الوداع سر طارق فارانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے اندر بھی ایک ہم ہوتے ہیں جسے ہم کبھی تو عمر بھر نہیں مل پاتے، کبھی ملنے میں تاخیر ہو جاتی ہے تو کبھی خوش بختی بنا دستک دیے آپ کی دہلیز پہ آن پہنچتی ہے کہ آپ کو کوئی استاد ایسا بے لوث و باکردار مل جاتا ہے کہ وہ آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو آپ سے ملا دیتا ہے۔ سر طارق فارانی بھی ایک ایسی ہی ہستی ہیں۔

جب ہم یونہی اپنی ایک دوست شازیہ مغل کے کہنے پہ نظیر احمد میوزک سوسائٹی کے ممبر بنے اور سوسائٹی روم میں آنا جانا رہا تو جہاں وائلن ہمیں روز چڑیوں کی طرح چہچہانے پہ مجبور کرتا، وہاں فارانی صاحب علم کے بکھرتے موتی چننا بھی اچھا لگتا۔

ظاہر ہے اس دور میں ہم جتنے موتی چن سکتے تھے اتنے ہی کافی تھے۔ انہوں نے ہمیں اعتماد بخشا اور بخاری ہال میں پہلی بار ایک موسیقی کے پروگرام کو ہم چار راوینز نے ہوسٹ کیا۔ انہوں نے چار زبانوں کا انتخاب کیا اور چار ہی افراد نے کمپیئرنگ کی۔ الفاظ کے اتار چڑھاؤ اور الفاظ کی موسیقی سے شناسائی یہیں سے ہوئی۔

وہ ہمیں کہا کرتے تھے کہ یہ ریڈیو کی آواز ہے مگر مجھے علم تھا کہ یہ ہواؤں کے سنگ نہیں اڑ سکتی۔ سو ہم نے ان سے معذرت کر لی اور یونیورسٹی کی حد تک اس پروگرام سے بہت کچھ سیکھا۔

آج وہ بظاہر اس دنیا میں نہیں رہے مگر آج سے وہ اپنے شاگردوں اور تقسیم کیے گئے علم کی بدولت ہم میں موجود ہیں۔

آپ کو کوئی روشن خیال نستعلیق راوین دکھائی دے تو ایک بار اسے پوچھ لیجیے گا کہ فارانی صاحب کی صحبت سے موتی چنے ہیں؟ تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا یہ وہ روشنی ہے جو نور میں بدل گئی۔

کبھی آپ نے دیکھا کچھ لوگ بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ان کی آنکھیں بوڑھی نہیں ہوتیں، ان میں نومولودیت لوٹ آتی ہیں۔ ایسی ہی آنکھیں فارانی صاحب کی تھیں۔ جن سے ان کے بچپن کی حیرت کبھی نہیں گئی تھی۔

طارق فارانی

جب کبھی ان کا کوئی شاگرد اچھی بانسری بجا رہا ہوتا، اچھا وائلن بجا رہا ہوتا، ہارمونیم کے سر کمال کے ہوتے تو ان کی انگلیاں اور آنکھیں اس کی حقیقت بتا رہی ہوتیں تھیں۔ اچھی موسیقی پر وہ اپنے ہاتھوں کے اشارے سے شاعری پینٹ کرتے دکھائی دیتے تھے۔

نظیر احمد میوزک سوسائٹی کی کرسی پہ دہائیوں بیٹھے اس لیجنڈ انسان و استاد نے سینکڑوں لیجنڈز کی تراش خراش بہت ہنر مندی سے کی۔ وہ اپنا علم اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے، پوری ایمان داری سے سو فی صد اپنے شاگردوں میں بانٹ کر گئے۔ اور شاید ہی کوئی ایسا شاگرد ہو گا جس کا دل آج اداس نہ ہو یا آنکھ نم نہ ہو۔

آج جی سی یو میں گزرے دو برس کا لمحہ لمحہ کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے ہے، یوں لگتا ہے ابھی کلاسز ختم ہوں گی اور ہم نظیر احمد میوزک سوسائٹی کی سیڑھیاں چڑھتے فارانی صاحب کے سامنے بیٹھے ان سے دنیا بھر کے بہترین ادب اور فلموں پر بات کر رہے ہوں گے۔

انہوں نے اس دور میں ہمیں دنیا کی بہترین موویز کے حوالے سے بتایا جو ہم تب تو نہیں دیکھ سکے مگر یونیورسٹی کے دور کے بعد بس یہی کام کیا کہ پڑھا اور موویز دیکھیں۔

کبھی ذرا موسم سرد بھی ہوتا تو وہ کمرے کی ایک کھڑکی کھولے رکھتے تھے۔ وہ چین سموکر تھے۔ کبھی اکیلے بیٹھے سگریٹ پیتے رہتے اور اس کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے۔ آپ اچانک چلیں جائیں، دروازہ کھٹکھٹائیں تو بھی ان کو آپ کی آمد کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ اتنی گہری سوچوں میں گم ہوتے، گویا ان کے تخیل کی پرواز بہت بلند تھی ان کی تخیلاتی دنیا بہت وسیع، گہری اور مضبوط تھی۔ اور جو اس دنیا میں رہنا سیکھ لے پھر اس کے لیے موجود دنیا کے رنگ کے پھیکے پڑ جاتے ہیں۔

زندگی میں جن افراد سے ہم بہت متاثر رہے، ان میں فارانی صاحب کا بھی شمار ہوتا ہے۔

بڑے بڑے لیجنڈز ان کو جھک کر ملتے ہیں۔ ان کی استادی و فنکاری کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر وہ اتنے عاجزی پسند تھے کہ درویشوں کی طرح ان کا در ہر کسی کے لئے کھلا رہتا۔ کوئی تکبر نہ غرور کی بو، نہ میں، نہ تو، مزاج عاشقی اللہ ہو کیونکہ وہ دلوں میں رہنے والی ہستی ہیں جو اللہ کا گھر ہے، بھلے خدا مسلم کا ہو عیسائی کا، ہندو کا یا یہودی کا۔ مقام رہائش دل ہی ہے۔

ہمیشہ خوش لباس، ہشاش بشاش مگر کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں اداسی دکھائی دیتی تھی۔ مگر ہم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کبھی ان سے اس بابت بات کی ہو۔ بس اتنا ہی کافی تھا کہ جب انسان اتنے حصوں میں بٹ جائے اور وہ سب کو جوڑے رکھنے کی تگ و دو میں ہو تو زندگی کی تھکن آنکھوں میں اتر ہی آتی ہے۔

اعلیٰ ظرف، کسی کی برائی نہیں کرتے تھے، ہمیشہ یہی سمجھایا کہ کوئی اپنے ظرف سے بڑھ نہیں سکتا۔ سو معاف نہیں کر سکتے تو آگے بڑھ جاو۔

باوقار، کسی کے سامنے جھکنے والے نہیں تھے۔ سر بلند رکھتے تھے۔ اپنی بات پہ قائم رہنے والے انسان تھے۔ ایسا انسان جھوٹ نہیں بول سکتا۔

اکثر ان کو بانسری بجاتے سنا اور بس یوں تھا سانسیں سروں کے سنگ دل کو چھو کر کہیں زمان و مکاں سے ماورا سی کر دیتیں۔ اور یہ انہی کے وجود کا کرشمہ تھا کہ جہاں آپ گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے تو زمان و مکان سے جدا ہو گئے۔ مگر جونہی آپ نظیر احمد میوزک سوسائٹی کے چھوٹے سے سریلے کمرے میں داخل ہوئے تو اک نئی سحر انگیزی نئے نگر کی سیر کو لے جاتی اور وقت گزرنے کا علم ہی نہیں ہوتا تھا۔ یوں بھی جب جدائی کے لمحے قریب آتے ہیں، وقت بے برکت سا ہو جاتا ہے۔

سید فیضان عباس کی تحریر یہاں بنا اجازت کے شامل کر کے فارانی صاحب کو ان الفاظ سے خراج تحسین پیش کر رہی ہوں جو شاید میرے پاس نہیں ہیں :

”معلوم نہیں کون سی بستی کے مکیں تھے
کچھ لوگ مری سوچ سے بھی بڑھ کے حسیں تھے

طارق سلمان فارانی صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں 1963 ء میں آئے اور آج 2021 ء تک یعنی آخری سانس تک اس سے وابستہ رہے۔ ان کا تعلق نستعلیق اور شستہ لوگوں کی آخری نسل سے تھا جو ایک سایہ دار شجر کی طرح ہر آنے والے کو سایہ و ثمر فراہم کرتے تھے۔ ان سے تھوڑا بہت تعلق عزیزم سعد فاروق ضیائی اور برادرم حسن مقصود کے توسط سے بنا، انہیں نہایت عمیق، مخلص اور عاجز انسان پایا۔

بڑے لوگوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں اور اس پر قانع ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے لوگ عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں اور شاکی، بے قرار و مایوس رہتے ہیں۔ فارانی صاحب نے زندگی کی چار دہائیاں خام مال کو سونا اور سونے کو کندن بنانے میں گزاریں، بڑے بڑے لیجنڈ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر فخر محسوس کرتے مگر ان کے اندر بلا کی عاجزی اور استحکام تھا۔ انہیں دیکھ کر سمجھ آیا کہ کوئی شخص Larger than Life کیونکر ہو سکتا ہے! ”

احمد علیم صاحب نے بتایا کہ ”وہ دہائیوں تک بلا معاوضہ جی سی یونیورسٹی کے ساتھ منسلک رہے۔ وہ ایک خاندانی انسان تھے، ان کے والد گرامی بہاولپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔“

یہ باتیں کم از کم ہمارے علم میں نہیں تھیں مگر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں ہم سب تو چلتے پھرتے، بولتے اور اپنے افعال و کردار میں اپنا پورا خاندانی پن لے کر چل رہے ہوتے ہیں۔ سو ان کا کردار بحیثیت مجموعی ان کے بیک گراؤنڈ کی گواہی دیتا تھا۔

یہ بات مجھے ہمیشہ سے افراد میں متاثر کرتی ہے کہ اس کا کردار اس کے ہونے کی کتنی گواہی دیتا ہے اور میں ان کی فین رہی۔ آرٹ کا کوئی شعبہ نہیں جس پر ان سے آپ بات نہیں کر سکتے۔ اکثر ان کو مطالعہ کرتے دیکھا۔ کتابیں ہمیشہ ان کے سائیڈ ٹیبل پہ ہوا کرتیں۔ اور کبھی تو وہ جو کتاب پڑھ رہے ہوتے، اسی کے حوالے سے بات شروع ہو جاتی وہ کم گو تھے مگر آرٹ کے حوالے سے نہیں۔ بس وہ عمومی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ نہ بلا وجہ اور بہت زیادہ ہنستے تھے۔

حسن اتفاق فیضان ہوں یا احمد علیم سب راوینز اور ان کے خاص شاگرد اور جن شاگردوں کی ان سے ایک قربت رہی، اس لمحے ایک ایسے درد میں ہیں۔ جو ناقابل بیان ہے۔ جب ان جیسا ایک استاد اس دنیا سے جاتا ہے شاید اپنے ساتھ وہ موتی وہ روشنی بھی لے جاتا ہے جو ہم ان کے وجود کے موجود ہونے سے حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

الوداع سر فارانی

ہم آپ کو اسی طرح رخصت کرتے ہیں جس طرح آپ نے ہمیں ہم سے ملایا تھا۔ اللہ آپ کے اس گھر کو سکون کے پھولوں سے سجائے رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •