ارطغرل ڈرامے کا ایک سین اور دوسری شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تحریر شادی شدہ مرد حضرات کے لئے ہے البتہ ان کی بیگمات بھی پڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان میں کثرت ازدواج کی ہمیشہ سے حوصلہ شکنی رہی ہے اور اس بابت یار دوستوں نے کئی لطیفے اور طریقے بھی گھڑ رکھے ہیں لیکن ان پر عمل کرنے سے سبھی قاصر ہیں اور وجہ شاید نامعلوم خوف ہے۔

ہمارے ایک استاد محترم کہا کرتے تھے کہ دنیا کے 99 فیصد مرد زن مرید ہیں لیکن جو ایک فیصد اس بات سے انکار کرتے ہیں وہ دراصل جھوٹ بولتے ہیں۔

اب تک جو تھوڑا بہت علم کتابوں اور سیانوں کی صحبت سے ہم تک پہنچا تو یہ دلیل بہت پختگی سے ذہن میں بیٹھ چکی تھی کہ عربوں کے ہاں کثرت ازدواج دراصل ایک ثقافتی وجہ ہے اور وہاں کی عورت ایک نسبتاً بڑے دل گردے والی عورت ہوتی ہے جو کہ اپنے سے مشابہت رکھتے ایک اور وجود کو برداشت کر لیتی ہے۔

چونکہ ہمارے خطے میں ستی کی رسم پائی جاتی ہے اور برصغیر میں مذہبی تبدیلی جس تیزی سے ہوئی، اس تیزی سے ثقافت تبدیل نہ ہو سکی شاید یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد شادی کا یہاں کا مسلمان بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

آخر اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو تجربہ شرط ہے، شوق سے کیجیے اور ہمیں بھی آگاہ کیجیے کہ کیسی گزرتی ہے؟

ثقافتی غلط فہمی جو کہ مشرق اور مغرب کی عورت کے حوالے سے ہمیں تھی اور پھر مشرق میں بھی برصغیر اور باقی خطوں کی خواتین کے حوالے سے ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ وہاں کی اور یہاں کی خواتین الگ الگ طرح کا ذہن رکھتی ہیں، گزشتہ شب ارطغرل ڈرامہ کی ایک قسط دیکھتے ہوئے دور ہو گئی۔

ایک سین کی عکس بندی کچھ یوں ہوتی ہے کہ ارطغرل اپنے خیمے میں اپنی اکلوتی زوجہ حلیمہ سلطان کو تجارتی بازار میں ہونے والے ایک واقعہ سے آگاہ کر رہا ہوتا ہے اور ایک اور مسلمان قبیلے کی ایک خاتون اصلیحان کے بارے میں بتاتا ہے کہ اس نے کیسے قالینوں کو بیچنے میں ارطغرل کی مدد کی جس پر حلیمہ سلطان یوں گویا ہوئی کہ بہت رحم دل خاتون معلوم ہوتی ہے اور پھر پیر پٹختی ہوئی صراحی سے چند گھونٹ پانی کے پیتی ہے اور اپنے بستر پر ناراض سا منہ بنا کر لیٹ جاتی ہے جبکہ ارطغرل کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر کوئی پاکستانی ڈائریکٹر ہوتا تو ایسے سین پر پس پردہ موسیقی کی بجائے ”اینج رسیا نہ کر میری جان سجنا۔ اک دن چھڈ جانا اے جہان سجنا“ ضرور لگاتا۔

لیکن مجھے 1280 کی اس داستان نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی آج کی بیوی اور ماضی کی بیوی کے اپنے شوہر کے حوالے سے جذبات ابھی تک وہی ہیں۔ بیوی چاہے کسی بھی ثقافت کی ہو بیوی ہوتی ہے۔ لہذا اگر آپ شادی شدہ ہیں اور یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو ایک ایسی زوجہ کا ساتھ نصیب ہے جو کہ آپ کو کسی بھی صورت میں کسی اور کے ساتھ شریک نہیں کر سکتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).