صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں قرارداد پیش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
امریکی کانگریس کی عمارت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے حملے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر کے مواخذے کے لیے قرارداد پیش کر دی ہے۔

پیر کو ایوان میں پیش کی جانے والی چار صفحات پر مشتمل قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس بات کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی، جمہوریت اور آئین کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے اُنہیں صدارتی آفس میں مزید قیام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ قانون کی حکمرانی اور گورننس سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدر کے مواخذے کے لیے ایسے وقت ایوان میں قرارداد سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ کی صدارت کی چار سالہ مدت 20 جنوری کو مکمل ہو رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کو دوسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ کو دوسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

یہ دوسرا موقع پر جب صدر ٹرمپ کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی ہو رہی ہے۔

آخری مرتبہ 2019 کے اواخر میں صدر ٹرمپ کو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں بیرونِ ملک کی مدد حاصل کرنے کے الزام میں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور ایوانِ نمائندگان نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تاہم سینیٹ نے فروری 2020 میں صدر کو اس الزام سے بری کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں پیر کو ایک مرتبہ پھر پیش کی جانے والی قرارداد پر آئندہ ایک سے دو روز میں ووٹنگ متوقع ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ری پبلکن جماعت پر معمولی برتری بھی حاصل ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے 218 ارکان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد پر دستخط کیے ہیں اور وہ 435 ارکان پر مشتمل ایوان میں کثرتِ رائے سے قرارداد کی منظوری کے خواہاں ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایوان کے سربراہ صدر ٹرمپ کے ٹرائل اور اُنہیں صدارتی آفس سے بے دخل کرنے کے لیے یہ قراردار فوری طور پر سینیٹ بھیجیں گے یا نہیں۔

نو منتخب صدر جو بائیڈں نے کہا ہے کہ اُنہیں امید اور توقع ہے کہ سینیٹ صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کرے گی اور ان کی کابینہ کے لیے منتخب افراد کی منظوری بھی دے گی۔

کیا صدر ٹرمپ کا مواخذہ ہو سکے گا؟

جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے 20 جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ وہ کیپٹل ویسٹ اسٹیپ کے مقام پر عہدے کا حلف لینے سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔

دارالحکومت واشنگٹی ڈی سی کا یہ وہ مقام ہے جہاں امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب ہوتی ہے اور اسی مقام پر گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ اُن فسادیوں کو اپنے کیے کا جواب دینا ہو گا جنہوں نے عوام کی املاک کو نقصان پہنچایا اور وہ انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے۔

یاد رہے کہ چھ جنوری کو صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ کی جب کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اہلکار اور ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 997 posts and counting.See all posts by voa