الیکشن کمیشن کا اعلامیہ اور چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چلیے زیادہ دور نہیں جاتے ابھی گلگت بلتستان کے الیکشن میں کیا ہوا تھا؟ علی امین گنڈا پور وفاقی وزیر ہونے کے باوجود وہاں نہ صرف عوام سے حکومت کی جانب سے ترقیاتی اسکیموں کے وعدے کرتے دیکھے گئے بلکہ مریم نواز شریف کے بارے ان کی نامناسب گفتگو کو خواتین، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں ناپسند کیا گیا اور اس سب کے باوجود پارٹی سربراہ جو کہ ملک کو ریاست مدینہ سے تشبیہ دیتے نہیں تھکتے ہیں، کی طرف سے اسے ناپسندیدہ فعل نہ گردانا گیا۔

الیکشن کمیشن کے واضح قوانین کی کھلے عام دھجیاں اڑتی دیکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن لمبی تان کے سویا رہا اور دوسرے وفاقی وزیر مراد سعید وغیرہ بھی علی امین گنڈہ پور کے ہمراہ رہے اور آج تک اس قانون شکنی پر کچھ نہ ہوا ، جس سے پتا چلتا ہے کہ الیکشن کمیشن کس قدر بے بس یا بے کار ہو چکا ہے کہ خود اپنے بنائے قوانین کی پامالی پر کچھ بھی کرسکتا، ہاں وقتاً فوقتاً ایسے ویسے اعلامیے جاری کر کے اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتا رہتا ہے اور دنیا کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکتا پایا جاتا ہے۔

پھر کیا کسی کو یاد نہیں ہے کہ جناب عمران خان نے کیمروں کے سامنے سکریسی آف بیلٹ پیپرز کی کھلے عام خلاف ورزی کی تھی اور اس پر بڑا ہنگامہ بھی ہوا کہ الیکشن کمیشن اس پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لے رہا؟ مگر ہوا کیا؟ حسب سابق بات گھما پھرا کر بالکل ہی بھلا دی گئی، کبھی اسے پریزائڈنگ افسر اور پولنگ اسٹاف کی نا اہلی کہا گیا اور کبھی وزیراعظم کی لاعلمی۔ لیکن اصل بات یہ کہ اس خلاف ورزی کی جو الیکشن کمیشن نے اپنے ہی قانون میں سزا مقرر کر رکھی ہے ، اس پر عمل نہ ہوا اور ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ الیکشن کمیشن طاقتور مخلوق کے آگے بھیگی بلی بن جاتا ہے اور اس کی میاؤں میاؤں بس عوام کا دل لبھانے کا قصہ کہانی ہی ہے۔

اب جو عرصہ 7 سال سے پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس خود اسی جماعت کا ایک بانی کارکن اکبر ایس بابر لے کر گیا ہوا ہے اور اس کے معاملے میں کبھی فارن فنڈنگ کا اعتراف تک نہ کیا گیا اور اب جو بے تحاشا تنقید ہوئی اور التوائی پالیسی پر سخت ناراضی کے کارن معاملہ بگڑتا دکھا تو مان لیا گیا کہ ”پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ تو ہوئی ہے لیکن یہ ہمارے ایجنٹ نے کی تھی اور اس کا ہم سے کیا تعلق؟‘‘

یعنی ایجنٹ رکھیں آپ خود، فنڈنگ ہو آپ کی اپنی پارٹی کو، فائدہ آپ اٹھائیں اور تعلق کسی اور کا کہہ کر پتلی گلی پکڑ لیں پھر؟ آپ جنگ گروپ کے مالک میر شکیل پر ایسے ہی فارن فنڈنگ کے الزامات لگاتے رہے اور ان کے عدالت میں جانے کے بعد آپ وہاں کسی قسم کا ثبوت تک نہ دے سکے تھے، شریف فیملی کی شوگر ملز سے بھارتیوں کے پکڑے جانے کے الزامات بھی آپ ہی لگاتے دیکھے گئے اور آج تک کسی بھی فورم پر ان پکڑے جانے والے بھارتیوں کی شکلیں اور تفصیلات نہ شیئر کرسکے۔

اپوزیشن لیڈر مریم نواز شریف نے آپ کو فنڈنگ کرنے والے اسرائیلی شہری اور بھارت کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے کارکن کے اسمائے گرامی تک الیکشن کمیشن کے باہر تقریر کرتے ہوئے عوام، میڈیا اور دنیا کو بتا دیے ہیں، اب آپ ہزار کہیں کہ یہ تو ہمارے ایجنٹ کے کرتوت ہیں لیکن کیا کوئی آپ کی اس ”لاعلمی“ کو تسلیم کرے گا؟ کیا یہ بات اتنی ہی سادہ سمجھ کر بھلا دینی چاہیے؟ مریم نواز شریف کا یہ الزام بھی کیا اب سنجیدہ ترین حیثیت اختیار نہیں کرچکا کہ ”اب سمجھ میں آیا کہ آپ مودی کے الیکشن میں جیت کی خواہش کے ٹویٹس کیوں کیا کرتے تھے؟ بھئی جب مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن آپ کو فنڈنگ کرے گا تو آپ مودی کی جیت کی خواہش کیوں نہیں کریں گے؟‘‘

مریم نواز شریف کے اسرائیل اور بھارت سے پی ٹی آئی کو فنڈنگ کے الزامات کے بعد تین وفاقی وزرا شبلی فراز، شیریں مزاری اور فواد چودھری نے فوراً ایک جوابی پریس کانفرنس کی اور اس میں شیریں مزاری نے خاصا ”مزاحیہ اور بچگانہ“ سا جواب کچھ یوں دیا کہ ”مریم بی بی! آپ اپنے والد سے بھی پوچھیں کہ وہ اپنے بیٹوں کو بزنس کے لیے بھارت کیوں لے کر گئے تھے؟‘‘

اب آپ خود سوچ لیں کہ حکومت میں کس ذہنی سطح کے لوگ بیٹھے ہیں اور ایک ملکی پارٹی کے مالی معاملات کا کسی کے ذاتی بزنس (جس کا آج تک کوئی ثبوت تک نہ دیا گیا۔ سوائے الزامات کے) سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ عجیب بات ہے کہ اکبر ایس بابر برسوں سے اس کیس میں رل رہا ہے اور اس کو چکروں پر چکر لگوائے جا رہے ہیں، حکومتی پارٹی کئی وکیل بدل چکی اور اس کی کئی درخواستیں ریکارڈ پر ہیں کہ ”فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات عوام سے مخفی رکھی جائیں“

اس درخواست کا کیا مطلب ہے؟ جو شخص حضرت عمرؓ کی مثالیں دیا کرتا تھا، وہ اپنی باری احتساب کے سر عام ہونے سے کیوں انکاری ہو گیا ہے؟ اسے تو خود سب کچھ پبلک کرنے کی درخواست دینی چاہیے تھی۔ آدمی صاف شفاف چلا ہو تو ڈر کاہے کا؟ ایک بابو پاک دامن جھوٹے الزامات سے کیونکر ڈرے گا؟ پھر آپ نے تو 22 سال اور 126 روز الگ سے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ”میں کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا“

آپ یوٹرن لے کر اپنے تئیں عظمت یقیناً پا لیتے ہوں گے لیکن عوام سے کیے وعدے کچھ لوگ یاد بھی رکھتے ہیں اور ان کی اخلاقی اہمیت بھی کچھ اہمیت و معانی رکھتی ہے۔ کچھ سر پھرے ان کیے گئے وعدوں کو یاد دلانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں اور آپ کو ایسے ہی لوگ اب برے لگتے ہیں، آپ انہیں ٹویٹر وغیرہ پر ”ان فالو“ کرنے کی پالیسی اختیار کر کے سمجھتے ہیں کہ سچ بولنے والے وہی ہیں جو آپ کو دن رات ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹس دیتے ہیں۔

خیر، آخر میں یہی کہنا ہے کہ درج بالا حقائق کی روشنی میں الیکشن کمیشن سے کسی اہم بڑے، چونکا دینے والے اور فیصلہ کن اقدام کی توقع نہ رکھیں۔ ادارے آزاد ہوں تو خود ہی فیصلے کر لیا کرتے ہیں ، انہیں فیصلے سنانے پر مجبور کرنے کے لیے عوام کو گھروں سے باہر آنا پڑتا ہے نہ سڑکوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔

عوام یاد رکھیں کہ ان کے لیے بس ایسے ہی اعلامیے ہمیشہ سے تیار پڑے رہیں گے کہ ”ہم ایک مکمل طور پر آزاد ادارہ ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور ہم اپنے فرائض بلا خوف و خطر ادا کرتے رہیں گے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •