مہنگائی کا عفریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے وزیراعظم صاحب جب وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان نہیں ہوئے تھے، بڑے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے۔ ویسے بھی سیاستدانوں کا کام ہی لمبی لمبی چھوڑنا ہوتا ہے۔ کرنا تو کچھ ہوتا نہیں ہے۔ منہ سے بولنے اور عملی طور پر کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے۔ سیاست دانوں کا وتیرہ رہا ہے کہ کہہ دو، کہنے میں کیا حرج ہے، کرنا تھوڑی ہے۔ جب اقتدارملے گا تو کہہ دیں گے خزانہ خالی ہے، پچھلی حکومتوں نے بہت کرپشن کی ہے، سابق حکمرانوں نے لوٹ کر سب ختم کر دیا ہے، ہمیں خزانہ خالی ملا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اور عوام تو ہے ہی ایسی سادہ لوح کہ اسے کیا کہا جائے۔ سب کی بات کو دل پر لے لیتی ہے اور اسی کی ہوجاتی ہے۔ عوام کو چاہیے کیا دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور سکون؟

کیا کہا: دو وقت کی روٹی۔ لنگر خانے ہیں ناں دو کیا چار وقت کھاؤ۔ کوئی روکے گا نہیں۔ حکومت نے بھی بنائے ہیں۔ اس سے پہلے سیلانی اور دوسرے فلاحی ادارے مٹن قورمہ کھلاتو رہے ہیں۔

سکون۔ ارے سکون تو قبر میں ملتا ہے۔
اور ہی تعلیم۔ اس کے لئے سوری۔

کیونکہ تعلیم حاصل کریں گے تو نوکری دینا پڑے گی۔ نوکری دے دو تو ہمارے لوگ کیا کریں گے۔ اور دانا لوگ کہتے ہیں کہ تعلیم سے آدمی کا دماغ خراب ہوجاتا ہے، وہ سوال پوچھنے لگ جاتا ہے، اس لئے یہ سہولت غریب کے لئے نہیں ہے۔

پیٹرول کی قیمتیں ہر مہینے بڑھائی جا رہی ہیں۔ حکومت نے بھی اپنا پینترا اب بدل لیا ہے۔ متعلقہ وزارت کی جانب سے سمری زیادہ قیمت کی بھجوائی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ قیمت بڑھائی جاسکے اور وہ بھی عوام پر احسان عظیم کر کے، کہ حکومت کو عوام کے دکھوں کا احساس ہے۔ 13 روپے کی جگہ 3 روپے بیس پیسے بڑھائی جا رہی ہے۔ 3 روپے بیس پیسے سے جو پیٹرول کی نئی قیمت ہو گئی ہے، اتنی مہنگائی میں اس کو کیسے پورا کیا جائے؟ میٹرو ٹرین اور میٹرو بس کے نا م پر عوام کے کھربوں روپے آگ میں جھونک دیے۔ اس کا فائدہ کیا ہو رہا ہے۔ کراچی میں گرین بس پر ترقیاتی کام کو 5 سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے، اورنج لائن تو شاید ہمارے پوتے اور نواسے ہی دیکھ سکیں گے۔ وہ بھی کس عمر میں دیکھیں گے یہ نہیں کہا جاسکتا۔

پیٹرول کا تو صرف نام ہی بدنام ہے کیونکہ اس کی قیمت کو عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ مگر دوسری اشیاؤں کا کیا؟

دودھ، گوشت، اشیائے خورد و نوش اپنی مرضی سے، خود ساختہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔ لاکھوں روپے حرام منافع کمانے والوں کو سرکاری افسران ہزار روپے کا جرمانہ کر کے فخر سے سینہ پھلائے پھرتے ہیں۔ اور میڈیا پر ایسے فخر سے بتاتے ہیں جیسے انہوں نے کشمیر آزاد کروالیا ہو۔

عوام کو ہر طرف سے لوٹا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون لوٹ رہا ہے؟

عوام کو عوام ہی لوٹ رہی ہے۔ دودھ فروش ٹرمپ کا چاچا نہیں ہے۔ سبزی فروش مودی کا بھائی نہیں ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ، اسکول والے ملکہ برطانیہ کے رشتے دار ہیں۔ سب کے سب اسی معاشرے کے فرد ہیں اور اس دین کو ماننے والے ہیں جس میں رشوت خوری، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔

دودھ میں ملاوٹ کرنے والا کہتا ہے کہ حکومت صحیح نہیں ہے، اسکول مافیا بھاری بھرکم فیسیں وصول کر کے کہتے ہیں ہم خسارے میں ہیں۔ سرکاری اہلکار رشوت کے بغیرکوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ تاجر تمام کام سود پر کر رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بے برکتی ہے۔

ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے معاشرے کا ایک ایک فرد اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے۔ سرکاری افسران اور سیاست دانوں کو برا بھلا کہنا بڑا آسان کام ہے، مگرخود کے گریبان میں جھانکنا بہت تلخ حقیقت ہے۔ سچ ہمیشہ کڑواہوتا ہے۔ اگر ہم خود اپنا محاسبہ کریں تو ہم خود کو دھوکے باز اور چور ہی پائیں گے۔

مہنگائی بہت ہو رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اس کا علاج کرنا بھی تو عوام کی ہی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیسے؟

بائیکاٹ کر کے؟

صرف ایک ہفتے کا بائیکاٹ کر لیں سب کو آٹے دال کابھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ مگر اس سے پہلے خود کو صاف کرنا ہوگا۔ خود کو ایسا بنانا ہوگا کہ لوگ آپ پر انگلی نہ اٹھاسکیں۔ اگر آپ کسی کو چور کہہ رہے ہیں تو کوئی پلٹ کر آپ کے کارنامے نہ بتانے لگ جائے۔ اسی وجہ سے آج کل چور چور کو نہیں کہا جا رہا ۔ لٹیرے کو لٹیرا نہیں کہتے۔ رشوت لینے والے کو رشوت خور، حرام کمانے والے کو حرام خور نہیں کہتے۔ کیونکہ گریبان تو سب کے ہی چاک ہیں۔

مہنگائی کے طوفان سے اگر بچنا ہے، اس سے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانا ہے تو ”کم کھائیں مگر حلال کھائیں“ پر عمل کرنا ہوگا۔ ملاوٹ اور رشوت کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ اگر کوئی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو اجتماعی طور پر اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ گلی، محلوں میں، دفاتر میں، مارکیٹوں، بازاروں میں ایسے افرادکا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ پہلے کے ادوار میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ ایسے افرادکا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا تھا جس سے لوگ عبرت حاصل کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ہم انسانیت کے علمبردار بن گئے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •