ایک افغان لڑکی کا نئے امریکی صدر جو بائیڈن نام جذباتی خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا کہ دنیا میں ایک دوسرے کو اپنا مدعا پہنچانے کے لئے خط ایک موثر ذریعہ تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور مواصلاتی نظام میں تبدیلی کے ساتھ خط و کتابت کے بھی خطوط بدل گئے۔ لیکن جب بات دل کی ہو اور جذبات سے وابستہ ہو تو آج کے جدید دور میں بھی خط و کتابت سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور بندہ کیوں رجوع نہ کرے اگر کسی کو ایک خاص رشتے کی وساطت سے بات کرنی ہو جیسا کہ ایک افغان خاتون زرغونہ گل نے کیا اور جو بائیڈن کو ایک صدر نہیں بلکہ ایک باپ بن کر سوچنے کی استدعا کی ہے۔ اس خط میں کتنے جذباتی اسلوب سے امن کی بات کو زیر بحث لایا گیا ہے، چلیں پڑھ کر دیکھتے ہیں۔

خط کا عنوان ہے، باپ بن کر سوچیں!

افغان خاتون صحافی زرغونہ گل نے دو جنوری 2021 کو نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے نام کھلا خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ فوری طور پر حل کروائیں۔

”میں شاندار کامیابی پر آپ کو مبارک باد دیتی ہوں اور افغان عوام کی جانب سے بتانا چاہتی ہوں کہ آپ کی فتح اچھا شگون ہے۔ میرا نام زرغونہ گل ہے اور میں ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو لبرٹی افغانستان کی رپورٹر ہوں۔

آپ کو یاد ہو گا کہ آپ نے 2009 میں نائب صدر کی حیثیت سے پراگ میں ہمارے دفاتر کا دورہ کیا تھا اور افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی اہمیت پر پیغام دیا۔ میں آج آپ کو خط لکھ کر اپنے ملک کے مستقبل کی تشکیل سے متعلق آپ کی انتظامیہ کے کردار کے حوالے سے آپ کی پدری شفقت کو مخاطب کر رہی ہوں۔ آپ اپنا بیٹا اور نوجوان بیٹی کھونے کا درد اور تکلیف محسوس کر چکے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اسے افغانستان کے والدین کو بتا سکیں جو بدترین خبریں سننے کے عادی ہو چکے ہیں۔

مسلسل جنگ اور غربت کے ماحول میں کارخانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے افغان کارکن یا اپنے نیم تباہ کچے مکانوں کے کونے کھدروں میں بیٹھے بے روزگار باپوں کو روزانہ کی بنیاد پر اطلاع ملتی ہے کہ ان کے بیٹے اور بیٹیاں خودکش یا دوسرے دہشت گرد حملوں میں مارے گئے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آپ اپنی بیٹی ایمی کی پہلی سالگرہ تقریب کو بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہے کہ جب آپ کے بیٹے بو نے سکول جانے کے لیے پہلا قدم اٹھایا تھا یا پہلے الفاظ لکھنے کے لیے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پینسل پکڑی تھی۔

میرے ملک میں والدین اپنے بچوں کو پھٹے پرانے جوتوں اور بستوں میں سکول کی جانب پہلا قدم اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اکثر زندگی کے اس ابتدائی سفر کا خاتمہ انتہائی ظالمانہ انداز میں واقع ہونے والے سانحے کی شکل میں ہوتا ہے۔

امریکہ اور افغانستان میں والدین کی بچوں سے محبت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس طرح کھو دینے کا دکھ بھی ایک جیسا ہے۔ میں پورے خلوص اور انکساری کے ساتھ آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ ان حالات کو ذہن میں رکھ کر صدر کا عہدہ سنبھالیں۔

میرا اصرار ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی سفارتی تعلق یا قطر میں ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے معاملے میں انہیں پابند کیا جائے کہ وہ جنگ بندی پر سختی سے اور فوری طور پر عمل کریں۔

اب جب کہ آپ اور آپ کی آنے والی انتظامیہ نے اگلے برسوں کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کی سمت طے کرنی اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے، میں آپ سے التماس کرتی ہوں کہ افغانستان کے مسائل کا ایسا منطقی حل تلاش کریں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

ہم افغان جانتے ہیں کہ افغانستان لیتھیم، یورینیم اور دوسرے قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ ہم ایک باہم مربوط دنیا میں رہتے ہیں جس کا انحصار بین الاقوامی تعاون پر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے عالمی دوست ہمارے ملک کے معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ افغان کہاوت ہے کہ جس گرہ کو ہاتھوں سے آسانی کے ساتھ کھولا جا سکتا ہے اسے دانتوں سے نہیں کھولنا چاہیے۔

آپسی تعلقات قائم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال غیر منطقی ہے اور اس سے افغان عوام پر شدید ظلم کی راہ ہموار ہوتی ہے جہاں انسانی حقوق اور دوسری جمہوری اقدار کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ یہ انتہائی خام خیالی ہے۔

باہمی احترام اور ایماندارانہ اور بامعنی بات چیت ہی سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

میں ایک بار پھر آپ سے التجا کرتی ہوں کہ افغانستان کے بارے میں مستقبل کی کوئی بھی پالیسی بناتے وقت ایک ہمدرد انسان اور باپ بن کر سوچیں۔ اور ایک بار پھر، از راہ کرم کسی بھی مذاکرات میں طالبان پر زور دیں کہ وہ فوری جنگ بندی کریں۔

برائے مہربانی یاد رکھیں کہ ’ہزار میل کا راستہ صرف ایک قدم سے شروع ہوتا ہے،‘ اور امریکہ کی طویل ترین جنگ ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ لوہے کا پنجہ مخمل کے دستانے میں لپٹا ہوا ہو۔

امریکی صدارت کا غیر مرئی تاج صرف اس شخص کی نشان دہی نہیں کرتا جس کی خدمت کی جائے، بلکہ یہ آپ کی دنیا کی خدمت کرنے کی ذمہ داری کی ایک طاقتور علامت بھی ہے۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •