ہمارے عمرو عیار اور ان کی زنبیلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں عمرو عیار کی کہانیاں پڑھتے تھے جن میں داستان ہوشربا کا ایک کردار عمرو عیار ایک زنبیل اٹھائے پھرتا تھا۔ جہاں بھی جب بھی اس کو ضرورت ہوتی ہے وہ زنبیل میں ہاتھ مارتا اور مطلوبہ شے نکال لیتا تھا۔ کم عمری میں بندہ نا سمجھ ہوتا ہے، چیزوں کی حقیقت سے نا آشنا ہونے کے سبب جلد ہی ان سے متاثر ہونا شروع کر دیتا ہے، اسی سبب عمرو عیار کی زنبیل بھی ان چیزوں میں شامل ہے جس سے میں اور اس کو پڑھنے والا کم و بیش ہر بچہ ہی متاثر ہوا۔

عمر تھوڑی سی زیادہ ہوئی تو ایک جاسوسی ناول عمران سیریز نے گویا جکڑ لیا۔ ان دنوں یہ ناول کرائے پر بھی ملتا تھا، اس ناول نے ایک نشے کا کام کیا۔ نئے ناول کا انتظار اس قدر شدت سے ہوتا تھا کہ الامان و الحفیظ۔ کرائے پر بھی نیا ناول نایاب ہوتا تو یار دوستوں نے حل یہ نکالا کہ چندہ کر کے نیا ناول ہی خرید لیتے اور پھر باری باری سب پڑھتے اور سب سے زیادہ فائدے میں وہ رہتا جس کی پڑھنے کی باری آخر میں آتی اس طرح وہ ناول اس کے پاس ہی رہ جاتا۔

سکول کے بعد کالج میں پہنچے تو راجہ انور کے محبت بھرے خطوط پر مبنی کتاب ‘جھوٹے روپ کے درشن’ نے اپنے سحر میں لے لیا۔ اتنا پڑھا کہ کتاب ہی ازبر ہو گئی، اس کے بعد کچھ میچور ہوئے تو راجہ انور کی کتاب ‘بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک’ ہاتھ لگی۔ سوچنے کا انداز بدلا۔ پہلی بار گردوپیش پر نظر ڈالی اور چیزوں کو نئے انداز سے دیکھنا شروع کیا، اپنے معروض کو سمجھنے کی کوشش کی۔ عمرو عیار کی زنبیل کی شعبدہ بازی سے لے کر بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک کی حقیقتوں تک رسائی کا سفر بھلے کئی سالوں پر محیط تھا مگر شاندار تھا۔ ستم یہ کہ اس سب کے باوجود عمروعیار کی زنبیل کا جادو کم نہیں ہوا۔

تاہم اس زنبیل سے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا، یہ سب جھوٹ ہے۔ مگر یہ جھوٹ نہیں تھا بلکہ یہی تو سچ تھا کیونکہ عمرو عیار کی زنبیل تو آج بھی موجود ہے۔ پاکستان کی سیاست کسی داستان ہوشربا سے کم تو نہیں ہے۔ اس داستان کے عمروعیار کی زنبیل کی طرح اس میں سے بھی کب، کس وقت اور کیا برامد ہو جائے کس کو خبر ہے۔

پاکستانی سیاست کی اس داستان ہوشربا میں سیاست کرنے والے عمرو عیار سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ اور آج کے ان عمرو عیاروں کے ہاتھوں میں جو زنبیل ہے اس میں ان کی اپنی ضرورت کی ہر چیز تو کہیں بھی کسی بھی وقت برآمد ہو سکتی ہے۔ اس جادوئی زنبیل میں ہر مسئلے کا حل ہے، ہر یوٹرن کا جواز ہے، ہر کی گئی کرپشن سے پاک دامنی کا سرٹیفکیٹ موجود ہے۔

یہاں کی سیاست پر زیادہ دور تک سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قریب کے چند سال پر غور کر لیں۔ پانامہ لیکس کے بعد ایک طوفان اٹھا اور اس کے بعد ملکی سیاست کا انداز ہی بدل گیا۔ عوام نے اطمینان کا سانس لیا کہ چلو کرپٹ پکڑے گئے مگر زنبیل سے لوٹی گئی رقم کی بجائے اقامہ برامد ہوا۔ نئے انتخابات ہوئے تو نئے پاکستان اور پرانے پاکستان کے حامیوں کے مابین گویا جنگ چھڑ گئی۔ بات نہیں بن رہی تھی اور بالآخر زنبیل سے نیا پاکستان نکالنا پڑا۔ پل بھر میں نصیب بدلے اور صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے۔ صد شکر کہ چلو کچھ تو بہتر ہوا۔

کچھ ہی مدت گزری تو محسوس ہوا کہ یہ تو وہی پرانے صبح و شام ہیں، مگر امیدیں جڑی رہیں اور آس نہیں ٹوٹی۔ سب کی نظریں زنبیل کی طرف تھیں کہ اس میں سے تمام مسائل کا حل نکلے گا۔ کیونکہ پریشان حال انسان کسی بچے سے کم نہیں ہوتا، وہ پریشانی میں حقائق سے نظریں چراتے ہوئے جادوئی انداز میں مسائل کا حل چاہتا ہے۔ ایسے میں زنبیل ہی واحد ایسی چیز ہے جہاں سے مسائل کا ممکنہ حل نکل سکتا ہے۔ سیاست کے عمرو عیار نے زنبیل میں ہاتھ ڈالا اور جب ہاتھ باہر نکالا تو پہلا حل یہ کہ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ اور تو اور زرعی ملک ہونے کے باوجود چینی اور آٹے کے نرخ بڑھ گئے۔

بادشاہ کے محل میں موجود ہر شخص کے کاندھے پر خالی زنبیل رکھی ہوئی ہے۔ کچھ کی زنبیل تو چینی کی خرید و فروخت کے دوران ہی بھر گئی اور وہ اپنی زنبیل اٹھا کر چلتے بنے۔ جبکہ باقی اس انتظار میں ہیں کہ کب موقع ملے کہ وہ اپنی زنبیل بھر سکیں۔ اس دوران محل سے باہر بھوکی ننگی جنتا جمع ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بھوکے پیٹ جادو سے نہیں روٹی سے بھرے جاتے ہیں اور زنبیل سے اراکین اسمبلی کی مراعات میں اضافہ سمیت سب کچھ نکل رہا ہے مگر بھوکی جنتا کے لیے روٹی نہیں نکل رہی۔ سستی دوائی اور ارزاں نرخوں پر بجلی، گیس اور پٹرول کی فراہمی کا حل نہیں نکل رہا۔

بادشاہ اور اس کے حواریوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دھوکہ اور فریب بھی بندہ اس وقت کھاتا ہے جب پیٹ بھرا ہو اور خالی پیٹ تو صرف روٹی ہی کھا سکتا ہے، مزید دھوکہ اور فریب نہیں کھا سکتا۔ مگر پھر بھی داستان ہوشربا کے بادشاہ کی ہمت قائم ہے اور ہر بار زنبیل سے کوئی نہ کوئی نئی چیز نکال ہی لیتا ہے اور لوگ کچھ دیر روٹی کو بھول کر اس تماشے میں لگ جاتے ہیں۔ اس بار زنبیل سے فارن فنڈنگ کیس اور براڈ شیٹ کا ایشو نکالا گیا ہے دیکھتے ہیں کہ کتنے دن اس کے سہارے گزر سکتے ہیں کتنی دیر مزید شعبدہ بازی کی جا سکتی ہے۔

سندھ ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جیت اور الیکشن کمیشن کے باہر پی ڈی ایم کے مظاہرے کے درمیان زنبیل سے حریم شاہ اور مفتی قوی کا تنازعہ نکالا گیا ہے۔ اس کی پس پردہ وجوہات جو بھی ہوں اب اگر زنبیل سے اس طرح کی چیزیں نکلنا شروع ہو گئی ہیں تو پھر لگتا ہے کہ داستان ہوشربا ختم ہونے کے قریب ہے اور اس کا مرکزی کردار عمرو عیار اپنی زنبیل سمیت موجودہ کہانی سے نکلنے والا ہے۔ مگر بے چارے عوام خاطر جمع رکھیں کہ اگلی کسی نئی کہانی میں عمرو عیار کا کردار بھلے تبدیل ہو جائے مگر زنبیل یہی رہے گی۔ اگر حقیقی تبدیلی چاہیے تو داستان ہوشربا کا داستان گو بدلو۔ اور کچھ نہیں تو حسن کوزہ گر کو بلا کر اس کی جہاں زاد کے قصے ہی سن لو تاکہ اس گھسی پٹی عمرو عیار کی کہانی سے تو جان چھوٹے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •