کیپٹل ہل حملہ: سیکیورٹی اہل کار مظاہرین کو کیوں نہیں روک سکے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت پر اس وقت دھاوا بولا تھا جب وہاں نومنتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔
ویب ڈیسک — یو ایس کیپیٹل پولیس کے سبکدوش ہونے والے پولیس چیف نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے مظاہرین کی کانگریس کی عمارت پر چڑھائی سے پہلے انہوں نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے سیکیورٹی حکام سے ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈز کی طلبی کی درخواست کی تھی لیکن اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔پولیس چیف اسٹیون سنڈ نے اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کو بتایا کہ نیشنل گارڈ کی مدد سے حملہ آوروں کو زیادہ دیر تک روکا جا سکتا تھا اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزید نفری آ سکتی تھی۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس چیف سنڈ نے سینیٹ کے سارجنٹ ایٹ آرمز مائیکل اسٹنگر کو تجویز دی تھی کہ وہ نیشنل گارڈ سے ان کے عملے کو بوقت ضرورت تیار رہنے کے لیے کہیں۔

لیکن اُن کے بقول ایوانِ نمائندگان کے سارجنٹ ایٹ آرمز پال ارونگ نے کہا کہ اُنہیں یہ پریشانی ہے کہ صد ٹرمپ کے حامیوں کے احتجاج سے پہلے ایسا کرنے کو ایمرجنسی کے اعلان کے طور پر دیکھا جائے گا۔

مظاہرین پولیس کی رکاوٹیں پھلانگ کر عمارت پر چڑھ گئے۔ 6 جنوری 2021
مظاہرین پولیس کی رکاوٹیں پھلانگ کر عمارت پر چڑھ گئے۔ 6 جنوری 2021

اخبار ‘دی واشنگٹن پوسٹ’ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے سینیٹ کے سیکیورٹی افسر اسٹنگر نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ ایوانِ نمائندگان کے سیکیورٹی افسر ارونگ سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا۔

وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یو ایس کیپیٹل پولیس نے پینٹاگون سے کانگریس پر حملے سے قبل نیشنل گارڈ کی مدد کے لیے درخواست نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ بدھ کو صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے اور ہنگامہ آرائی میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج سے پہلے یو ایس کیپیٹل پولیس نے صدر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے اس ہنگامہ آرائی کے واقع سے قبل پولیس کی مزید نفری تعینات کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔

مظاہرین کیپیٹل ہل میں اسپیکر کے دفتر میں داخل ہو گئے۔ 6 جنوری 2021
مظاہرین کیپیٹل ہل میں اسپیکر کے دفتر میں داخل ہو گئے۔ 6 جنوری 2021

‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کیسے اتنی آسانی سے کیپیٹل پولیس کے محدود تعداد میں موجود اہل کاروں کی بندشوں کو پھلانگ کر آگے بڑھ گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اس دن اس ضروری ساز و سامان سے لیس نہیں تھی جو کہ ہنگامہ آرائی کی صورتِ حال سے نمٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب احتجاج میں شامل لوگوں نے کیپٹل ہل کی عمارت پر ہلہ بولنا شروع کیا تو ایک پولیس لیفٹیننٹ نے گولی نہ چلانے کی ہدایت کی۔ یہ امر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عمارت کے باہر تعینات پولیس افسروں نے حملہ آور ہجوم کے خلاف اسلحہ کیوں استعمال نہیں کیا۔

بعض اوقات پولیس کو ان کے افسروں کی طرف سے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ حالات کے بگڑنے کے خطرے کے پیشِ نظر اسلحہ استعمال نہ کریں کیوں کہ ہو سکتا ہے اس سے بھگدڑ مچ جائے یا گولیاں برسنے لگیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 942 posts and counting.See all posts by voa