خوف کا کچھ کریں


خوف جس کا انسان ہوش سنبھالنے سے لے کر ہوش کھونے تک سامنا کرتا ہے۔ یہ سلسلہ گھر سے ہی شروع ہو جاتا ہے، امی یا ابو کی ڈانٹ کا خوف، اسکول میں ٹیچر کے ہوم ورک نہ کرنے کا خوف، مدرسے میں گزشتہ دن کا سبق روانی کے ساتھ نہ پڑھنے کا خوف، امتحانات میں کم نمبر آنے کا خوف یا فیل ہونے کا، کالج میں اچھے گریڈ سے پاس نہ ہونے کا خوف، یونیورسٹی میں بھی یہی خوف، جبکہ تعلیمی درجے عبور کرنے کے بعد روزگار نہ ملنے کا خوف، روزگار اگر مل جائے تو باس کا خوف، اگر کوئی زندگی میں پسند آ جائے تو اس کا گھر میں بتانے کا خوف، شادی کی پہلی رات کا خوف، شادی ہونے کے بعد گھر لیٹ آنے کا خوف، بچوں کی تربیت میں کمی کا خوف، سیاسی مجلس میں لیڈر کے ہارنے کا خوف اور دینی مجلس میں آخرت کے عذاب کا خوف وغیرہ۔

یہ وہ سارے خوف ہیں جن کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ایڈجسمنٹ ہو جاتی ہے۔مگر خوف جب اپنی شکل بدلتا ہے اور جیسے جیسے انسان خوف کے لیے اپنے دل و دماغ میں باقاعدہ جگہ بناتا ہے۔ ویسے ہی خوف کی نئی قسمیں انسان کے لیے مہلک بن جاتی ہیں۔ ان نئی خوف کی قسموں کے قابو میں انسان چلا جاتا ہے اور کسی حساس جنسی بیماری کی طرح لوگ اس کو محسوس کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سے کتراتے ہیں۔

بس اسی طرح انسان خوف کی ان قسموں کے اردگرد رہتا ہے اور ہر دوسرا انسان مندرجہ بالا تمام خوف کے مراحل سے گزرتا ہے۔ مگر کئی لوگ خوف کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو اس کو خود پر غالب مان لیتے ہیں۔ خوف باقاعدہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ کسی اور ذریعے سے انسان کے ساتھ منسلک ہونے والی کیفیت کا نام ہے۔ یہ چند ایک مراحل کے علاوہ باقی تمام شکلوں میں ایک انسان کے لیے نقصان دہ ہے اور جب یہ باقاعدہ بیماری نہیں تو اس کا باقاعدہ علاج بھی نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق خوف حیوانات (بشمول انسان) میں پایا جانے والا وہ نفسیاتی رویہ ہے کہ جو کسی خطرے سے آگاہی کے سبب ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور اپنے بنیادی ترین درجے میں ہونے والے رد عمل کے طور پر فرار یا خطرے سے خود کو چھپانے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ گو کہ یہ ایک بنیادی اور جاندار کی بقا کے لیے اہم ردعمل تصور کیا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے متعدد نفسیاتی امراض میں عمل دخل رکھنے والا ایک عامل بھی کہا جاتا ہے جن میں قلق (anxiety) اور اکتئاب (depression) وغیرہ شامل ہیں، عام طور پر اس طرح کے خوف (کہ جو نفسیاتی امراض کا موجب بن جائے ) کے پس منظر میں مستقبل کی تشویش اور ماضی کی تقصیر (guilt) کا کردار بھی پایا جاتا ہے۔ اور اس کو کنٹرول کرنا یا ختم کرنا خوف رسیدہ فرد کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

میرا ذاتی تجربہ رہا ہے دوستوں کی محفل میں جب کسی بیماری یا کسی فرد کے ساتھ رونما ہونے والے حادثوں یا ناکامیوں کا ذکر ہوتا ہے یا کسی مرض کے متعلق اور اس کی علامتوں کے متعلق بات ہوتی ہے تو اس کا ری ایکشن خوف کی شکل میں آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوف پیدا ہونے سے خوف پھیلانا زیادہ آسان عمل ہے۔

موجودہ دور میں نت نئی بیماریوں کے متعلق خوف انسان کے اندر زیادہ جگہ بنا رہا ہے۔ کورونا وائرس سمیت دیگر نئی وبائیں جن کو ابھی آنا ہے، کا خوف ابھی سے موجود ہے۔ پہلے زمانے میں انسان کم تھے، ترقی کم تھی لیکن بیماریاں بھی کم تھیں۔ لیکن اب ان تمام میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور ان سے منسلک خوف بھی ہے جو طویل مدت کے لیے انسان کے ساتھ رہ کر انسان کی زندگی کے ہر لمحے کو متاثر کر رہا ہے۔

اس وقت پاکستان میں جس طرح ایڈز کنٹرول پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، پولیو کنٹرول پروگرام، ہیپاٹائٹس و دیگر امراض کو کنٹرول کرنے کے پروگرام مہم کی شکل میں چل رہے ہیں۔ شاید ہسپتالوں میں یا کسی نفسیاتی سینٹر میں خوف کنٹرول کرنے کی کاونسلنگ بھی ہو رہی ہو مگر اس کی عام لوگوں تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہیے خوف کنٹرول کرنے کے پروگرام پر کام کرے۔ نوجوان اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور کاونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔

Facebook Comments HS