حفاظتی ٹیکوں کا خوف اور سدباب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٖیکم فروری سے پنجاب کے شہری علاقوں میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم شروع ہو رہی ہے۔ پندرہ روزہ مہم کے دوران 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پنجاب کی طرف کی جانے والی یہ مہم یونیسیف اور دیگر اداروں کے تعاون سے کی جا رہی ہے۔

چونکہ ٹایئفایئڈ کی بیماری سے بچاؤ کے یہ ٹیکے پہلی دفعہ لگائے جا رہے ہیں اس لئے عام آدمی کے ذہن میں ان ٹیکوں کے بارے میں بہت سے خوف اور شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی افادیت کے بارے میں سب کو آگاہی ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے یونیسیف کی طرف سے پنجاب بھر میں آگاہی مہم کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

یونیسیف کی دستاویز کے مطابق حفاظتی ٹیکوں کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین بچوں کے لئے بالکل محفوظ ہے، اور انہیں ٹائیفایئڈ خطرناک بیماری سے ہمیشہ کے محفوظ بناتی ہے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس ویکسین کے کوئی مضر اثرات نہیں، تاہم دیگر ویکسین کی طرح ٹائیفائیڈ کی ویکسین کے بھی ہلکے پھلکے ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں، مثلاً ٹیکہ لگائی جانے والی جگہ پر سوجن، پورے جسم میں درد یا بخار جیسی عمومی علامات ہو سکتی ہیں جو کہ پیرا سیٹا مول کے شربت یا ٹھنڈی پٹیاں کرنے سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ویکسین کو محفوظ قرار دیا ہے اوراس کے لگانے کے بعد شدید نوعیت کے مضر اثرات یا علامات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ویکسین کی جگہ پر سوجن یا پورے جسم ہونے والی درد جیسی علامات کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویکسی نیشن کی وجہ سے کسی بچے میں اضطرابی رد عمل پہلے، دوران یا فوری بعد دیکھنے میں آ سکتا ہے ، اس کی وجہ ذہنی تناؤ، سانس لینے میں دشواری یا قے وغیرہ کا ہونا شامل ہے۔

عام طور پر یہ تناؤ یا بے ہوشی کا طاری ہونا تھوڑی دیر کے لئے ہوتا ہے اور خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ حفاظتی ٹیکہ جات، ویکسین کا معیار یا ٹیکہ لگانے کا عمل نہیں بلکہ ذہنی تناؤ ہوتا ہے جو ٹیکہ لگوانے والا اپنے اوپر طاری کر لیتا ہے۔ انفرادی طور پر ویکسین کروانے کے دوران اس طرح کے ذہنی دباؤ کے واقعات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں تاہم بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کے عمل میں اس طرح کے چند واقعات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

اس ضمن میں بھی چند امور کا خیال رکھتے ہوئے ان واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے مثلاً بچوں کی ویکسین کے دوران ماحول کو خوشگوار بنایا جائے، ایک وقت میں ایک ہی بچے کو ٹیکہ لگوانے اندر بھیجا جائے تاکہ ٹیکہ لگانے کا عمل انتظار میں کھڑے بچوں کی نظروں سے اوجھل ہو جب بچہ ویکسی نیشن کے لئے آئے تو اس کی ذہنی کیفیت کا خیال رکھتے ہوئے بہت پیار سے ضروری ہدایات دی جائیں۔

اگر بچہ چھوٹا ہے تو والدین یا نگران بچے کو مناسب طور پر تھامنے میں مدد کریں اور اس کا دھیان ٹیکہ لگنے کے عمل سے ہٹائے رکھیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ٹیکہ لگانے کے بعد بچے کو 30 منٹ تک اپنے مشاہدے میں رکھیں۔

آئیے ہم سب مل کر توسیعی پرگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پنجاب، یونیسیف اور دیگر اداروں کے تعاون سے کی جانے والی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اس پیغام کو سب تک پہنچائیں تاکہ تمام بچے اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •