پن کو ان کی پاکیزگی گردانتا رہتا ہے۔

نسوانیت کا ٹائٹل بھی شخصیت کی روک ٹوک کا آلہ ہے۔ بچہ ہو یا بچی، لڑکا ہو یا لڑکی سوسائٹی انہیں ایک جیسی نظر اور قوانین سے دیکھے تب ہی معاشرے میں جنسی ہوس میں کمی آئے گی۔ عورت کو مرد کے تابع رکھنے کا شوق عورت کو کمزور بناتا ہے۔ اگر لڑکا لڑکی دوست رہیں تو دوپٹے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

عورت اور مرد دونوں کی تشکیل میں جسمانی ساخت اور عضو کا فرق ہوس کے لیے نہیں ، ایک جمالیاتی احساس اور نسل کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ ابھار اور نشیب و فراز دیکھ یا سوچ کر اپنے جیسی ہی ایک مخلوق کو جنسی بربریت کا نشانہ بنانا آپ کی شخصیت کی ناہمواری کو ظاہر کرتا ہے۔ سوسائٹی کے قوانین اور ماحول کی سادگی ہی اس بربریت کو کم کر سکتی ہے۔

آپ لڑکے اور لڑکی میں جتنا فرق پیدا کریں گے ، معاشرتی حیوانیت اتنی ہی زیادہ بڑھے گی۔ بچوں کی ذہنی نشوونما میں لڑکے لڑکی کی تمیز اجاگر نہ کیجیے بلکہ دونوں کو ایک ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھیلنے کودنے، پڑھنے لکھنے اور کھانے پینے کی آزادی دیجیے۔ دونوں کو بچپن سے ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھائیے۔

جو آزادی آپ اپنے بیٹے کو دیتے ہیں ، وہی بیٹی کو بھی مہیا کیجیے پھر دیکھیے ہر رشتے میں اور کمیونٹی میں کیسے سدھار آتا ہے۔ جو ہو چکا اس سے نمٹنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اب جو نئی نسل اپنے بچپن کے ساتھ ہمارے درمیان میں ہے ، اس کی تربیت کیجیے اور ان کے لئے نئے معاشرتی قوانین بنائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •