ٹرمپ کی اپنی جماعت کے بعض ارکان مواخذے کے حامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی ہی جماعت ری پبلکن پارٹی کے بعض ارکان نے اُنہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوانِ نمائندگان میں پیش کردہ قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیا جا رہا ہے اور اُنہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں صدر کے مواخذے کے لیے پیر کو ایک قرار داد پیش کی تھی جس پر بدھ کو ووٹنگ ہو گی۔ مذکورہ قرار داد پر ڈیموکریٹک پارٹی کے 218 ارکان نے دستخط کیے تھے جو 435 ارکان پر مشتمل ایوان میں سادہ اکثریت ہے۔

تاہم اب بعض ری پبلکن ارکان نے بھی صدر کے مواخذے کی قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ری پبلکن سینیٹر لز چینی کا کہنا ہے کہ مواخذے کی کارروائی کے دوران وہ صدر کے خلاف ووٹ دیں گی۔

لز چینی ہاؤس میں ری پبلکن پارٹی کی لیڈرشپ ٹیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “ایک امریکی صدر کی جانب سے اپنے عہدے اور آئین سے حلف لینے کی اس سے بڑی خیانت کبھی نہیں ہوئی۔”

ری پبلکن جماعت کے نیویارک سے سینیٹر جان کٹکو اور ریاست الی نوائے سے ایڈم کنزنگر نے کہا ہے کہ وہ صدر کے مواخذے کے لیے آنے والی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں ان کے مواخذے کی کارروائی کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کیپٹل ہل پر حملے کے دوران پانچ افراد کی ہلاکت کے وہ ذمہ دار نہیں۔ ان کے بقول ایوانِ نمائندگان میں جاری مواخذے کی کارروائی بڑے پیمانے پر غم و غصے کا باعث بن رہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ کی چار سالہ مدت کے دوران ایوانِ نمائندگان میں دوسری مرتبہ صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔

آخری مرتبہ 2019 کے آخر میں صدر پر اپنے حریف کے خلاف بیرونِ ملک سے مدد لینے کے الزام میں مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی تھی اور ایوان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تاہم سینیٹ نے صدر کو فروری 2020 میں ان الزامات سے بری کر دیا تھا۔ لیکن اس بار صدر ٹرمپ کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں چار صفحات پر مشتمل قرار داد میں نائب صدر مائیک پینس اور کابینہ کے اراکین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 25 ویں ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو عہدے کے لیے نااہل قرار دیں اور انہیں صدارتی آفس سے بے دخل کر دیں۔

دوسری جانب نائب صدر مائیک پینس صدر کو عہدے سے ہٹانے کے حامی نہیں ہیں اور وہ ایسا کرنے سے انکار بھی کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سامنے آںے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ قومی سلامتی، جمہوریت اور آئین کے لیے خطرے کا مظہر ہیں۔ اس لیے اُنہیں صدارتی آفس میں مزید قیام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ قانون کی حکمرانی اور گورننس سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی پیر کو اپنے ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکہ، آئین اور امریکی عوام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں جنہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 943 posts and counting.See all posts by voa