امریکہ میں وفاقی سطح پر لگ بھگ 70 سال بعد خاتون کو سزائے موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں لگ بھگ 70 برس بعد کسی خاتون قیدی کو بدھ کو مہلک انجیکشن لگا کر سزائے موت دے دی گئی ہے۔ خاتون نے 2004 میں ریاست میزوری میں ایک حاملہ خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔

باون سالہ لیزا مونٹگمری کو امریکی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ریاست انڈیانا کی جیل میں سزائے موت دی گئی۔ خیال رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ سال جولائی میں وفاقی حکومت کی جانب سے سزائے موت پر 17 برس بعد دوبارہ عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مہلک انجیکشن لگانے سے قبل جب جیل چیمبر کا پردہ ہٹایا گیا تو لیزا حیرت زدہ ہو کر باہر موجود صحافیوں کو دیکھتی رہیں۔ خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق انجیکشن لگانے سے قبل قریب موجود ایک نرس نے آرام سے اُن کا ماسک ہٹاتے ہوئے دریافت کیا کہ وہ آخری الفاظ کہنا چاہیں گی؟ جس پر لیزا نے خاموشی اور چہرے پر کچھ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں’۔

اس دوران وہ مسلسل اپنی اُنگلی ہلاتی رہیں اور کسی گھبراہٹ کے اظہار کے بغیر اُنہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جیسے ہی مہلک انجیکشن لگایا گیا تو وہ ہانپ گئیں، کچھ لمحے بعد اُن کے جسم کے درمیانی حصے میں حرکت ہوئی اور پھر وہ ساکت ہو گئیں۔

کچھ ہی دیر بعد ایک ڈاکٹر نے اُن کا معائنہ کیا اور ایک منٹ بعد اُنہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

لیزا مونٹگمری کی سزائے موت پر عمل درآمد کئی روز سے جاری قانونی جنگ کے بعد ہوا جب آخری وقت میں سپریم کورٹ نے سزائے موت پر عمل درآمد کی اجازت دے دی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بائیڈن وفاقی سطح پر سزائے موت دینے پر دوبارہ پابندی عائد کر دیں گے۔ اُن کی وکیل کیلی ہینری نے سزائے موت کے بعد اپنے ردِعمل میں کہا کہ جن لوگوں نے بھی اس ذہنی معذور خاتون کی سزائے موت کے عمل میں حصہ لیا، اُنہیں شرم آنی چاہیے۔

کیلی کا کہنا تھا کہ لیزا کی سزائے موت انصاف کے تقاضوں سے بہت دُور ہے۔

لیزا مونٹگمری نے امریکی ریاست میزوری میں ایک حاملہ خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیا تھا۔ تاہم اُن کے وکلا کا کہنا تھا کہ لیز کو بچپن میں گینگ ریپ اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث اُن کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ لہذٰا اُنہیں سزائے موت نہیں دی جانی چاہئیں۔

مونٹگمری کے وکلا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اُن کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیں۔ اس حوالے سے سات ہزار صفحات پر مشتمل رحم کی پیٹیشن بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھجوائی گئی تھی۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ مونٹگمری نے یہ انتہائی قدم اس لیے اُٹھایا کیوں کہ اُن کے ساتھ بچپن میں متعدد بار ریپ کیا گیا۔

مونٹگمری کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتی تھیں، لیکن وہ رحم کی مستحق بھی تھیں۔ کیوں کہ وہ اپنے ہی سوتیلے والد اور اُن کے دوستوں کی جانب سے بچپن میں گینگ ریپ کا نشانہ بنیں جس سے اُن کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔

امریکی ادارے ‘ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق وفاقی سطح پر 1953 میں بونی ہیڈی نامی خاتون کو ریاست میزوری میں گیس چیمبر کے ذریعے سزائے موت دی گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 963 posts and counting.See all posts by voa