مولانا چائے کے وقت کیا یاد رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن کے لیے پیغام بڑا واضح ہے ’’پنڈی آئیں گے تو چائے پانی پوچھیں گے لیکن ان کے آنے کی کوئی وجہ نہیں‘‘۔ فروری 2019ء کے بعد فوج میں چائے پلانے کا مطلب تبدیل ہو چکا۔ اب یہ اس خاطر تواضع کے ہم معنی ہے جو محاورے میں استعمال ہوتی ہے ، اس حالت کا بیان جو ابھی نندن کے ساتھ بیتی۔ مولانا رمز شناس ہیں۔ کیوں نہ ہوں ،ساری عمر اسی کوچے میں مصرعے اٹھاتے اور غزل سرا رہے ہیں۔ فوراً جواب دیا ’’خود تو پاپا جونز کے پیزے کھائیں او رہمیں چائے پر ٹرخا دیں‘ یہ تو کوئی مہمان داری نہ ہوئی۔

‘‘ مولانا کی مبلغ سیاست کیا ہے‘ وہ مسلکی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ یوں کہیے مسلک کے پورے ووٹ بھی انہیں حاصل نہیں۔ قومی سیاست میں وہ زندہ رہتا ہے جو حالات سے ہم آہنگ ہو۔ دنیا میں جمہوری قوموں کی تاریخ اس تجربے سے بھری پڑی ہے کہ کوئی مقبول لیڈر اپنی انتظامی کارکردگی سے زیادہ حالات کا رخ نہ پہنچاننے کی وجہ سے غیر مقبول ہوتا ہے۔ مولانا کبھی اپنے حلقے سے اوپر نہ اٹھ پاتے اگر ان کی افغان جہاد میں افادیت نہ ہوتی۔

جہاد کے پیسے امریکہ سے آتے‘ امریکہ کوہماری زمین سے جو سوغات کام کی ملی اس نے اسے اہم بنا دیا۔ چالیس برس ہوتے ہیں امریکہ کی منتخب ضروریات پاکستان کی ضرورت بنی رہیں‘ ااب امریکہ اپنا کچرا پھینک کر اس سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ افغانستان میں امریکہ نے اپنے کئی سابق حامی خود انجام کو پہنچائے‘ پاکستان اپنی پالیسی بدل چکا۔ چین اور روس کا استقبال کیا جارہا ہے۔یہاں عالمی ضرورتوں کا جتنا کچرا تھا اب وہ تلف کرنے کا وقت آگیا، سابق خدمات کی پنشن بند ہو چکی ، ریاست کی ترجیح عام آدمی کی صحت و تعلیم بن رہے ہیں ،اس مالیاتی تنگی میں کون عقل کا اندھا ایسے لشکر پالے جو سیاست نہیں ریاست کے وسائل چوستے رہے ہیں ۔

مولانا کا ہنر یہی رہا تو وہ خود کو بیکار ہی سمجھیں۔ مولانا کے ساتھی انہیں انتہائی ہوشیار جانتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے ساتھی بھی انہیں سب پر بھاری قرار دیتے ہیں۔ مولانا بھرے جلسوں میں جوش سے ابلتے کارکنوں سے خطاب کرتے ہیں تو جانے کیوں بڑے بڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔وہ زمین اور آسمان کے درمیان آگ بھرنے کے ارادے سے مائیک تھامتے ہیں ، کہتے ہیں : ہم دیکھتے ہیں ہمارے بغیر یہ ریاست کیسے چلتی ہے۔ حضرت آپ کے بغیر ہوا چل رہی ہے‘ زمین گھوم رہی رہے‘ سورج روز نکلتا ہے‘ دن روز ڈھلتا ہے۔ خدائی دعوے نہ کریں۔بھلا کوئی اتنا ناگزیر کب رہا ۔

اپوزیشن کے نئے رہنما جمہوریت کے بنیادی تقاضے سے واقف نہیں‘ اسی سے اندازہ لگائیں کہ ان کے خاندانوں نے ان کی سیاسی تربیت کس درجہ غیر معیاری کی ہے۔ کوئی نہیں‘ افسوس کوئی نوابزادہ نصراللہ اور بے نظیر بھٹو نہیں جو انہیں یاد دلا سکے کہ اپوزیشن‘ گورنمنٹ ان ویٹ ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کون ہوتی ہے۔ وہ منتخب تنظیم جو ریاستی اختیار استعمال کرنے کی آئینی حقدار ہوتی ہے۔ یہ اختیار پیپلز پارٹی نے برتا، مسلم لیگ ن نے خوب آزمایا ، مولانا نے دونوں سے زیادہ اس کا لطف لیا ۔ریاست حساب مانگتی ہے یہ اسے انتقام کہہ دیتے ہیں۔

آج عمران خان حکومت میں ہیں تو کل بلاول یا مریم کی حکومت آ سکتی ہے۔ یہ آس سیاسی جماعتوں کو حکومت کی خامیوں‘ کوتاہیوں کو اجاگر کرنے کی ترغیب دیتی ہے لیکن وہ ریاست کی وفادار رہتی ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جماعتیں حکومت کی بجائے ریاست کو چیلنج کریں، ریاست سیاست اور حکومت میں فرق رکھے اس کے لئے پہلے خود مثال قائم کرنا ہوتی ہے ، پھر یہ نہیں کہتے کہ عمران سے بات نہیں کرتے عمران کے لانے والوں سے مخاطب ہیں۔

پی ڈی ایم کی قیادت مولانا کے پاس ہے۔ پی ڈی ایم کی تشکیل اور پھر اس کے جلسوں پر کتنا خرچ ہوا ، کیا کوئی جاننا چاہتا ہے ، ایک حسابی دوست کے خیال میں ڈھائی ارب اب تک لگ چکا ، زیادہ بھی ہو سکتا ہے ۔مولانا کہتے ہیں کہ پاک افغان سرحد پر باڑ اکھاڑ پھینکیں گے۔ پی ٹی ایم والے بھی یہی کہتے ہیں‘ پنجاب دشمن اچکزئی بھی ایسا کہتا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے تو بات ختم کردی ’’افغان سرحد بر باڑ حکومت نے نہیں ریاست نے لگائی ہے۔کسی کی مجال نہیں کہ سرحد پر باڑ اکھاڑ سکے۔‘‘

کیا مولانا اپنے چند ہزار کارکنوں کو فوج کے سامنے کھڑا کرسکتے ہیں‘ کیا یہ کارکن مولانا کو حق دیں گے کہ وہ ریاست دشمنی پر اتر آئیں؟کیا پی ڈی ایم اس بیانئے کے ساتھ گورنمنٹ ان ویٹ کی معززحیثیت پا سکتی ہے ؟ یونہی دماغ میں ایک سوال آ گیا‘ پوچھا کیا ریاست مولانا کو انگیج کرنا چاہتی ہے۔ جواب ملا۔ کیوں انگیج کیا جائے۔ ریاست مولانا سے خفیہ رابطے کرتی تو مولانا کے ساتھی ایک ایک کر کے انہیں چھوڑ نہ جاتے‘ اب بھی بہت سے تیار بیٹھے ہیں‘ مولانا فوج کو برا بھلا کہتے ہیں‘ جرنیلوں پر طنز کرتے ہیں‘ نیب طلب کرے تو آنکھیں دکھاتے ہیں‘ حکومت کو ہر برائی سمجھتے ہیں۔

اس صورت حال میں ان کے ساتھ ریاست بات چیت کرتی ہے تو یہ بدترین مذاق ہو گا جس کا نتیجہ ریاست کی جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر اس سیاستدان اور سیاسی جماعت کا کردار ختم کردیا جانا چاہیے جو بین الاقوامی طاقتوں کا آلہ کار رہا ہے۔ یہ لوگ غیر ملکی قوتوں کی مداخلت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب تک امریکہ،سعودی عرب‘ ایران‘ افغانستان کو پاکستان سے زیادہ محبوب رکھنے والے گروہ اور ان کے قائدین موجود ہیں پاکستان اپنی سرزمین پر امن نہیں لا سکتا۔مولانا کو چائے پیتے ہوئے یہ حقائق مدنظر رکھنا چاہئیں، ناگزیر کوئی نہیں ہوتا ،صرف ریاست ناگزیر ہوتی ہے ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •