نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک (افسانہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میرے شہنشاہ! میں نے کہا تھا، جب تک یہ کنیز آپ کے چرنوں میں رہے گی آپ کے سرِ پُرغرور پر سایہ بال ہما موجود رہے گا۔“

”ہاں! سچ کہا تھا، آپ نے۔“

”یہ خاتم سلیمانی جو نسل در نسل چلتی ہوئی مجھ فقیر تک پہنچی ہے، یہ اسی کی برکت ہے۔ اسی کے صدقے میں نے آپ کو تخت کی بشارت دی تھی۔

”ہاں! یہ سب کچھ ہوا۔ یہ اس پر نقش اسم اعظم کی برکت کے ساتھ ساتھ،
(کچھ دیر توقف کے بعد ) بیگم! آپ کے وظائف کا اثر ہے کہ دشمنوں کے عزائم خاک میں مل گئے۔ ”

”سبحان اللہ! یہ ذرہ نوازی ہے۔ جب سورج شاہ برج سے رخصت ہو جاتا ہے تو یہ میرے دائیں ہاتھ میں شہادت کی انگلی کو زینت بخشتی ہے، میں ساری ساری رات وظائف پڑھ کر اس پر پھونکتی ہوں۔“

”لیکن! بیگم۔“ شہنشاہ رنجور آواز میں کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ ملکہ بن سنے بولتی جا رہی تھی۔

”طاؤس فلک کی رونمائی کے ساتھ یہ آپ کی انگشت مبارک میں رونق افروز ہوتی ہے تو اس مہر سلیماں سے جاری ہونے والے فرمان آپ کی مملکت اور رعایا کے لئے باعث رحمت ہوتے ہیں۔“

”دن میں سب ٹھیک ہوتا ہے لیکن راتیں۔“
”آج مزاج عالی مکدر کیوں ہے؟ آپ بات کہتے کہتے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس کنیز کو بھی محرم راز کیجیے۔“

رباب سکندری کی دھن مدھم پڑنا شروع ہو گئی تھی۔ چنوری جھلنے والی خواصیں تھک کر چور ہو چکی تھیں۔ شہنشاہ نے پیالہ بلور کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

”جہاں پناہ! آج آپ مقرر مقدار سے زیادہ لے چکے، سپیدہ سحر طلوع ہونے والا ہے۔ اب یہ گزک لیجیے۔“

”بیگم آپ کے موکل خبر لاتے ہوں گے ۔ مملکت میں تہلکہ پڑ گیا ہے۔ کیا یہ ہمارے دشمن ہیں جو رعایا کو ہمارے خلاف بھڑکا رہے ہیں؟“

”اغلب ہے کہ یہ دیو ہیں یا غول بیابانی جو آدمیوں کی صورت بن فتور مچا رہے ہیں؟“
”پھر تو آپ ہی کچھ کر سکتی ہیں۔“

”جہاں پناہ! کنیز آج چلہ کش ہو گی، ہفت اقلیم کے نگران چہل ابدال کے سامنے حاضری دوں گی۔ وہ سب جانتے ہیں۔ آپ کی سفارش تا بہ مقدور کروں گی۔ جلد ہی اچھی خبریں ملیں گئیں۔“

”یہ ہماری نپٹ چاہت ہے جو مابدولت آپ پر سپہ سالار سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔“

”اب میرے خانہ زاد، میرے موکل قلعہ کی نگہبانی کے لئے چھت پر بسیرا کریں گے۔ لیکن یہ بات کسو پر نہ کھلے۔ آپ حکم صادر فرمائیں کہ کوئی محلی چھت پر نہ جاوے۔“

(کچھ دن بعد )

بادشاہ سلامت دیوان عام کیے بیٹھے تھے۔ معمول کی بھیڑ بھاڑ کم ہو چکی تھی۔ دربار شاہی میں رونق ماند پڑ چکی تھی۔ امرا اور ارکان دولت متفکر اپنے اپنے پائے پر کھڑے تھے۔ سبھوں کے لبوں پر سکوت کی مہر لگی ہوئی تھی۔ بادشاہ سلامت زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اپنی انگشتری کو دیکھ رہے تھے۔ دربار برخواست ہوا تو بادشاہ نے حرم سرا کا رخ کیا۔ سورج دھرتی کی اوٹ میں کھو گیا تھا۔ غلام گردشیں تیرہ و تار ہو گی تھیں۔

”آج ارک معلیٰ میں چراغاں نہیں ہوا۔ کیا بات ہے؟“ ملکہ معظمہ شور مچاتی کنیزوں کو پکارتی ہے۔ محو گریہ کنیزیں سر جھکائے کچھ نہیں بولتیں۔

بادشاہ سلامت کوسامنے پا کر ملکہ بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
خواجہ سرا کورنش بجا لاتا ہے۔ ”جان کی امان پاؤں تو عرض کروں؟“

بادشاہ ہاتھ سے اشارہ کرتا ہے۔ تو وہ پاؤں میں گر پڑتا ہے۔ ”عالی جاہ! ملک میں بغاوت ہو چکی ہے۔ راجدھانی میں خنجر زنی اور ترشول بازی کا راج ہے، لوٹ مار کا چلن ہے۔ ہمیں محل چھوڑنا پڑے گا۔“

”گھوڑے تیار کرو۔“
ملکہ آگے بڑھ کر بادشاہ کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔
”میرے آقا! سورج ڈھل چکا ہے، اب خاتم سلیمان مجھے دے دیجیے۔“

”نہیں، یہ میرے پاس ہی رہے گی۔ رات کو یہ میرے پاس نہیں ہوتی اور اسی اندھیرے میں میری مملکت پر عذاب ٹوٹتے ہیں۔“

کچھ دیر بعد ملکہ اور بادشاہ اپنے خاص محافظوں کے ساتھ حرم سرا سے باہر آ کر بیرونی راستے کی طرف چل پڑتے ہیں۔ آج ملکہ سفید ریشمی پہناوے کی بجائے بھگوا چنری اوڑھے ہوئے تھی۔ خادم خاص بھاگ کر سامنے آ جاتا ہے۔

”بادشاہ سلامت، قلعہ کے باہر رعایا کا جم غفیر موجود ہے۔ ترپولیا نہیں، ہمیں زیر زمین گزر گاہ سے جانا پڑے گا۔“

باہر آئے تو کچھ کوتل گھوڑے کسے کسائے کھڑے تھے۔ جو سواروں کو لے کر شب کی بیکراں کی سیاہی کا سینہ چیر کر جنگل کی طرف ہوا ہو گئے۔ ملکہ کہنے لگی ”ہم فرودگاہ شاہی کی طرف نہیں جائیں گے۔ دریا کے اس پار ہماری جاگیر میں منصب دار انند ہمارا خاص آدمی اور آپ کا تابعدار ہے۔“

اندھیری رات، ہو کا عالم، خوفناک جنگل، گھوڑوں کی ٹاپوں سے خوفزدہ ہو کر جنگلی درندے اپنی کچھاروں کو چھوڑ کر بھاگ اٹھے۔

دریا کے کنارے پہنچ کر ملکہ نے گھوڑوں کی باگیں ڈال دیں۔ ”ہم یہیں استراحت فرمائیں گے۔ جب پہاڑوں کو اوٹ سے سوریا اپنے سات گھوڑوں کے رتھ پر سوار ہو کر درشن دے گا تو ہم پار اتریں گے۔“

بادشاہ سلامت نے ملکہ کی طرف حیرانی سے دیکھا اور گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔

ابھی آنکھ ہی لگی تھی تو گیروے رنگوں میں ملبوس فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔ بادشاہ کے تمام ساتھیوں کو تہ تیغ کر دیا گیا۔ ملکہ نے بادشاہ کو کہا۔ ”یہ میری انگوٹھی میرے حوالے کر دیں۔“

”یہ خاتم سلیمان اب میرے پاس ہی رہے گی۔“
”خاتم سلیمان؟

یہ میرے گرو کی نشانی ہے، خاتم سلیمان نہیں۔ ”ملکہ کا محافظ خواجہ سرا آگے بڑھا اور بولا“ جاہل بادشاہ! نظام مملکت جھاڑ پھونک، جادو ٹونے اور موکلین کی مدد سے نہیں چلتا۔ ”ساتھ ہی اس نے بادشاہ کے بازو پر تیغ کا ایسا وار کیا کہ اس کا وہ ہاتھ قطع ہو گیا جس میں انگشتری تھی۔ حملہ آور فوج خیمہ میں داخل ہو چکی تھی۔ ایک سپاہی نے ترشول بادشاہ کے سینے میں گھونپ دی۔

بادشاہ کی مند ہوتی آنکھوں کے سامنے پڑی محافظوں کی لاشیں اور ٹوٹے پھوٹے اسلحہ جات کا ڈھیر جھوٹی ملکہ اور اس کے ساتھیوں کی باتوں کو سچ ثابت کر رہا تھا۔

ملکہ نے ہاتھ پکڑا اور سپاہیوں کے ساتھ دریا پار کر گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •