اورسیز پاکستانی پاکستان کے بارے کتنا جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہتر معیار زندگی اور اچھے روزگار کے لئے بہت سے پاکستانی دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں ۔ جو لوگ سعودی عرب یا خلیجی ممالک میں جاتے ہیں ان کا پاکستان سے تعلق قائم رہتا ہے ۔ ایک تو یہ ممالک قریب ہیں، دوسرا یہ باہر سے آنے والے لوگوں کو کسی صورت اپنی شہریت نہیں دیتے بلکہ بعض اوقات تو ان سے تیسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کرتے ہیں، یہ ایک المیے سے کم نہیں۔ کچھ خلیجی ممالک میں سفر کرنے کا موقع ملا، وہاں زیادہ تر پاکستانی لیبر کلاس کی حالت زار دیکھ کر دل شدید پریشان ہوا۔

جو لوگ یورپ یا امریکہ کی طرف نکلتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں ( یہ ممالک سب کو اپنا لیتے ہیں)۔ شہریت، کاروبار، شادیاں اور اگلی جنریشن، زندگی ان ممالک کے اطوار میں ڈھل جاتی ہے ماضی قریب تقریباً 2000 سے پہلے تک یہ لوگ شدید ناسٹیلجیا کا شکار تھے،جو جس دور میں پاکستان چھوڑ کر آیا تھا وہ پاکستان کو اسی دور میں تصور کر رہا تھا، برسوں بعد پاکستان کا چکر لگتا تو تبدیلی دیکھ کر حیران رہ جاتے (ویسے اب والی تبدیلی دیکھ کر وہ ششدر ہیں )

جب سے سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ کا زمانہ آیا ہے، ان کی دنیا بدل چکی ہے ۔ پاکستان میں کب کیا ہو رہا ہے؟ سیاست میں کیا چل رہا ہے؟ کون کرپٹ ہے، کس کو اقتدار ملنا چاہیے؟ کسے پھانسی پر چڑھا دینا چاہیے وغیرہ وغیرہ،  ان کے پاس چینلز اور سوشل میڈیا  سے دی گئی تمام معلومات ہر لمحہ موجود ہوتی ہیں، جس کا اظہار وہ ہر وقت جہاں موقع ملے کرتے رہتے ہیں۔ دعوت چھوٹی ہو یا بڑی موضوع پاکستانی سیاست ہی ہوتا ہے، ہر کوئی اپنے مخصوص چینلز اور اینکر پرسنز کی معلومات کی بنیاد پر گفتگو میں حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔

لیکن میرے خیال میں یہاں ایک بہت بڑے المیے نے جنم لیا ہے،  سات آٹھ سال پہلے جب میں یہاں آیا تو محسوس کیا کہ یہ پاکستانی ٹی وی شوز کو حرف آخر سمجھتے ہیں، زیادہ تر مباحث میں لوگوں کی معلومات کے حوالے صرف یہی شوز ہوتے تھے۔اگر بحث گرم ہو جاتی تو ٹاک شوز کے کلپس نکال کر یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے پر تل جاتے۔

پاکستانی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے بااختیار حلقوں نے جو بیانیہ پچھلے کچھ سالوں میں پروان چڑھایا ہے، وہ پاکستان میں بسنے والوں نے کتنا قبول کیا؟ اس پر بحث ہو سکتی ہے لیکن مغربی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی اکثریت نے اسے بھرپور انداز میں نہ صرف جذب کیا بلکہ اسی جارحانہ انداز میں اس کا اظہار کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے، وہی انداز، پھانسی چڑھا دو، گولی مار دو، سیاستدان کرپٹ ہیں، صرف سیاستدانوں نے ملک بیچ دیا، ملک کی تمام برائیوں کی جڑ سیاسی نظام اور جمہوریت ہے، سیاستدان ٹٹ پونجیے ہیں، سب سے اچھے ادوار مارشل لا کے ہیں، اگر فوجی حکومتیں نہ ہوتیں تو سیاستدان ملک بیچ کھاتے، قیامت قریب ہے، پوری دنیا پاکستان کے خلاف سازش کر رہی ہے، یہود و ہنود پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے، یہ (صرف) سیاستدان بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں پاکستان ففتھ جنریشن وار میں ہے وغیرہ وغیرہ۔

استثائی مثالیں تو ہوتی ہی ہیں لیکن زیادہ تر ایسی ہی سوچ ہے ۔ جہاں تک بات ہے لیبر کلاس کی تو یہ بات سمجھ آتی ہے لیکن بہت سے پڑھے لکھے پروفیشنلز بھی ڈس انفارمیشن کے اس سیلاب میں ڈوبتے نظر آتے ہیں۔  بد قسمتی سے پاکستان کی مجموعی اور سیاسی تاریخ مثلاً حسین شہید سہروردی کون تھے؟ پاکستان کا آئین؟ سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟ انیس سو اکہتر کی جنگ میں حکومت کس کی تھی؟ وغیرہ جیسی بنیادی معلومات سے زیادہ تر لوگ نابلد ہیں۔

کچھ اینکر حضرات جو اس بیانیے کے پیش کار تھے، یہاں ان کا اسٹیٹس سلیبرٹی سے کم نہیں ہے ۔ وہ جب یہاں آتے ہیں تو ان کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے لائق ہوتے ہیں، یہاں لوگوں کا رجحان دیکھ کر ان اینکر حضرات میں سے زیادہ تر اپنے یوٹیوب چینلز پر اسی بیانیے کو بیچنے کے چکر میں ہیں کہ اس سے ویوز زیادہ ملتے ہیں، اس کے نقصانات کی انہیں چنداں پروا نہیں۔

اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو پڑھے لکھے اور حقیقی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن جو ماحول اور انداز عوام میں ٹھونسا گیا ہے، ان حالات میں وہ خاموشی ہی اختیار کرتے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا گروپس میں اپنے خیالات کا اظہار کر کے دل ٹھنڈا کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ان سب کا خیال تھا کہ اگر حکمران ٹھیک ہو تو سب مہینوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے، پاکستان دنوں میں ترقی کرے گا، ہر طرف خوشحالی ہو گی، اربوں کھربوں کی کرپشن رک جائے گی، فوج اور حکومت مل کر ملک کو ناروے بنا دیں گے۔

لیکن آج کل موجودہ حکومت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر ان کے اقوال شدید تکلیف دہ ہیں، ان کے نزدیک پاکستان کے عوام کرپٹ ہو چکے ہیں، ہر فرد بدعنوانی میں ملوث ہے، اب نیک اور پاک باز حکمران بے چارہ کیا کرے؟ (اسی بیانیے کی یہ دوسری اسٹیج ہے)

بہت سوں کا خیال تھا کہ موجودہ حکومت کے آتے ہی بیرون ملک پاکستانی بے شمار پیسہ بھیجیں گے، ڈالروں کی ریل پیل ہو جائے گی لیکن اب حالات دیکھتے ہوئے ان میں سے زیادہ تر نے وہاں چھوٹی موٹی انویسٹمنٹ بھی وقتی طور پر روک دی ہے۔

ایک صاحب ایک کھانے پر ملے جو ابھی ابھی اپنے خاندان کے ساتھ ڈزنی ورلڈ گھوم کر آئے تھے، اپنی فوڈ ہیبٹس اور کیلوریز کو لے کر کافی پریشان تھے، بولے پاکستان کے عوام ایک ایماندار لیڈر ڈیزرو ہی نہیں کرتے،  سب لوگ کرپٹ ہو چکے ہیں، میں نے کہا: حضور! آپ کے اور ہمارے بے شمار جاننے والے ایماندار اور نیک لوگ بھی ادھر ہی رہتے ہیں اور غربت کا یہ عالم ہے کہ نئی جنریشن غذائی کمی کا شکار ہو رہی ہے، لوگوں کا کھانا پورا نہیں ہو رہا، بولے جو بھی ہے بے چارا ایک نیک حکمران ملا، ان لوگوں کو قدر نہیں، سب کے سب جاہل ہیں، حالانکہ ان حضرت کی پاکستان کے بارے میں اپنی بنیادی معلومات بے حد ناقص تھیں، ان حالات میں خاموشی ہی بنتی تھی۔

ایک اور صاحب مجھے اپنا نیا گھر دکھانے لے گئے، مینشن نما گھر گھمانے کے بعد اپنے ہیٹڈ سوئمنگ پول کے کنارے چائے پیتے ہوئے پاکستان کے حالات زیر بحث آئے تو ان کا خیال تھا کہ پاکستانی عوام کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ ماضی میں ان لوگوں نے کرپٹ لوگوں کو کیوں چنا؟ اب بھگتیں۔ یہاں بھی خاموشی ہی بہتر محسوس ہوئی۔

ایک حضرت سے ملاقات ہوئی، ان کے والد پروگریسو آدمی تھے، ہم نے ان کے والد سے بہت کچھ سیکھا لیکن ان کے خیالات پاکستانی میڈیا کے چند ایسے اینکرز سے متاثر نظر آئے جو غزوہ ہند کی نوید سناتے ہیں، قیامت کے منظر بیان کرتے ہیں یا رمضان کی مذہبی ٹرانسمیشن کے ساتھ سیاست میں بھی پاؤں رکھتے ہیں۔ وہ خود اپنے والد صاحب کے خیالات سے شرمندہ شرمندہ نظر آئے اور یہ تبدیلی ان میں سٹیلائٹ چینلز آنے کے بعد آنا شروع ہوئی۔

مجھے تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اکثریت کی دلچسپی ٹائم پاس سے زیادہ نہیں۔

بہت سے امریکی پاکستانی زکوٰۃ و خیرات پاکستان بھیجتے ہیں، عمران خان نے یہاں سے بیش بہا چندہ اکٹھا کیا، لوگ ان پر اندھا اعتماد کرتے رہے ہیں، اسی لیے یہاں کی اکثریت نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا لیکن حکومت کی پے در پے ناکامیاں اور فارن فنڈنگ کیس دن بدن نظروں میں آنے کے بعد مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں پاکستان ان لوگوں کی زکوٰۃ و خیرات سے محروم ہی نہ ہوتا چلا جائے، یہ رقم بھی پاکستان کے زر مبادلہ میں ہی شمار ہوتی ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی چینلز نے بیرون ملک پاکستانیوں کو آگاہ کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے یا منفی؟ اس میں قصور میڈیا کا ہے یا اس ٹھونسے گئے بیانیے کا؟ سوشل میڈیا امید کی کرن ہے جس پر حکومتی حلقوں کی گرفت قدرے کمزور ہے جو شاید اس ڈس انفارمیشن کے کچرے کو وقت کے ساتھ صاف کر دے اور تصویر کا اصل رخ واضح ہوتا چلا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •