سوشل میڈیا ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ چشم کشا فیچر
گوگل کے سابق ڈیزائن ایتھسسٹ ٹریسٹان ہیرس کہتے ہیں ”جس وقت میں گوگل میں تھا ، اس وقت میں جی میل کے سیکشن میں تھا اور وہاں ہر وقت ہم یہی ڈسکس کرتے تھے کہ اس کا انباکس کیسا دکھنا چاہیے ، اس کا فرنٹ کیسا ہو ۔ اس کا بیک گراؤنڈ کلر کیسا ہونا چاہیے ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت جی میل پر گزاریں۔ وہاں موجود لوگوں کے فیصلے دنیا کے اربوں لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ میری روٹین تھی روزانہ آفس سے گھر آ کر لگ بھگ دو سے تین گھنٹے لگا کر میں جی میل کے اوپر پریزنٹیشن بناتا تھا کہ جی میل کیسا دکھے کہ ہم لوگوں کو مصروف رکھیں مگر اس کے عادی نہ ہوں اور میرے کولیگز بھی اس سوچ سے متفق تھے اور یہ بات کسی نہ کسی طرح گوگل کے سی ای او“ لیری پیج ”تک پہنچی جنھوں نے میری سوچ کی تائید بھی کی مگر دن گزرتے گئے اور اس کوئی عمل نہ ہوسکا۔‘‘
گوگل پر آپ کچھ سرچ کرنے کے لئے ٹائپ کریں تو گوگل آپ کو مختلف آٹو فل اوپشنز دیتا ہے جنہیں آپ سرچ کریں۔ درحقیقت جو آپ سوچ رہے ہوتے ہیں آپ وہی تلاش کرتے ہیں، آپ وہی پڑھتے ہیں یا پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ پہلے سے طے شدہ ہر شے۔ اچھا، دلچسپ بات یہ ہے گوگل بھی ہر خطے کے اعتبار سے سرچ ریزلٹس الگ الگ دکھاتا ہے، یہی حال ہماری یوٹیوب پر سامنے آنے والی ویڈیوز کا ہے کیونکہ یہ اے آئی ہمیں اور ہمارے رجحانات کی خبر ہم سے بھی بہتر رکھتا ہے۔

پانچویں چیز ، جس کے بارے میں اس ڈاکیومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے دماغ کی کنڈیشنگ کی جاری ہے۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک ہمارے دماغ کی پروگرامنگ کر رہے ہیں ، یہ لوگ ہمارے لاشعور کی بھی پروگرامنگ کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا ہم بار بار اپنا انسٹاگرام اپنا فیس بک اپنا واٹس اپ چیک کر رہے ہوتے ہیں اور اپنا بہت قیمتی وقت لگا رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا ہم کتنا وقت لگا چکے ہیں ۔ جو بھی عمل جو آپ غیر ارادی طور پر کرتے ہیں یہ جب تک ممکن نہیں جب تک آپ کی لاشعوری طور پر پروگرامنگ نہ کی گئی ہو ، آپ کے دماغ کو کنٹرول کر کے آپ کے رویے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے ، آپ کے خیالات نظریات اور سوچ کو تبدیل کر دیا جاتا ہے اور آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔ اور یہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس اپنے فائدے کے لے آپ کا استعمال کرتے ہیں اور یہ سب کہنا ہے ان افراد کا جو ان سوشل میڈیا کے اداروں میں کافی عرصے تک اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
فیس بک کے سابق ایگزیکٹو، پرنٹ رسٹ کے سابق صدر اور موومنٹ کے سی ای او ٹم کنڈال کہتے ہیں کہ ”2006 میں مجھ سمیت فیس بک پر موجود ہر شخص گوگل سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ اس نے جس طرح اپنے آپ کو بنایا اور جس طرح وہ پیسہ بنانے کی ایک مشین بن چکا تھا ، ہمیں اس پر رشک آتا تھا، اس وقت فیس بک کو لانچ ہوئے دو برس گزر چکے تھے تب مجھے وہاں بہ طور مونٹائزیشن کے ڈائریکٹر لایا گیا تاکہ میں فیس بک کو مونیٹائیز کر سکوں۔
ورچوئل رئیلٹی کمپیوٹر سائنس کے بانی جیرن لینئیر کہتے ہیں فیس بک یا گوگل وغیرہ جیسی کمپنیز دنیا کی امیر ترین اور کامیاب ترین کمپنیز ہیں۔ ان کی کامیابی کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کمپنیز کے ملازمین کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں ہے کیونکہ یہ سپر کمپیوٹرز پر انحصار کرتی ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو پیسہ کس چیز کا مل رہا ہے؟ یہ کیا بیچتی ہیں؟
راجر میکنیم فیس بک میں ابتدائی سرمایہ لگانے والوں میں سے ایک ہیں ، ان کے بقول سلیکون ویلی کے پہلے پچاس سالوں میں کمپنیز پراڈکٹس بناتی اور بیچتی تھیں۔ پراڈکٹس جیسا کہ ہارڈ وئیر، سافٹ ویئرز وغیرہ ان کو اپنے کسٹمرز کو بیچتی اور پیسہ کماتی تھیں لیکن اب پچھلے دس سالوں سے سلیکون ویلی میں موجود ٹیکنالوجی کمپنیز اپنے صارفین کو فروخت کر رہی ہیں۔
موزیلا فائر فوکس اینڈ موزیلا لیبس کے سابق ایمپلائی، سینٹر فار ہیومین ٹیکنالوجی کے مشترکہ بانی ایزا رسکن کہتے ہیں کہ چونکہ ہم یعنی صارفین جو پراڈکٹس استعمال کر رہے ہیں ان کے لیے ہم کچھ ادائیگی نہیں کرتے بلکہ ایڈورٹائیز کرنے والے ان پراڈکٹس کے لیے ادائیگی کرتے ہیں تو سیدھی بات یہ ہے کہ ایڈورٹائیزرز ان پراڈکٹس ( سوشل میڈیا ) کے کسٹمر ہیں اور ہم یعنی صارفین وہ اشیا ہیں جن کو بیچا جا رہا ہے جیسے کہ ایک پرانی کہاوت ہے، ”اگر آپ کسی شے یا پراڈکٹ کے لیے ادائیگی نہیں کر رہے ہیں تو دراصل آپ ہی وہ پراڈکٹ یا شے برائے فروخت ہیں“
”If you are not paying for the product then you are the product۔“
گوگل کے سابق ڈیزائننگ ایگزیکٹیو کہتے ہیں کہ لوگوں کی زیادہ تعداد یہی سمجھتی ہے کہ فیس بک اپنی اور دوستوں کی تصاویر لگانے کا نام ہے اور گوگل محض ایک سرچ انجن جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ دراصل یہ تمام کمپنیز ایک طرح کی ریس میں ہیں کہ کس طرح آپ کا زیادہ سے زیادہ وقت سکرین پر حاصل کیا جا سکے اور آپ کی توجہ لی جائے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

