امریکی جمہوریت اور ٹرمپ کا ناکام انقلاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فارسی کی ضرب المثل ہے ”خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت“ جس کے معنی ہیں ”دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت“ ۔ دنیا میں جمہوریت ’فی سبیل اللہ‘ بانٹنے والا اور ساری دنیا میں انقلاب لانے والا آج خود جمہوریت اور انقلاب کی قلت کا شکار ہو گیا۔

میں مسمی ز س و جناب چوہدری ڈونلڈ ٹرمپ آف نیویارک کو 6 جنوری 2021 ء بروز بدھ کو دنیا کے جمہوری چوہدری کی جمہوریت کا جنازہ نکالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انھوں نے ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کو یقین دلایا ہے کہ وہ امریکہ جو دنیا بھر کو صبر، برداشت، مذہبی و معاشرتی رواداری، مساوات، انسانی حقوق اور دیگر حکایات پر درس دیتا ہے، اس کے اپنے ملک میں جمہوریت اور دیگر نظریات کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔

دنیا کے جمہوری چوہدری کے ملک میں لوگ انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے اور کیپیٹل ہل جیسی عمارت پر چوہدری ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ بھی پاکستان کی طرح نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، نیز وہاں بھی ’انقلاب‘ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔

دیکھنا یہ ہے وہاں 111 برگیڈ اور میرے عزیز ہم وطنو  موجود ہیں کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے ان کی افواج کا حوصلہ بھی پست ہو گیا ہو، افواج کی حوصلہ افزائی اور ملک کو بچانے کی خاطر وہاں کی اعلیٰ فوجی قیادت نے سوچا ہو کہ حرکت میں برکت ہے اور کچھ ہو نا ہو رونق میلہ ہی سہی۔

اب تک حرکت ہوئی ہے نہ برکت اور ایمپائر کی انگلی بھی کھڑی نہیں ہوئی، جس کا دلی طور پر مجھے افسوس ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ تمام جوانوں نے کیپیٹل ہل کی عمارت میں ڈیرے ڈال لیے ہیں اور جمہوریت کی حفاظت پر مامور ہو گئے ہیں جبکہ ان کی اعلیٰ قیادت نے تحریری طور پر ایک حلف نامہ جمع کروایا ہے کہ وہ جمہور، جمہوریت اور جمہوری اقدار کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

البتہ نینسی پلوسی جو امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر ہیں ، انہوں نے ملکی اعلیٰ فوجی قیادت کو کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کو امریکی صدر جناب چوہدری ڈونلڈ ٹرمپ کی پہنچ سے دور رکھیں، ٹویٹر نے چوہدری ٹرمپ کے انقلاب کا اسقاط حمل ان کا اکاؤنٹ معطل کر کے کر دیا ہے۔

امید ہے اگر چوہدری ٹرمپ کا یہی رویہ رہا تو ان کے تمام سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ معطل کر دیے جائیں گے تاکہ ’انقلاب‘ کی راہ میں روڑے اٹکائے جا سکیں۔ چوہدری ڈونلڈ ٹرمپ آف نیویارک کے لتے ذرائع ابلاغ اور معاشرہ کے دیگر افراد نے خوب لئے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق پہلے ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ 24 گھنٹے کے لئے بند ہوا تھا، اب ان کا اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کیا جا چکا ہے جب تک نئے امریکی صدر حلف نہیں اٹھا لیتے۔ ایک چیز قابل غور ہے کہ سب کچھ ہونے کہ باوجود حکومتی نظام کا مدافعتی نظام (جمہوریت) کام کرتا رہا اور ’انقلاب‘ کا راستہ ہموار نہ ہو سکا۔انقلابی کیپیٹل ہل کی عمارت میں داخل ہوئے مگر کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے، کیونکہ اس ملک کے جوان جذباتی نہیں ہوئے انھوں نے مدبرانہ سوچ کا مظاہرہ کیا اور جمہور اور جمہوریت کا احترام کیا۔

ایوان نمائندگان نے فیصلہ کیا ہے کہ کیونکہ ہمارے صدر نے لوگوں کی جمہوری رائے کا احترام نہیں کیا اور عوام الناس کے ایک خاص گروہ کو اشتعال دلایا ہے ، اس لئے ان کا مواخذہ کیا جائے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اگر مدافعتی نظام (جمہوریت) مضبوط ہو تو حکومتیں بلوا کر کے ختم نہیں کی جا سکتی ہیں۔

پاکستان اپنی پیدائش سے امریکہ کا رفیق اور صدیق ہے ، اس لئے میرا اپنے تمام عصر حاضر کے جید سیاسی رہنماؤں کو ایک مشورہ ہے کہ اپنی شخصی طاقت بڑھانے کی بجائے کبھی حکومتی نظام کے دفاعی نظام پر بھی توجہ دیں شاید روز روز کے دھرنوں اور دھاندلی جیسے الزامات سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •