ارنب ، پلواما اور جرمن ڈراما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی وی چینلز کی جعلی ریٹنگز کیس کے سلسلے میں ممبئی پولیس کی جانب سے مودی نواز ریپبلک ٹی وی چینل کے معروف اینکر ارنب گوسوامی اور براڈ کاسٹ آڈئینس ریسرچ کونسل (بارک) کے سربراہ پراتھو گپتا کے مابین وٹس ایپ پیغامات کے دستاویزی ریکارڈ نے دلی سے اسلام آباد تک بھونچال برپا کردیا ہے۔

تین ہزار صفحات سے زائد اس ریکارڈ میں پاکستانیوں کے کام کے ٹویٹس وہ ہیں جن سے انکشاف ہوتا ہے کہ ارنب کو چھبیس فروری دو ہزار کو بھارتی فضائیہ کی جانب سے بالا کوٹ پر حملے کے بارے میں کم ازکم تین روز پہلے تئیس فروری کو ہی معلوم ہو چکا تھا اور اس کا سبب کشمیر میں ہونے والی ’’ایک بڑی چیز’’ (پلوامہ بم دھماکا) بتایا گیا تھا۔

ارنب کے ٹویٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ پلواما حملہ ایک ’’ نعمتِ غیر مترقبہ ’’ تھا جس کے سہارے ایک بڑی جوابی کارروائی (بالاکوٹ حملہ) کر کے مودی حکومت کی لوک سبھا کے انتخابات میں شاندار کامیابی شک و شبہے سے بالا بلکہ دوبالا ہو گئی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پلواما حملہ دراصل بھارت نے خود اسٹیج کیا اور ایکٹ دو میں بالاکوٹ کا واقعہ ہوا۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس مودی حکومت علاقائی اور عالمی امن کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے۔ عالمی طاقتیں اب تک اس سنجیدہ خطرے کو غیر سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ بقول دفترِ خارجہ آر ایس ایس یافتہ مودی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اگر پلواما حملہ ڈرامہ سازی ثابت ہو جاتی ہے تو پھر یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہوگا۔ بیس برس پہلے صدر بل کلنٹن کے بھارت کے دورے کے موقع پر پاکستان کی کشمیر میں جاری ’’دہشت گردی ‘‘کے ایک بین ثبوت کے طور پر بیس مارچ دو ہزار کو ضلع اننت ناگ کے گاؤں چھتی سنگھ پورہ میں پینتیس کشمیری سکھوں کے قتلِ عام کی واردات بھی ہو چکی ہے۔

بھارت نے اس واردات کا ذمے دار لشکرِ طیبہ کو قرار دیا۔مگر آج تک کسی بھی جانب سے اس بہیمانہ واردات کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔خود کشمیری سکھ قیادت کو روزِ اول سے یقین ہے کہ یہ کام بھارتی انٹیلی جینس ایجنٹوں نے کیا کیونکہ پاکستان نواز مسلح تنظیموں کو کشمیری سکھوں کے خلاف دہشت گردی سے کوئی سیاسی یا اسٹرٹیجک فائدہ نہیں تھا۔

مقامی سکھوں کے اس یقین پر اس لیے بھی یقین کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ کلنٹن انتظامیہ کی وزیرِ خارجہ میڈلین البرائٹ نے اپنی یاداشتوں پر مبنی دو ہزار چھ میں شایع ہونے والی کتاب ’’ دی مائٹی اینڈ دی آلمائٹی، ریفلیکشن آن امریکا ، گاڈ اینڈ ورلڈ افئیرز‘‘ میں ہندو انتہا پسندوں کو کشمیری سکھوں کے قتلِ عام کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

(بعد ازاں بے پناہ دباؤ پڑنے کے بعد کتاب کے ناشر ہارپر کولنز نے وضاحت کی کہ مسودے میں غلطیو ں کی ناقص چھان بین سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ البتہ میڈلین آلبرائٹ نے کبھی اعتراف نہیں کیا کہ ان سے سکھ قتلِ عام کے بیان میں کوئی غلطی ہوئی ہے)۔

چونکہ ان دنوں بھارت میں انتہاپسندی کی سرخیل آر ایس ایس اور اس کا تفریقی قوم پرستانہ نظریہ غالب ہے اور سب جانتے ہیں کہ اس نظریے کے ڈانڈے آر ایس ایس کے بانی رہنماؤں نے فاشسٹ مسولینی اور نازی نسل پرستانہ نظریے سے مستعار لیے۔مگر ارنب کی ٹویٹس سے لگتا ہے کہ آر ایس ایس نے صرف نظریہ نازیوں سے مستعار نہیں لیا بلکہ نازیوں کے توسیع پسندانہ ہتھکنڈوں کی بھی نقالی ہو رہی ہے۔ذرا پلواما کی واردات اور بالاکوٹ پر حملہ ذہن میں رکھئے اور اکیاسی برس پہلے کی ایک حقیقی کہانی سنئے۔

دوسری عالمی جنگ سے ذرا پہلے نازی جرمنی میں ہٹلر کے دست راست اور گسٹاپو کے سربراہ ہیملر نے چیکوسلواکیہ کے جرمن اکثریتی علاقے سوڈیٹنز لینڈ کو ہڑپ کرنے کے لیے وہاں کے کچھ جرمن نژاد باشندوں کو سادہ کپڑوں میں ملبوس گسٹاپو ایجنٹوں سے قتل کرایا۔املاک کو آگ لگوائی اور پھر ہٹلر نے یہ کہہ کر کہ چیکو سلواکیہ کی سرکار اپنے جرمن نژاد شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے، نازی فوجیں سوڈیٹنز لینڈ میں اتار کر اس علاقے کو ہڑپ کر لیا۔

اس کے بعد جرمنی نے اپنے دوسرے ہمسائے پولینڈ سے جرمن شہر ڈانزگ تک رسائی کے لیے زمینی کاریڈور کا مطالبہ کیا۔پولینڈ نے چیکوسلواکیہ کا حشر دیکھتے ہوئے برطانیہ اور فرانس سے اسٹرٹیجک تعاون کا معاہدہ کر لیا۔اس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

ہٹلر کو اب پولینڈ ہڑپ کرنے کے لیے ایک ٹھوس جواز کی ضرورت تھی اور یہ جواز ایسے تخلیق کیا گیا کہ پولش سرحد سے متصل جرمن قصبے گلیوٹز کے ریڈیو اسٹیشن پر گٹساپو کے پولش بولنے والے ایجنٹوں کا قبضہ کروا کے نازی مخالف پروپیگنڈہ شروع کروایا گیا۔

اس کے بعد داچاؤ کے کنسنٹریشن کیمپ سے درجن بھر ہٹلر مخالف قیدیوں کو گلیوٹز لایا گیا۔ انھیں پولش فوج کی وردیاں پہنائی گئیں اور پھر انھیں گولی مار کر ان کی لاشیں قصبے کے قریب ڈال دی گئیں۔ ان کی جیبوں میں جعلی پولش فوجی شناختی کارڈ بھی رکھے گئے اور وہ بندوقیں بھی رکھ دی گئیں جو پولش فوج استعمال کرتی تھی۔

یہ واقعہ تیس اگست انیس سو انتالیس کو ہوا۔ گزشتہ روز ہٹلر نے رائشتاغ (جرمن پارلیمنٹ) میں جرمن سرزمین کے خلاف ’’ننگی پولش جارحیت‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے جرمن فادر لینڈ کے چپے چپے کی خون کے آخری قطرے تک حفاظت کا عہد کیا اور اگلے چوبیس گھنٹے میں کئی ڈویژن جرمن فوج نے پولینڈ کی سرحد عبور کر لی۔

اس حملے کے دو دن بعد تین ستمبر کو برطانیہ اور فرانس نے پولینڈ کے ساتھ کیے گئے اسٹرٹیجک معاہدے کی پاسداری میں نازی جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ یوں دوسری عالمی جنگ باقاعدہ چھڑ گئی۔

اہم بات یہ ہے کہ گلیوٹز میں پولش فوجی حملے کے گسٹاپو کے ترتیب کردہ ڈرامے سے آٹھ روز پہلے ہٹلر نے جرمن فوجی ہائی کمان کے بند کمرے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آنے والے وقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’میں آپ کو ایک ٹھوس جواز فراہم کروں گا۔آپ کا کام صرف عظیم جرمن قوم کی فتح کو یقینی بنانا ہے۔ فاتح سے کوئی مورخ نہیں پوچھتا کہ اس نے کیا جھوٹ بولا تھا اور کتنا سچ بولا ‘‘۔

اب آپ اس کہانی کی روشنی میں ایک بار پھر پلواما کے دھماکے میں اکتالیس بھارتی نیم فوجی جوانوں کی ہلاکت، اس کے ردِعمل میں بالاکوٹ پر کارروائی، اس کارروائی سے تین دن پہلے کیے جانے والے ارنب گوسوامی کے ٹویٹس اور لوک سبھا کے عام انتخابات کی بی جے پی حکمتِ عملی کو جوڑ کے تصویر بنانے کی کوشش کیجیے۔

آپ کو اس تصویر میں اکاسی برس پہلے کے اصلی جرمن ڈرامے کا چربہ پن شاید نظر آ جائے۔اور پھر سوچئے گا کہ آر ایس ایس اور کیا کیا نہیں کر سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •