ثمینہ کے بیٹے کا حیدر آبادی فٹ بال اور عربی چھوکرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’کیا کر رے آپ، ہاں؟ ایک بچے سے اس کا بال چھینتے آپ کے باوا لوگاں آپ کو یہی سکھاتے پھرتے کیا؟‘‘

ہم اپنی تین سالہ بیٹی کے ساتھ پکڑم پکڑائی کھیل رہے تھے، ساتھ والی بلڈنگ کی انڈین حیدرآبادی پڑوسن ثمینہ عربی لڑکوں پر برس رہی تھی، ہم ہنستے ہوئے زور سے ثمینہ کو پکارتے ہوئے بولے کہ ارے ثمینہ! ان کو حیدرآبادی نکو آتی، عربی میں ڈانٹ یو۔

ہماری آواز سنتے ہی ثمینہ اپنے چار سالہ بیٹے مدثر اور اس کی فٹبال کو لے کر ہمارے قریب آ گئی، مدثر جو کہ گراؤنڈ میں پہلے سے لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیل رہا تھا اور شریر عربی لڑکوں نے اس کا فٹبال چھین لیا تھا جس کی وجہ سے ثمینہ ان عربی لڑکوں پر بھوکی شیرنی کی طرح سے حملہ آور ہوئی اور جس بچے نے فٹبال چھین کر اپنے پاس رکھا تھا، اسے ثمینہ نے گریبان سے پکڑ کر دن میں اصلی تارے دکھا ڈالے اور اپنے بچے کا فٹبال واپس لینے میں مکمل کامیاب ہوئی تو وہیں کھڑے رہتے، شریر لڑکوں کی طرف انتہائی غصے میں، اپنی آستین چڑھاتی زور سے ہمیں کہتی کہ ”ارے صباں! یہ روز کا ناٹک بنا ڈالے، اب یہ دیکھو، مدثر کے باوا اس کو کل دوسرا نیا فٹبال دلائے، یہ عربی پوٹے روز میرا بچہ سے چھین کر لے جاتے‘‘

یہ بولنے کے ساتھ ثمینہ اپنے نزدیک کھڑے ایک عربی شریر لڑکے کو زور سے دھپ رسید کر کے بولی کہ ”آج اسیچ واسطے میں ماری ان کو، یہ پوٹے بہت بدمعاشی کرے ہیں۔‘‘

ثمینہ کا اپنے بچے کے جائز حق کے لیے بر وقت ایکشن لینا ہم کو کافی متاثرکر گیا، ہم مسکین پاکستانی جو پہلے سے ہی ان عربی بچوں سے ڈسے ہوئے تھے کیوں کہ آندھی جائے ، مینہ جائے یہاں مقامی عربی شریر لونڈوں کی شرارتوں سے کوئی بھی غیرملکی کبھی بچ ہی نہیں سکتا۔

خوشی کے مارے جہاں کھڑے تھے وہیں سے ہی ثمینہ کے حق میں ایک ہاتھ سے ہوا میں مکہ بنا کرنعرے لگانے لگے کہ ”ثمینہ تیرے چاہنے والے، کراچی والے کراچی والے“ ۔ ابھی ہم اپنی خوشی میں مگن ہی تھے کہ ہمیں محسوس ہوا کہ گراؤنڈ میں موجود ساری چلڑ پارٹی ہمیں خاموش اور خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگ گئی کہ کہیں ہم کوئی طالبان کی کارکن تو نہیں، اگلے ہی لمحے جب ہمیں یقین سا آیا تو اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا کر ثمینہ کے نزدیک کھسک نکلے۔

ہم نے ثمینہ سے پوچھا کہ اگر یہ عربی لڑکا اپنے والد کو لے کرتمہارے گھرآ گیا اور اس نے تم سے پوچھا کہ تمہاری اتنی ہمت کہ میرے بیٹے کو ہاتھ لگایا، پھر کیا کرو گی؟ ثمینہ ہمارے سوال سن کر پہلے تو چپ رہی لیکن پھر جھٹ سے ایک ہاتھ اپنی کمر اور دوسرا ہاتھ لڑکوں کی طرف کر کے بولی کہ ”یہ پوؔٹے اگر اپنے باواں کو لے کر آیا تو اس کے باواں کو بھی چپلوں سے ماروں گی، کائے واسطے میرے گھر تو آیا، بچہ پیدا کر کر کے وہ بھی چھ چھ  فٹاں کے بچے اس علاقے ماں کوں چھوڑا؟‘‘ ثمینہ کی جاندار پرفارمنس کہ بولی چاہے بولنی نا آتی ہو ’’پر ایکشن اسپیک لاؤڈر دین ورڈز‘‘ پر یقین ضرور آ گیا۔

ہمارے مالک مکان کی چارعمارتیں تھیں، دو ہمارے ساتھ سامنے مسجد کی طرف اور دو ہماری بلڈنگ کے پیچھے تھیں، ہماری بلڈنگ کے علاوہ باقی تینوں عمارتوں میں پاکستانی اور ہندوستانی لوگ آباد تھے اور سب کمیونٹی کے چھوٹے بڑے بچے بعد نمازعصرہماری بلڈنگ کے سامنے مسجد کی اوپن کار پارکنگ میں کھیلنے جمع ہوتے تھے۔

ہم نے ثمینہ سے پوچھا بھی کہ اپنے چارسالہ بیٹے کو اتنے بڑے چودہ پندرہ سال کے عربی بچوں کے ساتھ کھیلنے کیوں دیتی ہو؟اس کے ہم عمر لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کھیلنے پر لگاؤ تو اس پرثمینہ کا فوراً جواب آیا کہ ”میرا بچہ انڈین اسکول میں پڑھنے جاتا اور وہاں سب ہندوستانی بچے ہی آتے ، پر یہاں گراؤنڈ میں ان عربی لڑکوں کے ساتھ اس لیے کھیلنے دیتی تاکہ میرے بیٹے کو بھی عربی بولنی آ جائے کیوں کہ چھٹیوں میں یہ مدثر سعودی عرب سے انڈیا جا کر بھی سب سے حیدرآبادی میں ہی باتیں کرتا، سب خاندان والے میرا مذاق اڑاتے کہ عرب میں بچہ پیدا کر کے بھی تمہارے بیٹے کو عربی بولنی نہیں آتی۔‘‘

اب اس ننھے چار سالہ بچے سے یہ امید کہ انڈیا جا کر وہ اپنے رشتہ داروں، دوست احباب کے سامنے فرفر عربی بولے۔ ثمینہ نے اپنے بیٹے مدثر کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی اس کا ایک کان مروڑتی ہوئی بولی ”یہ پوٹا ساری دنیا میں میرے کو بہت شرمندہ کرواتا پھرتا، اس کا باوا میرے کو سب لوگاں کے سامنے کہتا کہ یہ تم کیسا تربیت کر رہی، یہ مدثر عربی کا ایک لفظ بھی ڈھنگ کو نہیں بولتا۔

چار سالہ مدثر ہم دونوں کی باتیں سر جھکا کرخاموشی سے سن رہا تھا، بچہ اپنا کانفیڈنس کم نہ کرجائے، ہم مدثر کی طرف تھوڑا جھک کر اس کی خوبصورت آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے بولے کہ ”مدثر مجھے جمال (اس کا کلاس فیلو) نے بتایا کہ آپ ڈرائینگ بہت زبردست کرتے ہیں اور آپ کی ٹیچر پوری کلاس میں آپ کی بہت تعریف کر رہی تھیں، آنکھوں میں چھوٹے چھوٹے آنسو لیے کھڑا مدثر ہماری بات سن کرفوراً چارج ہو گیا، ساتھ ہی اس کے چہرے پر پھیلی ایک قابل فخر والی خوشی بہت واضح طور پر نمودار ہوئی اور اسی حالت میں اپنا سرہلاتے ہوئے ہم سے بولا“ ہاؤ آنٹی، میں ای فور ایلیفنٹ کو کلر کرا، اور کوئی کلرباہر نکو نکلا اسی واسطیچ میری ٹیچر میرا تعریف کری اور ساتھ ایک نکہ سا چاکلیٹ بھی دیا۔‘‘

ثمینہ فوراً ہی مدثر کو ٹوکتی ہوئی بولی کہ ”یہ ڈرائنگ کر کے آپ کون سا میداں جیت رہے، عربی بولو عربی تاکہ ہنڈیا جا کر سب آپ کے اماں باوا کی تعریف کریں، یہ ڈرائینگ ورائنگ ماں نکو کچھ رکھا۔‘‘ چھوٹا سا مدثر اپنی پریشان آنکھوں سے کبھی اپنی امی کو اور کبھی ہمیں دیکھتا۔

مغرب کی اذان شروع ہونے والی تھی ، ہم اپنے بچوں کو لے کراپنے گھر کی طرف نکلے اور پورے راستے یہی سوچتے رہے کہ ایک ماں کبھی بھی اپنے بچے کا برا نہیں چاہتی لیکن انجانے پن میں ، وہ بھی اپنے شوہر کے رویے کی وجہ سے ثمینہ اپنے بچے کی خود اعتمادی اور ٹیلنٹ کو نظر اندازکرنے لگی اوراپنی ذاتی خواہش کی تسکین کے لیے صحیح اورغلط کی تمیز بھی بھول رہی حالاں کہ اپنی مادری زبان پر فخر ہونے کے ساتھ بچوں کو دوسری زبانوں، تعلیم اور ہنر کے حصول کے لیے والدین کا ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھتے، بچے کی توہین کیے بغیر، سلجھے دماغ اورحوصلہ افزائی کے ساتھ حل نکالنا ،ان کے بچے کا روشن مستقبل کا راستہ ہے۔

ہم انہی سوچوں میں گم تھے کہ اچانک ہمارے اپنے اندر سے ہی ایک آواز حیدرآبادی لب و لہجہ میں شاعر مشرق سے شکایت کرتی سنائی دی کہ ”اقبال باواں! یہ ہندوستانی بلبلاں صرف عربی سیکھنے پر زور دے رہاں اور پاکستانی بلبلاں انگریزی اور چینی چنکاں پر، خودی کی بلندی کے بجاوے اپنے اپنے لوگاں پر بھرم جماتے دکھ رہے۔ کیا رے باواں! یہ تیری قوم کی شاہیناں کدھر کو بھٹکتے پھر رہے۔‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •