سانحہ مچھ: 1053 نمبرز لینے والا مشتاق حسین زندہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر جھوٹ پہ جھوٹ ، جھوٹ پہ جھوٹ شیئر کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین پچھلے کئی دنوں سے پراپیگنڈہ کر ریے ہیں کہ مشتاق حسین نامی طالب علم بھی بلوچستان میں درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔

کچھ دن قبل بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقہ مچھ میں ایک انسانیت سوز واقعہ رونما ہوا۔ صبح کے وقت ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد اپنے کمروں میں سو رہے تھے کہ کچھ درندہ صفت حیوانوں نے انہیں اغواء کیا اور ذبح کر کے قتل کر دیا۔

یہ یقیناً انسانیت سوز واقعہ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جائے۔

پاکستان کے کچھ نامور صحافی حضرات سمیت دیگر سوشل میڈیا صارفین نے ایک پراپیگنڈہ شروع کیا۔ کچھ لبرلز اور ریاست مخالف افراد نے پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ذبح ہونے والے پاکستانیوں میں تعمیر نو کالج کوئٹہ کے مشتاق حسین بھی شامل تھے۔ جنہوں نے بلوچستان بھر میں 1053 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ بھی کہ مشتاق حسین تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنی تعلیمی اخراجات خود پورے کرتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوسٹ وائرل ہونے لگا۔

لیکن اب یہ جھوٹا پراپیگنڈہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ مشتاق حسین حیات ہیں۔ وہ ان گیارہ افراد میں شامل نہیں تھا۔ گیارہ افراد میں عزیز رضا، محمد ناظم، عبدالرحیم، انور علی، شیر محمد، احمد شاہ، محمد صادق، چمن علی، حسین جان، آصف علی اور عبداللہ شامل ہیں۔ اس لسٹ میں کہیں بھی مشتاق حسین کا نام موجود نہیں۔

مشتاق حسین نے تعمیر نو کالج کوئٹہ سے 1053 لے کر بلوچستان بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ پھر انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسس میں داخلہ لے لیا۔

اب ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مشتاق حسین بالکل ٹھیک ہیں اور وہ ان بدقسمت افراد میں شامل نہیں۔ لمز میں ان کے بیچ میٹ عبداللہ نے بھی اس خبر کی تردید کی ہے۔ میں نے کچھ دوستوں کی مدد سے مشتاق حسین اور ان کے بھائی سے رابطہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ مشتاق حسین حیات ہیں لیکن وہ ان چیزوں سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ میڈیا پر آ کر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ آیا مشتاق حسین حیات ہیں نہیں؟

جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں یہ اگست کی ہیں جب مشتاق حسین نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی تب لوگوں نے ان کے لئے حکومتی امداد کی اپیل کی صورت میں یہ تصاویر شیئر کیں۔ اس کے ساتھ کوئلے کی کان میں بیٹھے شخص کی تصویر مشتاق حسین کی نہیں۔

میں پہلے بھی کہتا آیا ہوں کہ جب سچی خبر کے ساتھ جھوٹی خبر جوڑ دی جائے تو سچی خبر کی وہ ساکھ اور اثر باقی۔ نہیں رہتا۔ جب سچی اور جھوٹی خبروں کو ایک کر کے پیش کیا جانے لگے تو اس پر منظم پراپیگنڈہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ برائے مہربانی خیال کریں اور جھوٹی خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •