پاکستان، کینیڈا، امریکہ کے تاریخی بلیک آؤٹ اور میری کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹورنٹو کے شام پانچ بجے پاکستانی ٹی وی لگایا تو ملک بھر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی گرما گرم خبریں چل رہی تھیں۔ اور گدو کی ٹرانسمیشن لائن میں کسی گڑ بڑ کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ابھی پاکستان میں فجر کا وقت بھی نہیں ہوا تھا کہ سوشل میڈیا پر افواہوں کے طوفان شروع ہو چکے تھے۔ ہزارہ برادری کے سانحہ کی بنیاد پر یا غیر ملکی تخریبی کارروائی سے شروع ہوتے۔

نصیر آباد کے کسی قصبے کے پولیس افسر کا نام لکھتے ہوئے یہ کنفرم اطلاع تھی کہ اس کے علاقہ میں ٹرانسمیشن لائن کا ٹاور اڑا دیا گیا ہے۔ وزیر توانائی کا منٹ منٹ پہ اپ ڈیٹ تھا کہ مکینیکل نقص ہے جو چند سیکنڈ میں ملک کیے تقریباً تمام سسٹم کو ناکارہ کر گیا، جلد نشاندہی ہو جائے گی اور یہ کہ متبادل ذرائع سے بجلی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

ایک انجانے خوف کی لہر اٹھ رہی تھی۔ کہ اسی کی دہائی میں نیو یارک میں چند گھنٹے کے بریک ڈاؤن میں لوٹ مار کے ساتھ کوئی تین ہزار تو ریپ کے واقعات ہوئے تھے۔ اور غالباً انیس سو نوے میں میری شکاگو موجودگی میں ایک علاقے کے بجلی گھر میں بہت بڑے دھماکے سے بہت بڑے علاقے کی بجلی بند ہونے کے بعد جب اعلان ہوا کہ ایک آدھ دن متبادل انتظام میں لگے گا تو ترکوں اور سیاہ فام آبادی والے اس علاقے میں لوٹ مار شروع ہو گئی تھی اور ہم گھر پر بیٹھے ٹی وی پر دکانوں کے شیشے ٹوٹتے، شٹر توڑتے، شاپنگ مالز کے ہر طرف سے دکانوں سے لوٹا مال اٹھائے، کندھے پہ جھولی میں تھیلوں میں کاروں میں بھرتے لے جاتے لوگ نظر آتے دیکھ رہے تھے۔ اور میں بڑے بھائی کو بتا رہا تھا کہ 1974 میں میری دکان میں لگائی گئی بھڑکتی آگ میں سے بھی لوگ اسی طرح سامان لوٹتے لے جانے کے نظارے دکھا گئے تھے۔ جب انسان پاگل ہو جاتا ہے تو دنیا میں ہر جگہ اس کا پاگل پن ایک جیسا ہوتا ہے۔ یا خدا میرے ملک پر رحم فرما اور لوگوں کو ایک بار پھر پاگل ہونے سے بچا۔

ساتھ ہی ایک اطمینان کی لہر اٹھی کہ حکومتوں کی نا اہلی اور لوٹ مار اور ناقص منصوبہ بندی کی پیدا کردہ بجلی کی کمی اور روزانہ گھنٹوں بندش کے نتیجہ میں بہت سے متوسط طبقہ اور اکثر امیر طبقہ، کاروباری علاقوں اور چھوٹی فیکٹریوں سے لے بڑی انڈسٹریز تک یو پی ایس، چھوٹے جنریٹر سے لے کر بڑے بھاری طاقت کے جنریٹر اور نئی ایجادات سمیت فوری متبادل بجلی کے انتظامات موجود ہیں۔ اس لیے اکا دکا شاید ہوں زیادہ خیریت ہی کی امید ہے۔ خدا کا فضل ہی رہا اور کوئی بڑا واقعہ پیش آنے کی خبر نہیں ملی۔ الحمد للہ!

پھر اچانک ذہن چودہ اگست دو ہزار تین کے دن کی فلم سی چلنے لگی۔ امریکہ کی بہت سی شمالی ریاستوں اور کینیڈا کے پورے صوبہ اونٹاریو میں (پاکستان سے بہت زیادہ بڑے رقبہ میں ) سہ پہر چار بجے کے قریب بالکل اسی طرح کا بریک ڈاؤن ہوا تھا۔ بالکل اسی طرح نامعلوم جگہ معمولی نقص پیدا ہونے سے کوئی ساڑھے پانچ کروڑ کی دور دور پھیلی آبادی بجلی سے محروم ہو گئی تھی۔ مماثلت حیران کن ہے۔ وہاں بھی چند سیکنڈ میں تمام گرڈ سٹیشن کام چھوڑ گئے تھے۔

ابتدائی طور ٹرانسمیشن لائن میں کہیں نامعلوم جگہ نقص، تحقیق کے بعد پتا چلا کہ گرڈ سٹیشن میں انسانی غلطی سے کسی سرکٹ بریکر یا ایسی کسی چیز کو اوپر نیچے کرتے کوئی غلطی واقع ہوئی۔ نائن الیون کا خوف ابھی ذہن میں ہوتے ہوئے اسی طرح کافی دیر تک دونوں ملکوں کا افواہوں کی زد میں رہنا۔ بجلی بحالی میں کئی گھنٹے سے کئی دن تک لگ سکنے کی اطلاع ملنا ایک جیسا ہی تھا۔ ہاں ایک فرق تھا۔ یہاں بجلی بند ہونے کا واقعہ شاذ ہی ہوتا ہے۔ اس لیے متبادل بجلی کا انتظام تو کیا ( بہت بڑے تعمیراتی منصوبوں اور اہم صنعتوں میں ہوتا ہے ) اس وقت کسی گھر میں ٹارچ بھی ہوتی تو عدم استعمال کے باعث اس کے سیل جواب دے چکے ہوتے۔

جیسے ہی حقائق سامنے آئے۔ زندگی واقعی اندھیر ہوتی نظر آئی۔ گویا عملاً پاکستان سے بہت زیادہ گمبھیر صورت حال تھی کہ ہر سسٹم بیٹھ چکا تھا اور ہر گھر سے لے ہر کاروباری مرکز میں بجلی سے چلنے والا ہر سسٹم مکمل مفلوج ہو چکا تھا۔ اور سب سے پہلے غذا کو محفوظ بنانے اور حصول کے ساتھ پٹرول کا مسئلہ تھا۔ ہر ریڈیو سامعین کو اس قومی ایمرجنسی میں پر سکون رہنے، ایک دوسری کی ہر ممکن مدد اور تعاون اور حالات سے نمٹنے کی تجاویز اور ٹریفک لائٹ بند ہونے سٹاپ سائن کا طریق اختیار کرنے کی ہدایت دے رہا تھا اور ہم چھ ستمبر پینسٹھ والے دن کے پاکستانی عوام کے نظم و ضبط والا نظارہ دیکھ رہے تھے۔

پاکستان سے کینیڈا منتقل ہونے کے بعد فروری 2002 میں کیلیڈن اونٹاریو میں اس وقت ساٹھ ستر پرانے گیس سٹیشن یعنی پٹرول پمپ خرید کر اسی کی حدود میں واقع چھوٹے ریسٹورینٹ کے اوپر بنے اپارٹمنٹ میں جو ہمارے فیصل آباد گھر کے کچن اور فیملی روم کے سائز کا تھا، میں منتقل ہو چکے تھے اور پہلا سال انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرتے رہے۔ اب کچھ آہستہ آہستہ اپنے کاروباری تجربہ اور گاہک سے حسن سلوک اور ذاتی رابطے کی وجہ سے ساکھ قائم ہوتے مستقل گاہک بڑھ رہے تھے۔ لیکن روز کے ڈاکوں، جان مال اور عزت کے خطرے اور فرقہ وارانہ منافرت سے نجات کی وجہ سے دل مطمئن بھی تھے۔

کاروبار کی نوعیت ملازم رکھنے کی گنجائش نہ دیتی تھی۔ فیصل آباد میں دکان پر آٹھ نو ملازم اور گھر پر دو ملازمائیں رکھنے والا لئیق احمد صبح چار بجے نیچے جا گیس سٹیشن چالو کرتا۔ علی الصبح بیگم ہلکا ناشتہ لیے آ جاتیں اور اندر باہر صفائی کر جاتیں۔ پھر بیٹا آ جاتا اور میں آرام کرتا، اس طرح باریاں لگاتے اور رات دس بجے ہم کام بند کر دیتے۔

چودہ اگست کوئی چار بجے جب اچانک بجلی چلی گئی۔ نظام ٹھپ ہو گیا۔ جب ہمسائے میں بھی بجلی بند تھی تو معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کار کا ریڈیو تھا۔ چنانچہ وہ کچھ پتہ چلا جس کا اوپر ذکر ہو چکا تھا۔ جیسے جیسے حالات کی سنگینی کا ادراک ہوتا گیا، لوگوں کو اگلے دنوں میں پیش آ سکنے والے مسائل کے حل سوچنے کی سوجھ رہی تھی۔ ہم پریشان تھے کہ باہر بڑے فریزر میں رکھے برف کے تھیلے۔ سٹور کے فریج کا سامان، فریزر کی آئس کریم سب ضائع ہو کر بڑا نقصان کریں گی۔

ہم کاروبار بند کر کے گھر بیٹھنے کا سوچ رہے تھے کہ یک دم گاڑیوں کی لائن لگ گئی۔ لوگ اپنے فریج کا سامان سفری کولروں میں رکھنے کے لیے برف لینے اور جو کچھ کھانے پینے کا ہمارے سٹور میں تھا لینے بھاگتے آ رہے تھے اور شام تک ہم مطمئن ہو چکے تھے کہ اکثر ضائع ہونے والی اشیاء بک چکی تھیں۔ گیس سلنڈر ختم ہونے کو تھے، اب ہر گھر بار بی کیو چولہے استعمال کرنے پر مجبور تھا۔

رات گئے ریڈیو نیویارک وغیرہ میں بجلی کی جزوی بحالی کی اطلاع دے رہا تھا مگر کینیڈا میں ابھی کوئی آثار نہ تھے۔ پٹرول کی سپلائی شام تک متوقع تھی۔ مگر ٹینکوں میں مطلوبہ گنجائش نہ ہو سکنے کی وجہ سے روکنا پڑی تھی۔ بروقت بھنک پڑ جانے پر ایک نزدیکی پیزا شاپ جس پر گیس سے پکانے انتظام تھا، کھانے کو پیزا مل گیا تھا۔

اچانک آنکھ کھلی تو فریج چلنے کی آواز کے ساتھ نائٹ لیمپ کی مدھم روشنی بجلی بحالی کی نوید سنا رہی تھی۔ صبح کے پانچ بج چکے تھے۔ بھاگم بھاگ نیچے آ کر دروازے کھول کر جونہی روشنیاں جلائیں گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئیں۔ ریڈیو سے پتہ چلا کہ مضافات کے چند مختلف علاقوں میں بجلی آئی ہے باقی بدستور بند ہے۔ اوپر گھر فون کیا اور بیگم سے فوراً بیٹے کو جگا کر اسے خود نیچے آنے کو کہا کہ پاکستان میں پٹرول شارٹیج میں لگی لائنوں میں دھکم پیل گالی گلوچ کے ساتھ شکاگو کی لوٹ مار بھی ذہن میں گھوم گئی تھی۔

یہاں سیلف سروس ہے جہاں گاہک خود پٹرول ڈالتا اور پھر اندر آ کر ادائیگی کرتا ہے اور مجھے غلطی لگنے کا ڈر تھا۔ بیٹے نے کھڑکی سے دونوں طرف سے لائنیں لگی دیکھیں تو بھاگم بھاگ پہنچا۔ اب بیٹا کاؤنٹر پر رقم وصول کر رہا تھا، بیگم سٹور کے سامان کے لیے گاہکوں کی مدد کر رہی تھیں کہ وقت کم لگے اور میں نے فوراً پلان کرتے ہوئے گاڑیوں کی قطاروں کو اس طرح ترتیب دلوانا شروع کیا کہ شمال سے آنے والی گاڑیاں ایک قطار میں پمپوں کی مشرقی جانب پٹرول ڈالتی نکل جائیں اور جنوب والی مغربی جانب سے۔

عموماً پٹرول ٹینک بائیں جانب ہوتا ہے۔ مگر کچھ تعداد دائیں جانب ٹینک والی بھی ہوتی ہے۔ پمپوں کی دوسری قطار میں ایک پٹرول اور ایک ڈیزل کا پمپ تھا۔ میں آگے پیچھے گھومتے دائیں طرف ٹینک والی گاڑیوں کو اکیلے پمپ والی طرف لائن لگوانے میں کامیاب ہو گیا اور یوں کوئی بے ترتیب جمگھٹا نہ ہوا۔ ہم سے ذرا شمال میں ایک بڑی کمپنی کے بڑے پمپ پر رش نہ لگا۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوا، دور بین سے دیکھا تو ان کے سائن پر عام پٹرول کا نرخ نوے سینٹ تھا جب کہ ہم سابقہ چھہتر سینٹ پہ ہی فروخت کر رہے تھے، ہم نے مشورے سے طے کیا کہ قومی ہنگامی صورت حال ہے ہم نرخ نہیں بڑھائیں گے۔

دونوں طرف دو تین سو میٹر لمبی قطاریں تھیں۔ تب میں ہر گاہک کے پاس جاتا اور درخواست کرتا کہ ایک تو محض اشد ضرورت کے مطابق پٹرول لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ دوسرے جن کے پاس نقد رقم ہے وہ از رہ کرم مجھے وہیں ادا کر کے آگے نکل جائیں۔ لیکن جو صرف کریڈٹ کارڈ والے ہیں، وہ اندر جائیں اور جنہوں نے سٹور سے بھی کچھ لینا ہے۔ وہ پٹرول کی نقد ادائیگی اگر ممکن ہو، مجھے کرتے کار پارکنگ میں پارک کر کے سٹور سے سامان لے آئیں، اس طریق سے گاہگوں کی فراغت کا وقت تقریباً نصف ہو گیا تھا اور لائن کی لمبائی کم ہونا شروع ہو گئی۔

کسی نے پولیس کو اطلاع دی یا گزرتے ہوئے رش دیکھا تو اچانک دو پولیس گاڑیاں سڑک پر دونوں طرف آ کھڑی ہوئیں۔ ایک افسر میرے نزدیک کھڑا میرے طریق کار کا جائزہ لیتا رہا اور پھر دور سے ہی ویری نائس کہتے ہاتھ ہلاتے واپس جا کر ٹریفک کے بہاؤ کو درست رکھنے میں لگ گیا۔ کوئی نو بجے کے قریب ایک گاہک نے بتایا کہ لوکل ریڈیو سٹیشن پر بار بار بتایا جا رہا ہے کہ دوست پٹرولیم والے پمپ پر نہ صرف پٹرول موجود ہے اور نرخ بھی نہیں بڑھا بلکہ انتہائی نظم و ضبط اور ترتیب برقرار رکھوائے گاہک کی خدمت کی جا رہی ہے اور ان کے نمائندے کی رپورٹ تھی کہ بجلی والے علاقے میں کسی بھی اور پمپ پر نظم و ضبط کے فقدان کے باعث چار پانچ گنا زیادہ وقت بھی لگ رہا ہے اور اکثر نے نا جائز فائدہ اٹھاتے نرخ بھی بڑھا دیا ہے۔

گیارہ بج رہے تھے، ہمارے پٹرول اور ڈیزل کے ٹینک خالی ہونے والے تھے اور پوری کوشش کے باوجود مزید سپلائی کا بندوبست مشکل تھا جب کہ سٹور کی کچھ اشیاء کی سپلائی آ بھی گئی۔ ساڑھے گیارہ کے قریب ہمارے ریگولر پٹرول کے ٹینک خالی ہو گئے تو ہم نے سپر پٹرول جس کی قیمت فروخت کوئی بارہ سینٹ فی لیٹر زائد تھی، منافع کم کرتے ہوئے چوراسی سینٹ کر دی اور وہ بھی ضرورت مند بخوشی لے رہے تھے۔ ساڑھے بارہ بجے ہم خالی ہو چکے تھے اور تکان سے بے حال ہوتے ناشتہ کر رہے تھے۔

شام چار بجے ہماری نئی سپلائی بھی پہنچ گئی مگر اس وقت تک اکثر علاقوں میں بجلی بحال ہو چکی تھی اور صورت حال نارمل ہو چکی تھی۔ اگلی صبح کوئی دس بجے ایک خاتون گاہک نے انتہائی جذباتی لہجے میں بتایا کہ قریبی قصبہ انگل وڈ کے ایک معروف ریسٹورنٹ میں صبح کے ناشتہ کے مصروف ترین وقت میں گاہکوں نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے کہ دوست پٹرولیم والوں نے اس ہنگامی صورت حال میں پوری تندہی اور اور اعلیٰ منصوبہ بندی سے بغیر نرخ بڑھائے کمیونٹی کی خدمت کی ہے جب کہ دوسروں نے یا نرخ بڑھا کر گھٹیا پن کیا یا وہاں بدنظمی رہی لہذا آئندہ سے انہیں ہر ممکن پروموٹ کیا جائے اور نرخ زیادہ کرنے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ دوسرے روز ایک اور ریسٹورینٹ میں بھی ایسی ہی گفتگو کا علم ہوا۔

یہ دن ہمارے لیے نہ صرف خدمت کے جذبہ سے کام کرنے کا دن تھا۔ جس کا محرک اور رہنما جنگ ستمبر پینسٹھ کے زمانے دیکھا ہوا پاکستانیوں کا جذبہ بھی تھا اور خدا تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی بخشی کاروباری فراست اور لین دین کی نیک نامی بھی۔ جس نے پاکستان میں مجھے بہت پیچھے سے بہت آگے آنے میں مدد کی تھی۔ بلکہ وہ فروخت کے حجم اور (تمام اشیاء کے نرخ بہت کم رکھنے کے باوجود ) منافع کے لحاظ سے معمول سے کئی گنا بہتر دن تھا۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ کاروباری ساکھ اور اعتماد قائم کرتے ہوئے اس دن کی خدمت فوری اور مستقل گاہکوں کی تقریباً پچیس فیصد تعداد اور روزانہ فروخت میں اضافہ کی صورت خدا تعالی کے انعام کی صورت میں مل چکی تھی۔

کاروبار کی بنیاد پر ملے ہمارے ویزا کی کامیاب کاروبار کی شرائط پوری ہو چکی تھیں۔ لگاتار بغیر چھٹی کام نے ہماری سوشل زندگی مفلوج کر رکھی تھی اور آنے جانے، میل ملاقات کا وقت ہی نہ تھا۔ 2004 کے اواخر میں ایک معقول منافع بخش آفر ملنے پر ہم 31 دسمبر کو یہ گیس سٹیشن نئے مالک کے حوالے کر چکے تھے۔ اور فروری 2005 میں خدا کے فضل سے برامپٹن میں بہت اچھے گھر منتقل ہو چکے تھے۔ نیا مالک ایک ڈیڑھ ماہ ہم سے ٹریننگ لیتا رہا اور بعد میں ایک دو سال اس کی رہنمائی جاری رہی اور میرے بیٹے نے بھی پہلے کوئی دو ہفتے پہلے والوں سے اس کام کی الف بے سیکھی تھی۔

اب کینیڈا آئے دو دہائیاں بیت چلیں۔ پاکستان میں 45 سال میں انتہائی کم سرمایہ سے شروع ہونے کے باوجود، آفات کے باوجود، محض خدا تعالیٰ کے فضل اور اس پر بھروسا کرتے اور محنت کرتے رہنے کے میں صاف ستھرے کاروباری اصولوں کی بنیاد پر چلتے کاروبار کی ساکھ نے ہمیں بہت نیچے سے بہت اوپر آنے میں مدد دی۔

نظر ماضی کی جانب لوٹتی ہے، پیپلز پارٹی کے قیام کے دن سے پہلے تک کی پاکستان کی دنیا میں ساکھ اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت اور بیرونی ملکوں خصوصاً امریکہ اور عرب ممالک میں اور دنیائے کرکٹ میں اپنی بلندی پر پہنچی تھی۔ ٹرینیڈاڈ کے باشندوں مشتاق محمد اور سعید احمد سے مل چکا ہوں جن کے باپوں نے ان ناموں کی وجہ شہرت سے انہیں آگاہ کر رکھا ہے۔

یونیورسٹیوں میں دور دور سے طالبعلم آتے۔ غیر ملکی فوجوں کی ٹریننگ ہوتی۔ دنیا کی دو تین مشہور ائر لائنز اپنے قیام کے لئے پاکستان کی ٹریننگ کی مرہون منت تھیں۔ آج کا بھکاری ملک قرضے دیا کرتا۔ ایک شخص جسے کتا لقب دیا گیا، اس سے یہ لگام چھین کر لٹیروں، شیروں اور ان کے سرپرستوں کے ہاتھ آئی تو پچھلے پچاس سال کی ساکھ کھو گئی اور ان یہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اس کے قومی لیڈروں کو یہ تک پتہ نہیں رہا کہ ایک معمولی چلتے کاروبار کو خریدنے والے کو کچھ عرصہ ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے اور چھوڑ کے جانے والے کا اخلاقی فرض ہے کہ کچھ عرصہ اس کی رہنمائی کرے اور اسے اس کے رموز سے آگاہ کر کے جائے۔

کاش بجلی بند ہونے کا حالیہ جھٹکا بھی ایک انتباہ سمجھا جائے۔ ہر شعبہ میں شفافیت لانے، کرپشن ختم کرنے، میرٹ کو لاگو کرنے کی جانب توجہ دی جائے۔ اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس عہدہ سے جڑے تقاضوں کو سمجھا جائے تاکہ ملک کا جھنڈا بلند ہو، ملک کے پاسپورٹ کی عزت ہو اور ملک کے باشندے دوسرے ممالک میں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کریں کہ میں پاکستانی ہوں۔ جس طرح پاکستانی ڈاکٹروں کا گروپ 1965 میں شکاگو میں پھرا کرتا اور پاکستان اپنے گھر والوں کو فخر سے بتایا کرتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •