ایک آدمی کتنا کُو سیانا ہو سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معذرت کہ آج عنوان ہی میں ایک پنجابی روز مرہ کی ضرورت آن پڑی۔ دراصل یہ مرحوم راؤ عبدالرشید کے ہریانوی عطایا میں سے ہے۔ روہتک کے قصبے کلانور سے آنے والے راؤ رشید کی پیشہ ورانہ اہلیت بے مثل تھی۔ افسوس کہ ایسے نابغہ روزگار کی ملازمت کا بیشتر حصہ ہماری تاریخ کے ان تاریک غاروں میں گزر گیا جہاں سرکاری افسر خواہی نخواہی قاعدے ضابطے سے ہٹ کر چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ غیر نمائندہ، غیر جوابدہ اور غیر شفاف حکومت قوم کو جو معاشی اور سیاسی نقصان پہنچاتی ہے، اس سے کہیں زیادہ تمدنی زیاں کا سامان کرتی ہے۔ آمریت ایسی بلائے بے اماں ہے کہ قوم کے ہر فرد کا ضمیر ناگزیر طور پر داغدار ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس خسارے کا تخمینہ آنے ٹکے میں نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کا اندازہ تو سفر کی رائیگانی سے ہوتا ہے۔ ضیا آمریت کی بلائے بے درماں نازل ہوئی تو کوشش کی گئی کہ راؤ عبدالرشید کو وعدہ معاف گواہ بنا لیا جائے۔ راؤ رشید نے مسعود محمود بننا گوارا نہیں کیا۔ خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے اور آمریت کے گیارہ برس کی آزمائش اس دھج سے گزاری کہ ابتدائی ملازمت کے دوران قلات میں دراز دستی، سیاسی کارکنوں کی داروگیر اور بھٹو حکومت کے آخری حصے میں انتخابی دست کاری کے داغ دھو ڈالے۔

ریاست کی طاقت اور تہی دست شہری کی مقاومت میں کوئی توازن نہیں ہوتا۔ مہذب قوموں میں ریاست کی منجنیق اور شہری کے چھپر کے بیچ دستور کی فصیل اٹھائی جاتی ہے۔ آمریت اس فصیل کے انہدام کا افسانہ ہے۔ راؤ رشید آئی جی پنجاب تھے تو چالیس ہزار کی فورس کے دبنگ کمانڈر تھے۔ پیغمبری وقت آیا تو مئی جون کے تپتے مہینوں میں میانوالی جیل میں رکھے گئے۔ ایک روز ساتھیوں کے ہمراہ تاش سے جی بہلا رہے تھے کہ سپرنٹنڈنٹ نے آ کر رہائی کی خبر سنائی۔ سر اٹھائے بغیر کہا کہ رہائی غیر مشروط ہے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ اس وقت بہت اچھے پتے ہاتھ میں ہیں۔

اب مڑ کر دیکھیں تو کیسا اچھا وقت تھا، سیاسی کارکن اور رہنما اپنے ایقان کی پاداش میں قید ہوتے تھے۔ سیاسی عمل مہمیز ہوتا تھا اور منہ زور حکومت کی تھڑی تھڑی ہوتی تھی۔ افسوس کہ فرعون کو نیب جیسے مفید مطلب ادارے کی نہ سوجھی۔ سیاسی قیدی پر بدعنوانی کا الزام دھر دیا جائے تو اس کی ساری ریاضت بھنگ ہو جاتی ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم انگشت نمائی اور سنگ زنی سے شغف ہے۔ بھلے اقتدار کی چوٹیوں پر کرامات کی دھوپ مسلسل چمک رہی ہو اور آوازہ اختلاف کی ترائیوں میں احتسابی ریلے نے قیامت برپا کر رکھی ہو، طفلان گلی کوچہ کو اک تماشے سے غرض ہے۔ بے گناہ قرار پانے والے کے دامن سے بدعنوانی کا داغ مٹانا ہماری روایت نہیں۔ آمریت کے تاریک برسوں میں راؤ رشید کی استقامت سے سیاسی کارکنوں کا حوصلہ بڑھتا تھا۔ راؤ صاحب نے راجشاہی کی ساردا پولیس اکیڈمی میں ابتدائی تربیت پائی تھی۔ ان کی انگریزی اور اردو گفتگو میں روہتک کی بولی اور پنجاب پولیس کے لہجے کی آمیزش عجب لطف دیتی تھی۔ مثلاً کسی نے کہا، راؤ صاحب فلاں صاحب تو محکمے کو لوٹ کر کھا گئے۔ جواب میں راؤ صاحب پوچھتے، کتنا کُو کھا گئے؟ اب اس ’کُو‘ کی بلاغت نہ پوچھیے۔

گزشتہ دنوں برادرم صحافی نے ایک ہی صاحب کے بارے میں تلے اوپر دو کاٹ دار کالم باندھے۔ ایک کالم میں اپنے ممدوح کو ہوشیار اور دوسرے میں کھلاڑی ثابت کیا۔ عزیز مکرم پختہ کار صحافی ہیں۔ دلیل کی بازی ہو تو ایسی چول سے چول بٹھاتے ہیں کہ چارپائی کسے ہوئے طبلے کی طریوں بجنے لگتی ہے۔ دل ملال آشنا مگر حادثات کے تسلسل سے ایسا پژمردہ ہوا ہے کہ فکاہیہ بیان میں بھی المیے کا امکان دیکھتا ہے۔ برادر صحافی کے کالم پڑھ کر خیال آیا کہ اس دھرتی نے کیسے کیسے ہوشیار اور کھلاڑی کردار دیکھے۔ جالب نے تو لکھا تھا، ’کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ‘۔ مگر یہ محض شاعر کی تعلی تھی۔ لوگ قربانیاں دیتے رہے لیکن انہیں فتح کی سرخوشی نصیب نہیں ہوئی۔ آخر کے تئیں ’ہر فرعونے را موسیٰ‘ کا مضمون ہی برہان قاطع ثابت ہوا۔

غلام محمد ہمارا اولین گل چیں تھا۔ فالج زدہ ہاتھوں کے اشارے اور لکنت زدہ زبان کی جنبش سے وزیراعظم اور اسمبلیاں اکھاڑ پھینکتا تھا۔ ایک روز اسکندر مرزا نے میلے کپڑوں کی گٹھڑی کی طرح گاڑی میں لاد کر رخصت کر دیا۔ اسکندر مرزا انگلی کے اشارے سے وزیر اعظم بدلتا تھا۔ اسی جھونک میں دستور توڑ ڈالا مگر رات گئے تین مہمان بن بلائے پہنچے تو مرزا صاحب کی خبر نہیں آئی، ایوب خان دس برس تک اس فیلڈ کے مارشل رہے تاوقتیکہ یحییٰ خان نے اپنا سنکھ نہیں پھونکا اور بابائے قوم کا ملک پھونک ڈالا۔ بھٹو صاحب کے جلوس شاہی کی شان ہی نرالی تھی۔ کسے خبر تھی کہ سرلشکر پنڈی جیل میں تن تنہا سرافراز ہو گا۔ گیارہ برس جنرل ضیا الحق کا خطبہ پڑھا گیا۔ کوئی صورت خلاصی کی نظر نہیں آتی تھی۔ پھر ایک ناگہانی خبر آئی اور اس کے بطن سے غلام اسحاق خان برآمد ہوئے جن کا اعلان تھا کہ کار مغاں ختم نہیں ہوا۔ پھر فلک نے دیکھا کہ برسوں شام کی سیر کو اکیلے ہی نکلتے تھے، کوئی روئیداد سننے والا تھا اور نہ اجلال کا جلوہ جلو میں تھا۔ امکان میں ایک آزمائش البتہ موجود تھی اور 12 اکتوبر 99 ءکی رات دستک دیے بنا چلی آئی۔ ایک عشرے پر محیط نفیری کی سانس اکھڑی تو ان گنت ناقوس غل مچانے نکلے۔ کوئی کیسا ہی ہوشیار مانجھی ہو، سازش کی ناؤ نمک کے پتوار لے کر اترتی ہے اور اس کا انجام منجدھار میں طے پاتا ہے۔ شفاف دریا کی سبک خرام موجوں پر بجرے کی ہموار پیش رفت کا شوق ہو تو دستور کا بادبان باندھیے، قانون کے پتوار پر بھروسا کیجئے اور پھر دیکھیے 23 کروڑ بازوؤں میں کیسا کس بل ہے، آنکھ کن آفاق کی خبر لاتی ہے اور منزلوں کے نشان کیسے روشن ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •