کالے جادو کا اثر یا نفسیاتی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے جیسے عام مڈل کلاس گھروں میں جہاں عبادات کے ساتھ ساتھ روحانی عمل پہ بھی یقین رکھا جاتا ہو۔ ایسے گھروں میں بسنے والے مکینوں کے عقیدے اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ ہوا سے کھڑکنے والے کھڑکی کے پٹ کو بھی جنات کی شرارت سمجھ لیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ توہم پرست فیملی کا حصہ ہونے کے دو اثرات ہو سکتے ہیں۔ یا تو آپ بھی مکمل طور پہ توہم پرست ہو جائیں گے یا پھر بالکل اس کے الٹ ہو جائیں گے۔

میرے ساتھ بچپن سے یہ معاملہ رہا کہ میں نے ہر چیز یا واقعے پر یا تو غور بہت کیا یا اس پر سوال بہت کیے۔ گھر سے پڑنے والی ڈانٹ میں زیادہ ڈانٹ مجھے میرے الٹے پلٹے سوالوں سے پڑی۔ صبح منہ تڑکے نماز کے لیے اٹھانا، اس کے بعد قرآن کی دہرائی اور پھر سکول کی تیاری۔ مجھے یاد ہے منہ تڑکے اس مشقت سے بچنے کے لیے میں نے وظیفوں کی کتاب پڑھنا شروع کی تھی جس میں ہر طرح کی مشکل سے بچنے کے لیے وظائف درج ہوتے تھے۔ مگر کچھ نہ دوا نے کام کیا۔

میں نے تو ایک بار جن پری قابو کرنے کے لیے بھی بڑی محنت کی مگر اس میں مشکل یہ پڑی کہ ایک تو اتنا وقت نہیں تھا کہ ایک ہی جگہ بیٹھ کے وظیفہ مکمل کر پاتی۔ دوسری بات یہ تھی کہ اگر پری کی جگہ جن آ جاتا تو پھر اسے دیکھ کے جو میرے اندر خوف کے بھوت ناچتے، وہ کیسے نکلتے۔

ہمارے گھر میں جو سب سے مزے کی چیز ہوتی تھی، وہ یہ ہوتی تھی کہ نانی اماں سمیت ساری فیملی سفلی و نوری علم پہ ایمان رکھتی تھیں اور دوسری جانب میرے نانا اکیلے ان سب کے خلاف کھڑے ہوتے اور ہر طرح کے عامل بابے کو بنا کسی فرق کے کہ وہ بنگالی بابا ہے یا مولوی شبیر ، ایک ہی رو میں گالیوں سے نوازتے رہتے۔ ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتاکہ ان سب بابوں سے کہو کشمیر کو آزاد کرائیں۔ کشمیر تو خیر کیا آزاد ہوتا، بیٹیوں اور باپ کی ناراضگی کئی دنوں پہ محیط ہو جاتی۔

میری ایک رشتے دار جو دنیا کا ہر کام بس جادو سے ہی کرانا چاہتی تھیں۔ ان سے میں بہت تنگ تھی کیونکہ ان کا ہر عمل مکمل کرنے کی ذمہ داری مجھ معصوم کے کندھوں پہ آتی تھی۔ مجھے ان کی مار سے بچنے کے لیے ان کی ہر بات ماننی پڑتی تھی۔

درختوں پہ تعویز باندھنے ہوتے یا قبرستان میں جا کے کبھی بکرے کا دل، کبھی سوئیاں لگی گڈے گڈیاں دفن کرنی ہوتیں۔ میں ہی یہ کام سر انجام دیتی۔ میں آج سوچتی ہوں کہ میں اس وقت بھی کس قدر نڈر تھی کہ جب میرے ساتھ میری دوست ساتھ دینے کے لیے جاتی تھی تو وہ قبرستان کے دروازے پہ کھڑی ہو کے سورتیں پڑھ پڑھ کے خود پہ پھونکتی رہتی اور میں جو چھری سے تازہ قبر کے دل والے مقام کو کھود کے اس میں دی گئی چیز دفن کرتی تو مجھے ذرا بھی ڈر نہ لگتا۔

جبکہ ہارر فلم دیکھ کے میری سٹی گم جایا کرتی تھی۔ میں نے جتنے ان خاتون کے ایسے کام کیے ہیں، اب سوچ کے وحشت ہوتی ہے۔ شاید یہ میرے لیے اس لحاظ سے سود مند بھی رہے کہ میرا ہر طرح کے ایسے جناتی و جادوئی معاملات سے یقین اٹھ گیا۔ میں نے انسانی نفسیات کو سمجھنا شروع کیا، تو اس میں ان تمام چیزوں کی حقیقت صفر نکلی۔

میں کچھ دن پہلے سپلٹ مووی دیکھتے ہوئے اپنی امی سے کہہ رہی تھی کہ جس وقت آپ کی بہن پہ جن آتا تھا۔ اس وقت میں اتنی بڑی ہوتی تو کم سے کم اس کا علاج ضرور کرواتی اور اس اذیت سے انہیں اور آپ سب کو بھی نکالتی۔ خالہ سپلٹ پرسنالٹی کا شکار تھیں۔ پہلے پہل تو ان کو کبھی کبھار دورہ پڑتا تھا۔ جس کا سبب یہ پتہ چلا کہ خوشبو لگا کے درخت کے نیچے سے گزری ہیں، لہٰذا جن نے ان پہ قبضہ کر لیا ہے۔ کبھی ان پہ ایک دوسرا جن آ جاتا جس کا نام کسی عامل بابے نے جعفری جن بتایا۔ اس کا پورا خاندان خالہ کو پریشان کرتا تھا کیونکہ ان کے کسی بچے کو کھیلتے ہوئے خالہ نے تنگ کیا تھا تو وہ سزا کے طور پہ ان میں بس گئے۔ (ایسا اس عامل نے بتایا)۔

تیسری چیز ان پر کچھ عرصے بعد آئی جس میں وہ کالی ماتا کے روپ میں آ جاتیں اور ان کی یہ پرسنیلٹی ہمیشہ میری امی کے پاکستان آنے پہ ہی ٹریگر ہوتی۔ وہ امی کے پیچھے کبھی چھری کبھی اینٹ پکڑ کے مارنے بھاگتیں۔ اس کے پیچھے ان کی نفسیاتی گرہ یہ کھلی کہ معاشی اور سماجی مرتبے اعتبار سے امی ان سے بہتر تھیں۔ امی کم عمر اور ان سے زیادہ خوبصورت تھیں اور ان کی دوسری شادی دبئی ہو گئی جس کی وجہ سے خالہ ان سے حسد کرتی تھیں۔

میں یہ سب چیزیں بہت چھوٹی عمر سے دیکھتی آ رہی ہوں۔ اس لیے بعض ایسے نفسیاتی مسائل بھی جلدی سمجھ لیتی ہوں جو عام طور پہ لوگ نہیں سمجھتے۔ ان کا نفسیاتی علاج ہو جاتا تو یہ مسائل ختم ہو جاتے۔ مگر اگر ایسا ہوتا تو ہمارے گھر سے جن بابوں کا روزگار لگا تھا وہ بند ہو جاتا۔

ان سب واقعات کی تصویر اس لیے دکھائی کہ میری والدہ بھی ایسے ہی ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ تعلیم کی کمی، شعور کی کمی، فرضی و نفلی عبادات پہ توجہ کے ساتھ ساتھ ان کو جنوں بھوتوں اور کالے علم کی طاقت پہ بھی پورا یقین ہے۔ یہ یقین ہی ہے جو انسان کو رسی کو سانپ سمجھنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ اور یقین ہی ہے جس نے انسان کو دوسرے سیاروں تک پہنچنے کی بھی عقل و ہمت دی ہے۔ امی ہائپر ٹینشن و پری ڈائبیٹک کو بیماری نہیں بلکہ جادو کے زور سے ان کو بیمار کرنے والا عمل سمجھتی ہیں۔

ان کے بقول کچھ ایسا ہے جو ان کے جسم میں داخل ہو گیا ہے اور اب انہیں نقصان پہنچا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ ان کے بی پی شوٹ کر جانے کی شکل میں کل رات میں نے بھگتا ہے۔ میں تو کسی نہ کسی طور انہیں اس وہم سے نکالنے میں کامیاب ہو جاؤں گی کیونکہ ان چیزوں کی حقیقت میں اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ مگر میرا سوال معاشرے سے یہ ہے کہ توہم پرستی کے متعلق جو کہانیاں معاشرے میں راسخ ہو چکی ہیں۔ ان کو ختم کرنے کے لیے ہمارا نصاب تعلیم، ہمارے اساتذہ ، منبر پہ بیٹھے علما اور باشعور لوگ اپنا حصہ کیوں نہیں ڈالتے۔

کیوں شہر کی دیواریں بنگالی بابوں کے ناموں و فون نمبرز سے بھری ہیں۔ کیا ریاست کا یہ کام نہیں کہ ایسے افراد کی سرکوبی کرے۔ ہم لوگ کیوں نفسیاتی بیماریوں کا علاج کروانے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ سائیکائٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ کے پاس جانے کا صرف ایک مطلب کیوں لیا جاتا ہے کہ کیا ہم پاگل ہیں جو نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ جب آپ اپنے نفسیاتی مسائل کو حل نہیں کریں گے تو وہی چیزیں بڑھ کر پھر پاگل پن، ہسٹریا اور شیزوفرینیا میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو مریض کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کے لیے بھی باعث تکلیف ہوتا ہے۔

انسانی دماغ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے نفسیات اور سائنس کے علوم کام آتے ہیں نہ کہ کالے اور نورانی علوم و جنات کی حاضری اور مؤکلوں کی رپورٹ کہ فلاں بنت فلاں یا فلاں ابن فلاں نے تم پہ ہانڈی چلوائی ہے۔ اب تو تم مر کے ہی رہو گے/گی۔ ویسے جن کے ایمان یہ ہوں کہ اللہ کی مرضی کے بنا پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ وہ جادو ٹونے پہ یقین رکھ کر لوگوں کی زندگی موت کے فیصلے کرواتے ہوں۔ان کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

آخری بات جس پہ مجھے ڈانٹ کے ساتھ ساتھ توبہ کرنے کو بھی کہا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر جن اتنے ہی فارغ پھرتے ہیں تو ایک آدھ جن مجھ پہ بھی عاشق ہو جاتا۔ چلو اسی بہانے مجھے بھی یقین ہو جاتا مگر مجھے لگتا ہے کہ جن اندھے ہوتے ہیں۔ اس لیے اندھی محبت پہ یقین نہیں رکھتے۔

خیر، اپنے اردگرد کے لوگوں میں جب ایسی نفسیاتی الجھنیں دیکھیں، جو عام نہ ہوں تو ان کی مدد کریں۔ سائیکائٹرسٹ آپ کو پاگل نہیں کرتے بلکہ آپ کے پاگل پن کی طرف جانے کے راستے مسدود کرتے ہیں۔ اپنے پیاروں کی زندگی کی قدر کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •